رواں سال پاکستان کی ترقی منفی اعشاریہ4اور مہنگائی کی شرح10فیصد سے زاید ہوگی، آئی ایم ایف

72

اسلام آباد ( اسٹاف رپورٹر )آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت سے متعلق ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی ہے۔جس میں کہا گیا کہ رواں سال پاکستان کی ترقی کی شرح منفی اعشاریہ4 رہنے کا امکان ہے، مہنگائی10فیصد سے زیادہ رہے گی۔ اسی طرح پاکستان میں بے روزگاری بڑھنے کا بھی خدشہ ہے،رواں سال پاکستان میں بے روزگاری کی شرح ساڑھے4 فیصد رہے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح8 اعشاریہ7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔2022 ء میں مہنگائی کی شرح8 فیصد رہے گی۔دوسری جانب پاکستان نے آئی ایم ایف سے ایک اور قسط وصول کر لی۔ پاکستان کو اس پروگرام کے تحت اب تک 2 ارب 45 کروڑ ڈالر موصول ہوگئے ہیں۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کر دی۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ ہفتے یہ قسط جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔مزید برآں سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت نے 13.25 فیصد شرح اور 165 روپے کا ڈالر کرکے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا۔بجلی، گیس، پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر طلب بیٹھ گئی، مہنگائی اوربے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوگیا، آئی ایم ایف کو بتانا چاہیے کورونا حالات میں عوام پر بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جس طرح 2019 میں آئی ایم ایف کے کہنے سے بھی زیادہ شرح سود بڑھائی اور زیادہ شرح سود پر قرضے کی ری پروفائلنگ کردی اس نے معیشت کی کمر توڑدی۔ اس سے 1500ارب سے زیادہ کا سالانہ سود کا بوجھ ڈال دیا۔یہ آنے والے سالوں میں بھگتنا پڑے گا۔