تلاشنا ہے اْسی وطن کو!

274

“جو قوم خواب نہیں دیکھتی،اس کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔”۔۔مشہورترک سپہ سالارارطغرل غازی کے اس جملے میں بڑاپیغام پنہاں ہے۔حقیقت یہی ہے کہ خواب دیکھنا،اپنے مستقبل کو روشن دیکھنے کی چاہ پیداکرتے ہوئے اسے پانے کی جستجوکرنا،اپنے لیے منزل کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے حصول کے لیے کوشاں رہنا زندہ دل لوگوں کی پہچان ہے۔
خواب سے متعلق یہ بات بھی زبان زدعام ہے کہ “حقیقی خواب وہی ہوتے ہیں جوجاگتی آنکھوں سے دیکھے جائیں”۔
اٹھو یہ منظرشب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
اوراگرخواب کی خوبی یہ ہو کہ وہ عظمت کی بلندیوں کو چھونے والا ہو جیسے کہ راحت اندوری صاحب نے لکھا:
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیندرکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو!
توپھر ایسے خواب کی تکمیل کے تمام مراحل انسان کو لطف دیتے ہوئے منزل سے ہم کنارکرتے ہیں۔آج سے قریباً نوّے سال قبل مفکرِ پاکستان علامہ اقبال نے بھی ایسا ہی ایک خواب دیکھا۔۔دراصل وہ اک پاک دھرتی کے حصول کاخواب تھا۔۔ایک ایسی ریاست کو حاصل کرنے کا خواب کہ جہاں مسلمانانِ برِّصغیرکے دین وایمان کاتحفظ ممکن ہوسکے۔
دیکھا تھا جو اقبال نے اک خواب سہانا
اس خواب کو اک روزحقیقت ہے بنانا
پھر اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے والی عظیم قائد”محمدعلی جناح “نے شب وروز کی اَن تھک محنت،سعی،جدوجہدکا سفرطے کرتے ہوئے مارچ 1940ء میں منٹوپارک لاہور میں قراردادِ پاکستان کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کو ضروری قراردیا۔
اسی جگہ اسی دن توہواتھا یہ اعلان
اندھیرے ہارگئے زندہ باد”پاکستان”
یہ قراردادتحریکِ پاکستان کی جدوجہدمیں تیزی کا باعث بنی۔پھر یہ قافلہ اپنی منزل کی جانب تیزی سے بڑھتارہا،شب وروز ہندوستان کی گلیوں میں “بٹ کے رہے گا ہندوستان۔۔بن کے رہے گا پاکستان” کے نعروں کی گونج تیزتر ہوتی چلی گئی۔۔
یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردشِ گردوں
کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے!
پھر بالآخر یہ جدوجہد رنگ لائی اورہندوستان کے مسلمانوں نے آزادی کاسورج طلوع ہوتے دیکھا۔۔
اصل بات یہ نہیں ہے کہ یہ وطن کب اورکیسے آزاد ہوا؟ موضوعِ بحث یہ ہے کہ یہ پاک دھرتی کیوں اورکس مقصد کے لیے حاصل کی گئی؟تواس کا جواب خود قائداعظم نے ۱۲ نومبر ۵۴۹۱ء کو اپنے ایک خطاب میں دیا:”مسلمان پاکستان کامطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ خود اپنے ضابطہ حیات،اپنے تہذیبی ارتقاء،اپنی روایات اوراسلامی قانون کے مطابق حکمرانی کرسکیں۔ ہمارادین،ہماری تہذیب اورہمارے اسلامی تصورات وہ اصل طاقت ہیں جو ہمیں آزادی حاصل کرنے کے لیے متحرک کرتے ہیں۔”
اورمقصدِحصولِ وطن بزبان شاعر یہ ٹھیرا:
یہ پاک دھرتی وطن ہمارا،نفاذِاسلام کے لییہے
لبوں پہ یہ لاالٰہ کانعرہ،نفاذِ اسلام کے لیے ہے!
ریاستِ مدینہ کے بعدپاکستان وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پرحاصل کیا گیا۔لیکن افسوس ۴۷ سال گزرنے کے باوجود پاکستان اپنے حقیقی مقصدسے بہت دورنظرآتاہے۔یہ بات یادرہنی چاہیے کہ جو قومیں اپنے مقصدِ وجود کوبھلادیتی ہے ان کامستقبل تاریک سے تاریک ترہوتاچلاجاتاہے۔۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دھرتی کے ساتھ ازسرِ نوعہدِ وفا کرناہوگا ،یہ وعدہ کرناہوگا کہ اسے اقبال کے حقیقی تصورکے مطابق مستحکم اورعالی شان اسلامی پاکستان بنائیں گے،اسے قائد کے نظریہ پاکستان کے عین مطابق اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔یقیناً پھر ۰۴۹۱ء کو منٹو پارک لاہور میں موجود مسلمانانِ برِّصغیر کی قربانیاں حقیقی معنوں میں رنگ لائیں گی۔۔ان کے خواب کو حقیقی تعبیر ملے گی۔۔
ہم عہدکرتے ہیں:
وطن کے جاں نثا رہیں،وطن کے کام آئیں گے
ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے
خداکے دین کانظام پھریہاں پہ لائیں گے
پھراسوہ رسول سے یہ شہر جگمگائیں گے
رب کی اس نعمتِ عظیمہ(وطن) کا شکرصرف اورصرف اس طوراداہوسکتاہے کہ یہاں اسلامی نظام قائم کیاجائے۔۔جب لوگ اس کے لیے کوشاں ہوں گے،تورب ان کے ہاتھ تھامتے ہوئے انھیں منزل سے ہم کنار کرے گا۔
تلاشناہے اْسی وطن کو
اساس تھی لاالٰہ جس کی
حصول جس کاتھا دیں کی خاطر
تھی انتہا لاالٰہ جس کی