روس کیساتھ دفاع، انسداد دہشتگردی میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، شاہ محمود قریشی

106

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہناہےکہ روس سے گہرے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، دفاع اور انسداد دہشت گردی میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں جبکہ افغانستان میں امن کے لیے روس کا کردار خوش آئند ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں روسی ہم منصب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہناتھاکہ روس سے اعتماد اور دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہتے ہیں، روس سے گہرے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں جبکہ ماسکو میں ہونے والا اجلاس روس سے معاشی تعلقات بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں، روس سے دفاع اور انسداد دہشتگردی میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں جبکہ روسی ہم منصب کے دورے سے باہمی تعلقات میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے مصالحتی کردار ادا کر رہا ہے، افغانستان میں امن کے لیے روس کا کردار خوش آئند ہے، روسی ہم منصب کے ساتھ افغان معاملے پر بھی کئی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور انہیں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام سے متعلق پاکستانی موقف سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے جغرافیائی تعلقات ہیں، روس خطہ اور دنیا کا اہم ملک ہے، ہم اعتماد اور دوستی پر مشتمل تعلقات چاہتے ہیں اور دوطرفہ تعلقات خاص طور پر تجارتی و اقتصادی تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان صورتحال میں تعاون بڑھانے پر بھی بات ہوئی ہے، پاکستان کی طرف سے روسی وزیرخارجہ کو بھارت کے ساتھ بارڈرز کی صورتحال پر تشویش سے آگاہ کیا گیا ہے  جبکہ پاکستان اور روس نے دوطرفہ رابطے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

Image

انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، امید ہے سال رواں میں ہم ماسکو میں انٹرگورنمنٹ اجلاس بلائیں گے جس سے اقتصادی تعلقات بڑھانے میں مدد ملے گی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ نارتھ ساوتھ گیس پائپ لائن کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں دور کرچکے ہیں اور جلد اس پائپ لائن پر کام آگے بڑھے گا جبکہ پاکستان انرجی کی قلت کا شکار ہے اور ہم روسی تعاون سے فائدہ اٹھانا چاھتے ہیں ، تاہم  روس انسداد دہشت گردی کے لئے پاکستانی صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔

دوسری جانب روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا اس مشترکہ پریس کانفرنس میں کہناتھا کہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت 790 ملین ڈالرز کو پہنچ گئی اور اس میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، ہم سمجھتے ہیں باہمی تجارت میں مزید اضافے کی ضرورت ہے ، پاکستان سے اقتصادی تعلقات مزید بڑھائیں گے۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا مزید کہنا تھا کہ روس نے انرجی شعبے میں تعاون پر بھی بات کی جس میں نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن اہم ہے۔

Image

مہمان وزیرخارجہ کا کہنا تھاکہ دونوں ممالک کا2015 کا ایک ایگریمنٹ ہے، اس پر مزید اتفاق رائے جیسے ہی ہوتا ہے ہم کام شروع کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں، جیسے یو این میں پاکستان کا تعاون جاری رکھیں گے ،  پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا اہم رکن اور انسداد دہشت گردی سٹرکچر میں بہت فعال ہے۔ روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے دواران افریقہ اور مڈل ایسٹ کی صورتحال پر بات چیت بھی ہوئی جبکہ یمن، لیبیا، شام کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے کہا روس سمجھتا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل میں براہ راست بات چیت ہونی چاہئے، روس نئی تقسیم لائنز کے واضح طور پر خلاف ہے۔

قبل ازیں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف وفد کے ہمراہ وزارت خارجہ پہنچے جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان کا استقبال کیا اور دونوں وزرائے خارجہ کے مابین تہنیتی جملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ روسی وزیر خارجہ نے وزارت خارجہ کے سبزہ زار میں پائن کا پودا لگایا۔

Image

وزارت خارجہ میں پاکستان اور روس کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ روسی وفد کی قیادت روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں آپ کو اور آپ کے وفد کو وزارت خارجہ آمد پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں، کورونا عالمی وبا کے دوران روس میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس ہے تاہم جس جواں مردی کے ساتھ روس نے اس عالمی وبائی چیلنج کا سامنا کیا وہ قابل تحسین ہے، پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک روسی کورونا ویکسین “سپوٹنک 5 “سے مستفید ہو رہے ہیں  ۔

Image

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے مابین متواتر رابطہ، دوطرفہ تعلقات کے استحکام کا مظہر ہے جبکہ پاکستان نے اپنی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی معاشی ترجیحات میں تبدیل کیا ہے۔