بھارت میں میانمر کے پناہ گزینوں کا بائیکاٹ کرنے کا حکم

135
میانمر: آمریت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک تیز کرتے ہوئے عوام نے سڑکوں پر کچرا پھیلا رکھا ہے

نئی دہلی/ نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر میں آمریت کے خلاف احتجاج کو کچلنے کے لیے جاری فوج کی سخت کارروائیوں سے بچنے کے لیے بہت سے شہری بھارت کی ریاست منی پور میں پناہ کے لیے پہنچے ہیں، تاہم منی پور کی ریاستی حکومت نے اپنے سرحدی اضلاع کے حکام کو ہدایت نامہ جاری کیا ہے کہ میانمر سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے کسی بھی طرح کے کیمپوں کا اہتمام کیا جائے نہ انہیں کھانے کی اشیا اور رہایش کے لیے دیگر سہولیات مہیا کی جائیں۔ منی پور کی سرحد بھی میانمر سے ملتی ہے، جہاں گزشتہ کئی روز کے دوران میانمر سے جان بچا کر بہت سے لوگ پناہ کے لیے پہنچے ہیں۔ تاہم حکومت نے حکام کو اس دراندازی پر قابو پانے کا حکم دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست منی پور پہنچنے والوں میں میانمر کی پارلیمان کے بعض رکن بھی ہیں، جو فوج کے خوف سے فرار ہو کر آئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ اگر کوئی پناہ گزیں بہت زیادہ زخمی ہو تو اس صورت میں انسانی بنیادوں پر اسے صرف طبی مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ تاہم حکام کو اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ کوئی بھی شخص سرحد عبور نہ کر سکے۔ دوسری جانب میانمر میں فوجی بغاوت کے خلاف جمہوریت پسندوں نے احتجاج کا نیا طریقہ اپناتے ہوئے کچرا ہڑتال شروع کردی۔ منگل کے روز ملک کے مرکزی شہر ینگون کی گلیوں میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے۔ میانمر میں یکم فروری سے فوجی بغاوت کے خلاف جمہوریت پسندوں کا احتجاج جاری ہے، جب کہ سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 500 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ فوجی بغاوت کے خلاف اس احتجاج میں ایک نئی حکمت عملی اپناتے ہوئے مظاہرین نے سول نافرمانی کی تحریک تیز کرنے کی کوشش کی ہے۔ مظاہرین نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سڑکوں اور چوراہوں پر کچرا رکھیں۔ سوشل میڈیا پر زیرگردش ایک پوسٹر پر تحریر ہے کہ یہ کچرے کی ہڑتال فوج کے خلاف ایک اقدام ہے۔