چین میں مسلمانوں کی نسل کُشی، ترکی میں ایغور خواتین کا احتجاج

222

استنبول: سینکڑوں ایغور خواتین نے ملک کے سنکیانگ خطے میں مسلمانوں کی نسل کُشی کیخلاف وومین ڈے کے موقع پر احتجاج کیا۔

پر چینی کیمپوں کی بندش کا مطالبہ کرتے ہوئے خواتین کے عالمی دن کا مارچ کیا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق استنبول میں چین کے قونصل خانے کے پاس مظاہرین نے “نسل کشی کو روکو” اور “حراستی کیمپ بند کرو” کا نعرہ لگایا۔

مظاہرین میں سے ایک کارکن نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ چین کے حراستی کیمپوں میں ریپ اور خواتین کی جبراً نس بندی کی جارہی ہے۔

چین نے اس الزام پر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کیمپ انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لئے پیشہ ورانہ تربیتی مراکز ہیں۔

انسانی حقوق گروپوں کا خیال ہے کہ چین کے شمال مغربی خطے میں پھیلے ہوئے کیمپوں میں کم از کم 10 لاکھ ایغور مسلمانوں کو قید میں رکھا گیا ہے۔