موزمبیق: تشدد کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی

130
موزمبیق: شورش زدہ علاقے میں نذرآتش کیے گئے مکان کے باہر فوجی اہل کار موجود ہے‘ نقل مکانی کرنے والے شہری پناہ گاہ کے باہر بیٹھے ہیں

ماپوتو (انٹرنیشنل ڈیسک) افریقی ملک موزمبیق کے شمالی قصبے پالما میں شدید خوف کا عالم ہے اور کئی روز سے جاری خونریز واقعات اور دہشت گرد تنظیم داعش کے کئی علاقوں پر قبضوں کے بعد مقامی افراد جان بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے پالما پر داعش کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر متاثرین کی مدد کی جا رہی ہے۔ عالمی ادارے کے ترجمان اسٹیفن جارک نے کہا کہ ہم پالما میں اب بھی بگڑتی ہوئی صورت حال پر بے حد فکرمند ہیں، جہاں 24 مارچ سے جاری پرتشدد واقعات اور مسلح حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا ہم نے دہشت گردوں، پرتشدد دہشت گردی اور داعش کو شکست دینے کے لیے موزمبیق کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ عسکریت پسندوں نے بدھ کے روز پالما قصبے پر حملہ کردیا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم حملہ تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے جب کہ بڑی تعداد میں لوگ تاحال لاپتا ہیں۔ واضح رہے کہ داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسٹریٹیجک لحاظ سے اہمیت کے حامل قصبے پالما پر قبضہ کرلیا ہے اور اس کارروائی کا مقصد فوجی اور حکومتی اہداف کو نشانہ بناتھا۔