اسپیکر قومی اسمبلی کا پارلیمنٹ کے باہر ناخوشگوار واقعہ کا نوٹس

223

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گذشتہ روز پارلیمنٹ کے باہر پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بڑا اعلان کردیا ہے جبکہ واقعہ کی مکمل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہناتگا کہ گذشتہ روز تاریخی دن کے موقع پر پارلیمان کے باہر ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا ، جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔

اسد قیصر کا کہناتھا کہ اراکین اسمبلی منتخب عوامی نمائندے ہیں ، ان کی عزت سب پرلازم ہے اور ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کے لیے سیاست میں شائستگی ،تحمل ،برداشت ، رواداری کاکلچر اپنانا ہوگا ، ہمیں سیاست میں برداشت ، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرناہوگا۔

اسپیکر قومی اسمبلی کا کہناتھا کہ واقعہ کی مکمل انکوائری کرائی جائے گی اور ساتھ ہی انہوں نے سیاسی جماعتوں سے گزارش کی کہ ایسے واقعات کے تدارک کیلیے سیاسی قیادت کو اپناکردار اداکرنا ہوگا۔

واضح رہے گذشتہ روز قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس سے قبل وفاقی دارالحکومت میں حالات کشیدہ ہوئے اور نہایت ہی افسوسناک مناظر دیکھنے کو ملے جب اپوزیشن رہنما میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے کہ اسی دوران صبح سے ڈی چوک پر موجود پی ٹی آئی کارکنان نے اپوزیشن کے خلاف سخت نعرے بازی شروع کردی اور پی ٹی آئی کارکنان نے اپوزیشن رہنماؤں کو چور اور غدار کے القابات سے نوازا۔

پی ٹی آئی کارکنان کے احتجاج کے باوجود سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو جاری رکھی جبکہ میڈیا گفتگو سے ختم ہونے کے بعد لیگی رہنما سندھ ہاؤس کی جانب روانہ ہونے لگے تو پی ٹی آئی کارکنان نے تمام ن لیگی رہنماؤں کو زودکوب کیا۔

کارکنان نے مصدق ملک سےالجھنے کی کوشش کی اور انہیں دھکے دیے اور اس دوران مریم اورنگزیب بھی موجود رہی ، کارکنان کے نعروں پر مصدق ملک غصے میں آگیے جبکہ اسی دوران پی ٹی آئی کارکنان نے مصدق ملک اور شاہدخاقان عباسی سے ہاتھاپائی کی۔

شاہدخاقان عباسی نے پی ٹی آئی کارکن کو دو تھپڑ مارے، جس پر پی ٹی آئی کارکن نے بھی جوابی وار کرتے ہوئے شاہدخاقان عباسی کو تھپڑ دے مارا، حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس حرکت میں آئی اور شاہدخاقان عباسی اور مصدق ملک کو حصار میں لیا، اسی دوران مصدق ملک کارکنان کو پیچھے دھکے دیتے رہے جبکہ پی ٹی آئی کارکن ویڈیو بناتا رہا۔