پی ڈی ایم کا اتحاد ٹوٹ گیا، اے این پی علیحدہ ہوگئی

116

اسلام آباد/پشاور(اسٹاف رپورٹر+آن لائن) حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اتحاد ٹوٹ گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔پشاور میں اے این پی کی مرکزی کونسل کا اجلاس مرکزی سینئر نائب صدرامیرحیدرہوتی کی زیرصدارت باچاخان مرکز میں ہوا جس میں میاں افتخار ، ایمل ولی ، شاہی سید ، بلوچستان کے صدر اصغر اچکزئی ، سینیٹر حاجی ہدایت نے شرکت کی۔پی ڈی ایم کی جانب سے اے این پی کو شوکاز نوٹس کے معاملے پر غور کیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نے مشاورت کے بعد شوکاز کے معاملے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی ایم سے راہیں جدا کرلیں۔امیر حیدر ہوتی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ معاملے پر پی پی اور ن لیگ کے 2 امیدوار آگئے، پی پی نے اعتراضات اٹھائے لیکن پی ڈی ایم نے اعتراضات دور نہیں کیے، ہم نے پی پی پی کے امیدوار کو ووٹ دیا، بجائے اختلافات دور کرنے کے ہمیں شوکاز دیا گیا، پی ڈی ایم کب سے سیاسی جماعت بن گئی؟ اے این پی کوشوکاز نوٹس دینے کا اختیار صرف اسفندیارولی خان کوہے، شوکاز سے اے این پی کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ان کا کہنا تھاکہ وضاحت چاہیے تھی تو پوچھ لیتے ہم وضاحت دے دیتے، کیا پنجاب میں پی ٹی آئی کاساتھ دینے کی وضاحت نہیں بنتی، کیا لاڑکانہ میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا اتحاد ہوا اس پروضاحت نہیں ہونی چاہیے، پی ڈی ایم میں 2 جماعتوں نے مل کر اے این پی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی، پی ڈی ایم کا طریقہ غلط تھا دو تین جماعتوں کا ذاتی ایجنڈا برداشت نہیں کر سکتے، پی ڈی ایم کو دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایسے میں ہم پی ڈی ایم کا ساتھ نہیں دے سکتے۔امیر حیدر ہوتی نے مزیدکہا کہ ہمیں پتا ہے شوکازنوٹس کیوں دیا گیا ہے، ہماری توقع یہ نہیں تھی کہ وہ ن لیگ اور جے یو آئی کی حیثیت سے قدم اٹھائیں گے، ان کوجو وضاحت چاہیے تھی وہ ہم دے چکے تھے اس کے باوجود شوکاز کا مقصد واضح ہے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس کا سخت جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع پیپلز پارٹی کے مطابق چیئرمین بلاول زرداری نے پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو سخت جواب دینے کی ہدایت کر دی ہے۔ شیری رحمن، راجا پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر، نیر بخاری سمیت دیگر شوکاز نوٹس کا جواب تیار کریں گے۔جواب تیار کرکے حتمی منظوری کے لیے سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول کو بھجوایا جائے گا۔ پیپلزپارٹی نے شوکاز نوٹس جاری ہونے کے فوری بعد مرکزی مجلس عاملہ (سی ای سی) کا اجلاس بھی طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پیپلز پارٹی شوکاز نوٹس کا جواب مصالحانہ کے بجائے جارحانہ انداز میں دے گی اور(ن)لیگ اور پی ڈی ایم کی پالیسی کو ہدف تنقید بنائے گی۔پیپلز پارٹی شوکاز نوٹس کے الزامات پر جلد پریس کانفرنس بھی کرے گی اور پی ڈی ایم کے اتحاد کو توڑنے کی کوششوں کا(ن)لیگ کو ذمے ٹھہرایا جائے گا۔