پاکستا ن اورروس مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر متفق

135
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف ملاقات کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)پاکستان اور روس مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر متفق ہوگئے۔ دونوں ممالک توانائی ، اقتصادی ، تجارتی، صنعتی جدت، ریلویز ، ہوابازی اور دفاعی تعاون کو فروغ دیں گے۔پاکستان کے 2 روزہ دورے پر آئے ہوئے روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے وزیراعظم عمران خان ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جس میں دو طرفہ تعلقات ،مقبوضہ کشمیراور افغان امن عمل سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔روسی وزیرخارجہ کو عمران خان نے مقبوضہ کشمیرکی صورت حال سے آگاہ کیا جب کہ روسی صدر ولادی میرپیوٹن کو دورہ پاکستان کی دعوت دے دی۔ دونوں ممالک کے درمیان وفود کے سطح پر بھی مذاکرات ہوئے جس میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہارکیا گیا۔ روسی وزیرخارجہ نے سیاسی وعسکری قیادت سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو بھی کی ۔پاکستانی ہم منصب شاہ محمود کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی صلاحیت کو مستحکم کرنے اور خصوصی فوجی آلات بھیجنے کے لیے تیار ہیں تاہم انہوں نے آلات کے حوالے سے وضاحت نہیں کی۔سرگئی لاوروف نے کہا کہ افغانستان میں سیکورٹی صورتحال خراب ہورہی ہے، سیاسی مذاکرات سے ہی افغانستان کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے، ہماری افریقا اور مشرق وسطیٰکی صورتحال پر بات ہوئی ہے یمن، لیبیا شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس سمجھتا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل میں براہ راست بات ہونی چاہیے،ہم نے ایشیا بحرالکاہل کی صورتحال پر بھی غور کیا ہے ۔روسی وزیرخارجہ کے بقول امریکا خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کررہا ہے، ہم نئی تقسیم لائنز کے واضح طور پر خلاف ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔سرگئی لاورف نے کہا کہ کورونا وائرس وبا کے باوجود پاکستان اورروس کے سیاسی تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں، باہمی تجارت 790 ملین ڈالرز کو پہنچ گئی ہے اور اس میں مزید اضافے کی ضرورت ہے،ہم نے توانائی کیشعبے میں تعاون پر بھی بات کی جس میں نارتھ ساوتھ گیس پائپ لائن اہم ہے،ہمارا 2015ء کا ایک معاہدہ ہے، اس پر مزید اتفاق رائے جیسے ہی ہوتا ہے ہم کام شروع کردیں گے۔ روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس نے ویکسین کی 50ہزارڈوز پاکستان کو فراہم کی ہیں،مزید ڈیڑھ لاکھ ڈوزفراہم کرکریں گے ,ہم کورونا ویکسین کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ہم نے 200 ملین ڈالرز سے زائد کی گندم پاکستان کو فراہم کی،ہم سمجھتے ہیں نارتھ ساوتھ گیس پائپ لائن کراچی سے لاہور کے درمیان کی تعمیر اہم ہے، انہوں نے کہا کہ گیسپروم جیسی روسی کمپنیاں پاکستان میں کام کرنے کی خواہاں ہیں، نیوکلیئرانرجی کے شعبوں میں بھی تعاون شروع ہوا ہے۔ سرگئی لاوروف نے بتایا کہ پاکستان سے ایڈیشنل جوائنٹ ملٹری مشقیں کرنے پر بھی معاہدہ ہو گیا ہے۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات نئی جہت اختیار کررہے ہیں اور نئی بلندیوں کی طرف جا رہے ہیں، روس کے ساتھ کثیر الجہتی مضبوط تعلقات استوار کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کلیدی ترجیح ہے۔