وفاقی کابینہ نے 7.8 ارب کے رمضان پیکج کی منظوری دیدی

290

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے رمضان المبارک کے لئے 7.8 ارب روپے کے پیکج  اور افغان پناہ گزینوں کو دو سال کے لیے اسمارٹ کارڈ جاری کرنے کی منظوری دے دی، وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر 19ضروری اشیاء  پر سبسڈی دی جائے گی۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے 7.8 ارب روپے کے رمضان پیکج کی منظوری دی ہے، وزیر اعظم کا سب سے زیادہ وقت مہنگائی کو نیچے لانے پر صرف ہوتا ہے، ہمیں اتنی تباہ معیشت ملی تھی کہ تمام کوششوں کے باوجود قرضوں کے بوجھ سے نمٹنا آسان نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم کی پوری کوشش ہے کہ مہنگائی کا بوجھ لوگوں پر کم سے کم پڑے اور 7.8 ارب روپے کا پیکج اسی کوشش کا حصہ ہے،

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ غریب طبقے پر رمضان میں بوجھ نہیں پڑنا چاہیے، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خسارے والے اداروں کا فارنزک آڈٹ کرایا جائے، دس بڑے ادارے خسارے میں ہیں ان کا فارنزک آڈٹ کروایا جائے گا، یوٹیلیٹی اسٹورز اس سال کے آخر تک خسارے سے باہر آجائے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا، پاکستان نے پچھلی دو لہروں کا مقابلہ کیا، دوسرے ملکوں کی نسبت کم جانی نقصان ہوا تھا، اگر ہم نے تیسری لہر کا مقابلہ کرنا ہے تو پچھلی پالیسی پر ہی رہنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس میں الیکشن کی شفافیت پر بات کی،تحریک انصاف کی سیاست احتساب اور الیکشن کی شفافیت پر مبنی ہے، شفاف انتخابات کے لیے وزیر اعظم کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ہم ایسی اصلاحات متعارف کراسکیں جس کی بدولت شفاف الیکشن ممکن بنایا جا سکے۔

الیکٹرانک مشینوں پر وزیراعظم نے کہا کہ ہر ہفتے اپڈیٹ دی جائے گی،وزیراعظم نے کہا کہ جلد سے جلد الیکشن کا سسٹم مشین پر لانا ہے ۔شفاف انتخابات کے لیے حکومتی ٹیم کام کررہی ہے،

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صنعت وپیداوار حماد اظہر نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے یوٹیلیٹی اسٹورز پر رمضان پیکج کی منظوری دی ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے 7.8 ارب روپے کا رمضان پیکج منظور کیا  گیا ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز پر 19 ضروری اشیاء پر سبسڈی دی جائے گی، معیشت درست سمت میں جارہی ہے ڈالر کی قیمت بھی نیچے آئی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر جولائی سے جنوری تک کے عرصے میں 7.8فیصد شرح نمو نظر آئی ہے اور ہماری صنعت مکمل استعداد کے ساتھ کام کرنے کے قریب جا رہی ہے، معیشت صحیح رخ پر جا رہی ہے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گیا، ڈالر پیچھے کی طرف آیا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں جو پچھلی حکومت نے تقریبا ختم کر دیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایکسپورٹ کی نئی راہیں کھلتی نظر آ رہی ہیں جس سے روزگار بھی پیدا ہو گا، معیشت کا پہیہ بھی چلے گا اور ملک کی پیداوار بھی بڑھے گی۔