تیرا ہی نام فقط ہے اک سلسلہء عہدِ وفا

167

پہلی گول میز کانفرنس اور پھر دوسری اور تیسری منعقدہ 1930 تا 1932 کے نتائج کچھ اتنے حوصلہ افزا نہ تھے۔ مسلم جدو جہد آزادی کی چنگاری تو تب سے ہی اندر ہی اندر سلگنے لگی تھی کے جب سے سر سید احمد خان کی سائنٹیفک سوسائٹی کے ہندو ارکان نے ہندی کو اردو کی جگہ دوسری دفتری زبان بنانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب سر سید احمد خان دو قومی نظریے کے شدید حامی ہو گئے تھے۔ چودھری رحمت علی ایک روشن دماغ اور روشن ضمیر مسلم نوجوان اپنے کچھ رفقاء کے ساتھ گول میز کانفرنسوں کی کاروائی دیکھنے وہاں لندن میں موجود تھے۔ براہ راست اس کاروائی کا حصہ نہ تھے لیکن انگریز کے منعقد کردہ یہ خصوصی مواقع انہوں نے ہاتھ سے جانے نہ دیے تاکہ برصغیر کے منتشر مسلمانوں کے حال اور ستقبل کے بارے میں انگریز جو بھی فیصلہ کرے وہ اُن کی نگاہِ شہباز میں ہو اور بروقت اس پرلائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔ یہ چودھری رحمت علی کی اعلیٰ قوّت بصارت اور سیاسی بصیرت ہی تھی کے انہوں نے اپنے رفقاء کے ساتھ مل کے ایک کتابچہ ” ابھی یاکبھی نہیں (Now or Never) ’’کے عنوان سے شائع کیا جس میں مکمل طور پر آزاد مسلم ریاست کا منظرنامہ پیش کیا گیا۔ بظاہر تو یہ ایک دیوانے نوجوان کا کبھی نہ پورا ہونے والا خواب نظر آتا تھا جسے کسی بھی ذی شعور مسلم لیگی رہنما نے قابلِ داد نہ سمجھا۔ حتیٰ کہ جناح نے بھی اسے قبل از وقت یعنی ایک نا پُختہ نوجوان کا خیال ہی قرار دیا۔ کیا معلوم تھا بظاھر نظر آنے والا یہی نا پُختہ خیال دراصل تحریکِ آزادی مسلمانانِ ہند کو وہ مضبوط بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گا جسے علامہ محمد اقبالؒ نے الہ اباد اجلاس1930میں اپنے صدارتی بیان میں اس طائرِ لاہوتی کی مانند غلامانہ مسلم سوچ کے پنجرے سے آزاد کر دیا تھا کہ جس کی بدولت چودھری رحمت علی جیسے نوجوان اس طرز پرسوچنے کے قابل ہو سکے۔ وہ اقبالؒ کے عقابی نگاہ ایسے ہی نگاہ بلند نوجوان تھے جنہیں لفظِ ’’پاکستان‘‘ ایک الہامی عنوان کی مانند گھڑا گھڑایا اپنے تخیّل کی دہلیز ٹاپتا ہوا ،ایک ان دیکھی حقیقت کے مینارے چڑھتا ہوا اُن کے ضمیر کی صاف شفاف سطح پرکندہ نظر آیا۔
پورے آٹھ برس بعد یہی عنوان محض افسانے کی سی حیثیت سے حقیقت بن چکا تھا کے 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں ہونے والے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اسے قراردادِ لاہور کے نام سے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا تھا۔ وزیرِ اعلیٰ بنگال مولوی فضل الحق نے مسلمانانِ برِ صغیر کے لیے ایک مکمل طور پر آزاد مسلم ریاست کا مطالبہ کر دیا، اور یہ مطالبہ تمام مسلمانانِ ہند کا دیرینہ مطالبہ بن گیا تھا۔ محمد علی جناحؒ نے اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقبالؒ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ اُس موقع پر موجود ہوتے تو اس قرارداد کی شکل میں کاروانِ مسلمانانِ برِ صغیر کو آگے بڑھتے دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ بیشک اس قرارداد کو ہندو اخبارات نے قراردادِ پاکستان کا نام دیا کہ وہ جانتے تھے کہ ہاں اب یہ کارواں ایک لمحے کا توقف کیے بغیر آگے ہی بڑھنا چاہتا تھا، آزادی سے کم کسی چیز پرراضی ہی نہ تھا۔ پھر 1945-47 کے الیکشن کے نتائج مسلمانوں کے حق میں نہایت مؤثر نکلے۔ جناح نے راہ آزادی پے چلنے والے اپنے کفن پوش ساتھیوں کی ساتھ سر دھڑ کی بازی جو لگا دی تھی۔ پھر اس کے بعد انگریز سرکار اور نہ ہی کانگریسی فتنہ پرور رہنما جناح کی پُختہ ارادگی کے سامنے ٹھیر سکے۔ کابینہ مشن منصوبہ ہو یا 3 جون منصوبہ اور یا ریڈکلف ایوارڈ، پھر یہ سب قدم بقدم اس تحریکِ آزادی کو مسلم نشانِ منزِل ’’پاکستان‘‘ ہی کی طرف دھکیلتے دکھائی دیتے ہیں۔
13 اور 14 اگست کی درمیانی شب 27 رمضان المبارک کو تخلیق پاکستان کا اعلان ہو جاتا ہے۔ مسلمانانِ ہند اس خوبصورت تصور کو یقین کی انتہا تک ساتھ لیے پاکستان کی طرف بڑھنے لگتے ہیں، بالکل اس طرح کے شاید جس طرح یومِ حشر پے رب کی طرف سے بخش دیے گئے افراد اللہ کی بنائی گئی جنت میں داخل ہوں گے۔ ہاں یہی تو تصور کی انتہا تھی اُس وقت کہ پاکستان ہجرت کرنے والے افراد اسے یقیناً جنت الفردوس سے کسی طرح بھی کمتر نہ سمجھتے تھے۔ پھر وہ کٹھن گھڑیاں بھی گزر گئیں جب لٹے پٹے لوگ دس ملین اپنوں کے خون کی ندیاں عبور کرکے دہلیزِ وطن پار کر چکے تھے۔ محمد علی جناح مہاجر کیمپوں کا دورہ کرتے تو ان کی حالتِ زار دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتے۔ راتوں کو انہیں دیکھنے جاتے تو دکھوں سے تار تار اُن کے جسموں کو چادروں سے ڈھانپ دیتے۔ جناحؒ کا دل بھی انہیں کی طرح لہو لہان تھا جس نے اپنی زندگی کے تمام غم اور خوشیاں محض انہیں کی آزادی کے عوض دان دے ڈالے تھے۔ جناح کا سینہ بھی دکھوں کی بھٹی ہی تو تھا کہ ٹی بی جیسے مرض نے اُنہیں آن لیا۔ دن رات یہ جتن کہ پاکستان قائم رہے دائم رہے بیشک میں نہ رہوں، جناح کی یہی تو زندگی تھی اور یہی حاصلِ زندگی۔
ہاں پھر دشمنانِ وطن ششدر رہ گئے کہ پاکستان نہ صرف تخلیق ہوا بلکہ شان کے ساتھ محو سفر بھی۔ سالارِ کارواں محمد علی جناحؒ نے پورے ایک برس اس کارواں کی ناقابلِ یقین اعلیٰ قیادت کی اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے وہ کر دکھایا جس کی مثال مدینہ طیبہ کی ریاست کے قیام سے عین مماثلت رکھتی ہے۔ پھر سالارِ کارواں جو رخصت ہوئے تو سامان سکون و اطمینان بھی چلتا بنا۔ یکے بعد دیگرے نت نئے فتنوں نے وطن عزیز کی لگامیں تھام لیں۔ رنگ برنگی شعبدہ بازیوں نے جنت کے متلاشی مکینوں کی نگاہیں اور شوقِ عمل کو جیسے پابندِ سلاسل کر دیا۔ ہر نیا دور اُمیدوں کی مشعلوں کے سائے میں شروع تو ہوا لیکن مایوسیوں کے گہرے دھندلکوں کے سپرد ہوتا رہا۔ مایوسیوں کے گہرے بادلوں نے اگرچہ پوری طرح چھا جانے کی بیحد کوشش کی لیکن نجانے کیوں اُن دس ملین شہداء کا لہو ابھی تک اتنا گرم اور تخم تاثیر کی مانند ہے کہ اس دھرتی میں بیشمار حیا اور ایمان کے لاشے مدفون کیے جانے کے باوجود جنون امن و بقا کے دبے بیج پھر سے تازہ ہو کر نئے خوبصورت پھولدار پودوں کی طرح اُگے چلے جاتے ہیں۔ وہ سلسلہ عہدِ وفا بڑھائے چلے جاتے ہیں جو نجانے کتنے برسوں سے صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبورت متاعِ حیات’عشقِ رسول ‘سے منسلک ہے۔
موجودہ دورِ فتن میں پرورش پانے والا اک نیا فِتنہ یہ بھی ہے کہ اُن قیمتی قربانیوں کو ہی بھلا دیا جائے جن کا شعور ہمارے لیے بہترین زادراہ اور قوتِ سفر پہنچنانے کا بہتریں محرک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معماران قوم اقبالؒ و جناحؒ کی یادوں کو بھی دھندلا دیا جائے کہ قوم نشانِ منزل اور راہِ منزل ہی کھو بیٹھے۔ آئیے بحیثیت قوم سب ایک ہو کر، صرف قرآن و حدیث کے الہامی اصولوں پے نیک ہوکر، منافرت و منافقت کے قید خانوں سے آزاد ہو کر، اور محض ایک ہی رب کے آگے فریاد بن کر اس وطنِ عزیز کو ایسی ہی جنت بننے کی سعی کریں کہ جس حسین تخیّل کے ساتھ ہمارے آباء نے 1947 میں وطنِ عزیز کی دہلیز پہ قدم رکھا تھا۔