چین نے ہانگ کانگ کا متنازع انتخابی نظام منظورکرلیا

126
ہانگ کانگ: انتظامی سربراہ کیری لام اور دیگر رہنما انتخابی نظام میں اصلاحات کی دستاویز دکھا رہے ہیں

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کی پارلیمان میں اہم فیصلوں کے مجاز اعلیٰ ادارے نے اتفاق رائے سے ہانگ کانگ سے متعلق انتخابی اصلاحات کے متنازع نظام کی منظوری دے دی۔ خبررساں اداروں کے مطابق تمام 167 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ 1997ء میں ہانگ کانگ کے چین کے ماتحت آنے کے بعد سے اس خطے کے سیاسی نظام میں یہ اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ یہ اہم تبدیلی ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب چین اقتصادی لحاظ سے مضبوط ترین اس خطے پر اپنی گرفت اور مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے جن تبدیلیوں کو منظور کیا ہے، اس کے تحت ہانگ کانگ کی مقننہ کے لیے جو ارکان براہِ راست منتخب کیے جاتے تھے ان کی تعداد اب 35 کے بجائے 20 کر دی گی ہے، جب کہ اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 70 سے بڑھا کر 90 کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین کی کمیونسٹ پارٹی کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ عوام کے ذریعے منتخب ارکان سے زیادہ ارکان اسمبلی کو خود ہی نامزد کر سکتی ہے۔ اس سے ایوان میں عوام کے ہاتھوں منتخب ارکان کی تعداد کم ہو جائے گی۔ بیجنگ کو امید ہے کہ اس قانون کی مدد سے ہانگ کانگ میں ایک وطن پرست حکومت قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ انتخاب میں حصہ لینے کے لیے امیدواروں کو سب سے پہلے اپنے سیاسی نظریات کے بارے میں وضاحت کرنی ہوگی۔ اس کے لیے مقامی پولیس اور شہر کے نئے سیکورٹی سسٹم سے بھی رپورٹ طلب کرنے کی بات کہی گئی ہے، جس کی منظوری کے بعد ہی امیدوار کو انتخاب لڑنے کی اجازت ہوگی۔ اس کے تحت الیکشن کمیٹی کے ارکان کی تعداد بھی 300 کے بجائے 1500 تک کر دی جائے گی۔ الیکشن کمیٹی کے ارکان پر ہی ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو اور مجلس قانون ساز کے ارکان کو منتخب کرنے کی ذمے داری ہوتی ہے۔ انتخابات کے حوالے سے اس متنازع اصلاحی قانون کی ابھی تمام تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، جسے ہانگ کانگ کی اسمبلی میں منظور کیے جانے کے بجائے بیجنگ نے بذات خود متعارف کیا تھا۔ ان اقدامات کو ہانگ کانگ پر مکمل کنٹرول کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔