مینارِ پاکستان تاریخ کے آئینے میں

176

مینار پاکستان لاہور، پاکستان کی ایک قومی عمارت/یادگار ہے جسے پنجاب کے دل لاہور میں عین اسی جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں 23 مارچ 1940ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں تاریخی ’’قرارداد پاکستان‘‘ منظور ہوئی۔ اس کو’’ یادگار پاکستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس جگہ کو اس وقت منٹو پارک کہتے تھے جو سلطنت برطانیہ کا حصہ تھی۔ آج کل اس پارک کو ’’اقبال پارک‘‘ کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔
سفارشاتی کمیٹی
اس کی تعمیر کے سلسلے میں 1960ء میں اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اور اسی کمیٹی کی منظور شدہ سفارشات اور ڈیزائن پر اس مینار کی تشکیل ہوئی تھی۔ مختار مسعود بھی اس کمیٹی کے سرکردہ رکن تھے ۔
تعمیر
اس کا ڈیزائن ترک ماہر تعمیرات نصر الدین مرات خان نے تیار کیا۔ تعمیر کا کام میاں عبدالخالق اینڈ کمپنی نے 23 مارچ 1960ء میں شروع کیا۔ اور 21 اکتوبر 1968ء میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر کی کل لاگت 75 لاکھ روپے تھی۔
مینار کا ڈھانچہ
یہ 18 ایکڑ رقبے پر محیط ہے ۔ مینار کا نچلا حصہ پھول کی پتیوں سے مشابہت رکھتا ہے ۔ اس کی سنگ مرمر کی دیواروں پر قرآن کی آیات، محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے اقوال اور پاکستان کی آزادی کی مختصر تاریخ کندہ ہے ۔ اس کے علاوہ قرارداد پاکستان کا مکمل متن بھی اردو اور بنگالی دونوں زبانوں میں اس کی دیواروں پر کندہ کیا گیا ہے ۔یہ تمام خطاطی حافظ محمد یوسف سدیدی، صوفی خورشید عالم خورشید رقم، محمد صدیق الماس رقم، ابن پروین رقم اور محمد اقبال کے فنِ خطاطی کے عمدہ نمونے ہیں۔
حیرت انگیز معلومات
قیام پاکستان سے پہلے دو مرتبہ حکومت برطانیہ نے منصوبہ بنایا کہ منٹو پارک میں شاہ جارج پنجم کا مجسمہ نصب کیا جائے اور اسے ایک سیر گاہ بنایا جائے لیکن دونوں مرتبہ عالمی جنگوں کی وجہ سے یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا کیونکہ قدرت نے یہاں پاکستان کی بنیاد رکھنی تھی۔
ترک نژاد نصرالدین مرات خان راسخ العقیدہ مسلمان تھے ۔ روس میں انہوں نے سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر کے تعمیراتی مصروفیات کے ساتھ روسی مسلمانوں کے لیے فلاحی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں جس پر روسی سامراج نے انہیں قید و بند کی صعوبتوں سے بھی گزارا۔ آخر وہ روس سے جرمنی منتقل ہو گئے وہاں انہیں قیام پاکستان کے پس منظر کا پتہ چلا تو وہ بہت متاثر ہوئے اور 1950ء میں پاکستان آ کر رہائش اختیار کر لی،اور مینار کا ڈیزائن تیار کیا، 15اکتوبر 1970ء کو نصرالدین مرات لاہور میں ہی انتقال کرگئے۔ مینار پاکستان کی تعمیر میں مالی مشکلات کے پیش نظر نصرالدین مرات خان نے اپنی فیس جو کہ ڈھائی لاکھ روپے سے زائد بنتی تھی وہ بھی نہ لی اور فیس کے خانے میں یہ تاریخی جملہ لکھا۔ ”A HUMBLE DONATION TO THE NATION”
یہی نہیں انہوں نے اپنے عملے کو تنخواہیں بھی اپنی جیب سے ادا کیں اور یوں دو تین لاکھ روپے مزید اپنی طرف سے خرچ کئے ۔ ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ’’تمغہ امتیاز‘‘ سے نوازا۔
مینار کی تعمیر میں استعمال ہونے والا میٹریل پاکستانی ہے ۔ سنگ مرمر ہزارہ ڈویژن اور سوات سے منگوایا گیا تھا۔ مینار کی بلندی 196 فٹ ہے ۔ جو 180 فٹ تک لوہے اور کنکریٹ سے بنا ہے اس سے اوپر کا حصہ اسٹیل کا ہے ۔ اس کی پانچ گیلریاں اور بیس منزلیں ہیں۔ پہلی گیلری تیس فٹ اونچائی پر ہے ۔ مینار پر چڑھنے کے لیے 334 سیڑھیاں ہیں۔ جبکہ لفٹ کی سہولت بھی موجود ہے ۔
مینار کے آخر پر چمکنے والا گنبد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان عالم اسلام میں خوب روشن مقام رکھتا ہے ۔ صدر دروازے پر ’’مینار پاکستان‘‘ اور ’’اللہ اکبر‘‘ کی تختیاں آویزاں ہیں۔مینار پاکستان کے احاطے میں پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا مزار بھی ہے ۔ مینار کے اردگرد خوبصورت سبزہ زار اور راہداریاں ہیں۔ شاید یہ دنیا کا واحد مینار ہے جو کسی قرارداد کی یاد کے طور پر تعمیر کیا گیا ہو۔
مینار پاکستان اور ملحقہ پارک کی دیکھ بھال 1982ء میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے )کے سپرد کر دی گئی۔ 2018میںاقبال پارک کو گریٹر اقبال پارک کا نام دیا گیا ہے ۔ اور تھیم پارک کی حیثیت دی گئی ہے ۔ اس میں لائبریری، اوپن ایئر جمنیزیم، بگھی ٹریک اور آٹھ سو فٹ طویل میوزیکل اینڈ ڈانسنگ فاؤنٹین یعنی فوارے نصب کئے گئے ہیں۔ اس کی آرائش و زیبائش میں اضافہ کیا گیا ہے یوں سیاحوں کی دلچسپی بھی اس میں بڑھ گئی ہے ۔