حکومت اگر ڈلیور نہیں کرسکتی تو لوگوں سے معافی مانگے اور گھر چلی جائے، سراج الحق

165

لاہور:امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ عوام کے مسائل کا حل کبھی بھی حکمران طبقہ کی ترجیحات میں نہیں رہا، وزیراعظم نے آدھی مدت اقتدار جھوٹے وعدوں اور دعوؤں سے گزار لی، نہیں معلوم آنے والا وقت کیسے گزاریں گے۔ قوم حکمرانوں کی رام کہانیاں مزید سننے کو تیار نہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی نظم کے اجلاس سے خطاب اور مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اگر ڈلیور نہیں کر سکتی تو لوگوں سے معافی مانگے اور گھر چلی جائے، حکمران جان لیں کہ انٹر نیٹ اور ٹیکنالوجی کے دور میں لوگوں کو ماضی کی طرح بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا، ملک پر گزشتہ کئی دہائیوں سے قابض طبقہ بری طرح ایکسپوز ہوگیاہے،جماعت اسلامی مکمل فلاحی پروگرام کے ساتھ میدان عمل میں ہے،ہماری تحریک کا مقصد پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنا کر دنیا میں عظیم ملک بناناہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے خواتین و مرد ورکرز دین کا پیغام گھر گھر پہنچائیں،انسانیت کی کامیابی رجوع الی اللہ میں ہے،عوام کے سامنے حق واضح ہے ان سے اپیل کرتاہوں کہ سچے اور ایماندار لوگوں کو منتخب کریں اور پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے جماعت اسلامی کی جدوجہد کے ساتھ جڑ جائیں۔

سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک ایک مخصوص طبقہ ملک پر قابض ہے،ان کے حواری ہر شعبہ زندگی میں موجود ہیں جو محکمہ جاتی کرپشن کو پروان چڑھا رہے ہیں،ملک کے وسائل لوٹ رہے ہیں اور عوام کی زندگی کو اجیرن کیے ہوئے ہیں،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے غریبوں کے بچے سکولوں سے باہر اور عام آدمی کے لیے صحت کی سہولتیں ناپید ہوچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں پی ٹی آئی بلند و بانگ دعوے کر کے اقتدار میں آئی،وزیراعظم نے لوگوں کو کبھی مدینہ ریاست اور کبھی تبدیلی کے خواب دکھائے مگر آتے ہی وہ ہر میدان میں بری طرح ناکام ہوگئے،پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور دیگر اداروں سے قرض پہ قرض لیے،مہنگائی، بے روزگاری میں کئی گنا اضافہ کیا،کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے کشمیر کا کیس کمزور کیا اور داخلی طور پر بھی کسی شعبہ میں ریفارمز لانے میں مکمل ناکام رہی،انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی”سب کچھ بیچ دو“کی پالیسی سے مزید عدم استحکام آئے گا،اداروں کو بیچنے کا مقصد ملک کی خود مختاری کو عالمی طاقتوں کے ہاتھوں گروی رکھناہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک تک کی خود مختاری کا سودا کرنے والوں کو جان لینا چاہیے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں۔ جماعت اسلامی ملک بھر میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور آئی ایم ایف کی مکمل غلامی اختیار کرنے کے رویوں کے خلاف منظم تحریک چلائے گی۔ ”گو آئی ایم ایف گو“ تحریک کا مقصد ملک کو سودی معیشت سے نجات دلانا اور اسے ترقی کی شاہراہ پر ڈالناہے۔

سراج الحق نے کہاکہ رمضان المبارک سر پر ہے مگر بازار میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیاہے۔ ایک طرف کرونا لوگوں کی جانیں لے رہاہے تو دوسری طرف مہنگائی اور بے روزگاری کے عذاب کی وجہ سے لوگ فاقوں مر رہے ہیں۔ حالات کا تقاضا ہے کہ اس فرسودہ اور کرپٹ نظام سے چھٹکارے کے لیے ایک موثر اور مربوط تحریک کے ذریعے لوگوں کو منظم کیا جائے۔ جماعت اسلامی کے ملک کے طول و عرض میں موجود کارکنان اور سپورٹرز قرآن و سنت کا علم تھام کر لوگوں کو دعوت حق دیں اور انہیں ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کی پرامن تحریک میں شامل کریں۔

 انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ملک کی عدالتوں، بنکوں، تعلیمی اداروں میں قرآن کا نظام نافذ نہیں ہوتا، معیشت میں اسلامی رنگ غالب نہیں آتا، ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ دین کی سربلندی اور پاکستان کو عظیم بنانے کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کے ہمقدم بنیں۔