سوئٹزرلینڈ نے برقعہ پہننے پر پابندی لگا دی

223

سوئٹزرلینڈ نے مسلمان خواتین کے نقاب، حجاب اور برقعہ پہننے پر پابندی لگا دی ہے،  جس کے بعد مسلمان خواتین کو عوامی مقامات پراپنا چہرہ ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اسلام سے خوفزدہ ممالک مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں،اقوام متحدہ

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوئٹرزلینڈ نے اتوار کو ایک ریفرنڈم کروایا جس میں مسلمان خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی سے متعلق عوام کی رائے مانگی گئی تھی، ریفرنڈم میں 51.2 فیصد عوام نے مسلمان خواتین کے نقاب، حجاب اور برقعہ پہننے پر پابندی لگانے کا فیصلہ دیا جبکہ 49 فیصد سے کچھ زائد نے حجاب پر پابندی کی مخالفت کی۔

People protest against Switzerland’s ban on wearing a full face veil in public plans, which has been approved in a national referendum

سوئس پیپلز پارٹی نے “انتہاپسندی کو روکو” کا نعرہ لگایا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سوئس معاشرے میں مسلمان خواتین کے نقاب اور حجاب پر پابندی لگائی جائے، جس کے بعد سوئٹرزلینڈ کی حکومت نے ریفرنڈم کرانے کے برقعہ پر پابندی لگادی ہے۔

اسلامک سینٹرل کونسل آف سوئٹزرلینڈ نے ریفرنڈم کے نتائج کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون سے سوئٹزرلینڈ کے آئین میں اسلام دشمنی کو فروغ حاصل ہو گا۔

سوئٹزرلینڈ:نقاب پرپابندی سے متعلق ریفرنڈم 7مارچ کوہوگا

سوئس حکومت کا کہنا تھا کہ ریاست کسی بھی خاتون کو مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ کیا پہنے اور کیا نہ پہنے لیکن یہ نقاب پر پابندی ووٹ کے باعث لگائی گئی ہے جو اب آئین کا حصہ ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ریفرنڈم کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مذہب کو بنیاد بنا کر ان کی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، اس فیصلے سے معاشرے میں غیر ضروری تقسیم اور خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گی۔

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں نقاب پہننے والی خواتین کی تعداد محدود ہے لیکن سوئٹزرلینڈ میں 40 ہزار سے زائد مسلمان آباد ہیں جو کل آبادی کا 5 فیصد تصور کیے جاتے ہیں، خلیجی ممالک سے آنے والی سیاح خواتین ہی زیادہ تر نقاب اور برقعہ پہنتی ہیں۔