بھارت سے تجارت کرنے کا اعلان قابل مذمت ہے ، جاوید قصوری

97

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے حکومت کی جانب سے بھارت سے چینی ، کپاس اور دھاگہ درآمد کرنے کے اعلان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم سمجھنے سے قاصر ہے کہ ہمارے حکمران بھارت سے تجارت کرنے کے لیے کیوں مرے جارہے ہیں؟۔ بھارت سے تعلقات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو بحال کرتے ہوئے نہتے کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیںمل جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے قومی جذبات کو مجروح کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائیں مگر ان سب کا انجام قوم کے سامنے ہے۔ موجودہ حکمران بھی سابقین کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے۔ جس نے اول دن سے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ کل بھی بنگلا دیش بنانے میں گھنائونا کردار ادا کرچکا ہے اور وہ آج بھی بلوچستان میں سازشوں کا جال بچھا رہا ہے۔ اس سے خیر کی توقع رکھنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوںمیں وژن نام کی کوئی چیز نہیں۔ بھارت سے تجارت کا فیصلہ درحقیقت کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ قوم سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کرنے میں حکمرانوں کو کوئی ثانی نہیں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے۔ مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب بھارت سازشوں سے باز آئے گا۔ پاک بھارت وزراء اعظم کے مابین خیر سگالی پر مبنی خطوط کے تبادلے اور سلامتی کے تقاضوں کو یقینی بنانے کے لیے ناکافی ہے۔ ایک طرف بھارت کی تاریخ بھری پڑی ہے جب بھارت نے پاکستان کی پیٹھ پر وار کیے اور اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جب کہ دوسری جانب تحریک انصاف کی حکومت مقبوضہ کشمیر کو پلیٹ میں رکھ کر بھارت کے حوالے کردیا ہے۔