اسلام سے خوفزدہ ممالک مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں،اقوام متحدہ

166

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ نے اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے کی جانے والی کارروائیوں کے جواب میں بعض ممالک کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی ادارے کی انسانی حقوق کونسل میں ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ بعض ممالک اسلام کا منفی تاثر ابھار کر مسلمانوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں جس سے ان ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض ممالک نے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، دشمنی اور تشدد کو مستقل اور جائز قرار دے دیا ہے ، اسلام دشمنی کے شکار ان ممالک میں مسلمانوں کے خلاف ایک تصوراتی دیوار تعمیر کر دی گئی ہے، جس سے ان ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کے انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں اور ریاست اس پر آنکھیں بند کیے سب کچھ دیکھ رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2001ء میں امریکا میں دہشت گرد حملے کے بعد اسلام کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں سے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی مسلمانوں نے اقوام متحدہ کی ٹیم کو بتایا کہ بعض ممالک میں انہیں مشکوک اقلیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ، ایک چھوٹی سی جماعت کی کارروائیوں کی ذمے داری پوری مسلم امہ پر ڈال کر مسلمانوں سے نفرت کا پرچار کیا جا رہا ہے ۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سوئٹزر لینڈ میں چہرے کے نقاب پر مجوزہ پابندی کی بات امتیازی اور خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ایمنسٹی انٹرنیشنل سوئٹزرلینڈ کی خواتین سے متعلق حقوق کی سربراہ سیریل ہوگناٹ نے ملک میں مسلم خواتین کے نقاب پر پابندی سے متعلق عوامی ریفرنڈم کے تناظر میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ چہرے کے پردے پر مجوزہ پابندی کو کسی بھی طرح سے خواتین کی آزادی کے اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک خطرناک پالیسی ہے جو آزادی اظہار اور آزادی مذہب سمیت خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پابندی کا ان مسلم خواتین پر خاص طور پر اثر پڑے گا جو نقاب یا برقعہ پہننے کا انتخاب کرتی ہیں۔ اگر ہم واقعی خواتین کا احترام کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں خواتین کو یہ فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہیے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہیں۔