ملک میں پارلیمان کا نظام مفلوج ہوچکا: شاہد خاقان

155

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ملک میں پارلیمان کا نظام مفلوجہوچکا،  اسپیکر کو ہاؤس چلانے کا علم نہیں، اپوزیشن کو دھمکیاں اور گالیاں دیں گئیں اسپیکر صاحب خاموش رہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جوشخص ایوان میں موجود نہ ہو اس کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے۔ دنیا کے پارلیمان کا اصول ہے، جو آدمی ایوان میں نہ ہو اس کی بات نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک آئین اورقانون کے راستے پر واپس نہیں آئیں گے ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ ملک میں اخلاقیات کی پرواہ ختم ہوچکی ہے۔اسپیکر کو ہاؤس چلانے کا علم نہیں۔ اسپیکر کو اخلاقی قدروں کا علم نہیں۔

شاہد خاقان نے کہا کہ جو 6 مارچ کو پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا وہ سب نے دیکھا۔ اپوزیشن کو دھمکیاں اور گالیاں دیں گئیں اسپیکر صاحب خاموش رہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کل پی ڈی ایم اجلاس میں بات ہوئی کہ کس طرح ملک کو راہ راست پرلایا جائے۔ اس حکومت کی حیثیت کیا ہے پورا پاکستان جانتا ہے۔ آج ملک کا وزیر اعظم وہ شخص ہے جس کا اپنا وزیر خزانہ اپنے ایم این ایز کے ہاتھوں شکست کھاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تو ہارس ٹریڈنگ کر چکی ہے۔ 70کروڑ بلوچستان میں کس نے دیے؟ 50،50 کروڑ فنڈ کا وعدہ سیاسی رشوت نہیں تو کیا ہے۔ وزیراعظم نے ایک ایک ایم این اے کو بلاکر فنڈز دیے۔ یوسف رضا گیلانی کے الیکشن سے پہلے بھی ارکان کو دھمکیاں دی گئیں۔

مسلم لیگ (ن) کئ رہنما نے مزید کہا کہ عدم اعتماد پنجاب میں لائیں یا وفاق میں، ہمارے پاس مختلف آپشنزہیں۔ آئین میں وزیراعظم کےخود اعتماد کا ووٹ لینے کی گنجائش نہیں،۔ چیئرمین سینیٹ کے عدم اعتماد کے معاملے پر جو ہوا وہ اب دوبارہ نہیں ہوگا۔