ڈینیل پرل قتل کیس: استغاثۃ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا، تفصیلی فیصلہ جاری

444

اسلام آباد: امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس میں احمد عمر شیخ کیخلاف اغوا اور قتل کی سازش کا الزام ثابت نہیں ہوسکا، استغاثہ ڈینیئل پرل کا قتل شواہد کیساتھ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا

سپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، 95 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں عدالت عظمی نے قرار دیا ہے کہ امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس میں احمد عمر شیخ کیخلاف اغوا اور قتل کی سازش کا الزام ثابت نہیں ہوسکا، استغاثہ ڈینیئل پرل کا قتل شواہد کیساتھ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا۔

استغاثہ نے پولیس اہلکار کو ٹیکسی ڈرائیور بنا کر پیش کیا، گواہ بنائے گئے ٹیکسی ڈرائیور کو مقتول کی شناخت کیلئے تصویر نہیں دکھائی گی،استغاثہ کی تمام کہانی شکوک وشبہات سے بھری پڑی ہے،ڈینیئل پرل کی اہلیہ نے قتل کی دھمکیوں پر مبنی ای میلز کو چھپائے رکھا،شوہر کی جان خطرے میں تھی اور ڈینئل پرل کی اہلیہ 12 دن تک خاموش رہی،نہ ایف آئی آر میں ای میلز کا ذکر ہے اور نہ ہی ڈینیئل پرل کی اہلیہ شامل تفتیش ہوئیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ قتل کی پیشکردہ ویڈیو میں بھی ملزمان کی شناخت نہیں ہوسکی،قتل کی اصل ویڈیو کو پولیس سے جان بوجھ کر چھپایا گیا،اصل ویڈیو کلپ مل جاتا تو اس کا فرانزک کرایا جا سکتا تھا،فرانزک کے بغیر کسی ویڈیو ثبوت پر انحصار نہیں کیا جا سکتا،ڈینیئل پرل کے اہلخانہ کی وجہ سے بھی تفتیش میں کئی خامیاں سامنے آئیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہتھکڑی لگا ملزم اعتراف جرم کرے بھی تو اسکی کوئی حیثیت نہیں،عدالتوں کا کام تفتیش میں سامنے آنے والے نقائص کو دور کرنا نہیں۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ دیا ہے ،تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس یحیی آفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔