عمران خان کو شوکت عزیز نظر آنے لگے تھے؟

377

پاکستان کے عوام کو اس بات کا انتظار تھا کہ بیرون ملک سے درآمد سوٹ کیس لیے وزیرِ خزانہ اور ہر وقت دنیا کی مثال دینے والے عبدالحفیظ شیخ انتہائی شرمناک شکست کے بعد مستعفی ہوجائیں گے لیکن انہوں نے اب تک استعفا نہیں دیا۔ عبدالحفیظ شیخ کی شکست پر پورے ملک کے خواص اور عوام نے خوشی کا اظہار کیا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگوں نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا خیر مقدم کیا ہے۔ عوم کی اکثریت عمران حکومت سے بے حد پریشان اور دوسری جانب وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی نگرانی میں چلنے والی حکومت بھی عوام کو بھوک افلاس غربت بے روزگاری اور درجنوں سرکاری اداروں کی بندش اور عوام کی ملازمتوں سے محرومی کے سوا عام لوگوں کو اور کچھ دینے سے یکسر قاصر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے ارکان ِ اسمبلی سے وزیر ِ اعظم عمران نے 28فروری کو ملاقاتیں شروع کیں یہ سلسلہ تین دن تک جاری رہا لیکن یہ سب بے سود ثابت ہوا اس کی بنیادی وجہ ارکان اسمبلی کی عبدالحفیظ شیخ سے ناراضی تھی، عمران خان نے ارکان کو بہت یقین دلانے کی کوشش کی کہ آئندہ ا یسا نہیں ہوگا لیکن ار کان کا کہنا تھا کہ عمران کے وعدے بے کار اور عبدالحفیظ شیخ کسی بھی بات کی یقین دہانی کرانے کو تیار نہیں اس لیے ارکان اسمبلی نے آزادی سے عبدالحفیظ شیخ کیخلاف اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ پی ٹی آئی کے کتنے ارکان پی پی پی سے رابطے میں تھے لیکن اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہے عمران خان اور ان کے امیدوار عبدالحفیظ شیخ کا کسی رکن سے براہ راست رابطہ نہیں اور عمران نے اپنے ارکانِ قومی اسمبلی کو موقع د یا وہ اپنی مرضی سے ووٹ عبدالحفیظ شیخ کو دیں یا کسی اور کو اپنا ووٹ دے دیں۔
الیکشن سے ایک دن قبل جو کچھ سامنے آیا، وہ انتہائی شرمناک تھا اور اُس نے ان سینیٹ انتخابات کو ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر داغدار کر دیا لیکن اس سے زیادہ بے حیائی یہ ہے کہ ہارنے کے باوجود عبدالحفیظ شیخ وزارت کے مزے لینے میں مصروف ہیں۔ ویڈیو میں علی حیدر گیلانی پی ٹی آئی کے چار ایم این ایز کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ سکھا رہے تھے جو اُنہوں نے لیک ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد تسلیم بھی کر لیا۔ سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا یہ ویڈیو خود پی پی پی نے ریلیز کرائی ہے کیوں کہ اس ویڈیوکے ریلیز ہو نے کا فائدہ پی پی پی اور نقصان تحریکِ انصاف کو ہوا۔
عمومی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ بکنے والے اکثر اراکینِ اسمبلی کا تعلق پی ٹی آئی اور خریداروں میں پاکستان پیپلز پارٹی پیش پیش ہے۔ میری ذاتی رائے میں لیک ویڈیو آڈیو کے سامنے آنے کے بعد یوسف رضا گیلانی الیکشن لڑنے کا اخلاقی جواز کھو بیٹھے تھے لیکن اُنہوں نے الیکشن میں حصہ لیا اور افسوس کی بات یہ کہ اپوزیشن یعنی پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں بشمول ن لیگ نے اُنہیں ووٹ ڈالا۔ کیا ن لیگ نے اس مشکوک عمل میں حصہ ڈال کر ووٹ کو عزت دی؟ یہ ن لیگیوں اور اُن کی اعلیٰ قیادت کو سوچنا چاہیے۔ یعنی جس طرف دیکھیں حالات ایک سے ہیں۔ ایک طرف اگر اپوزیشن ووٹ خریدتے ہوئے دکھائی دی تو دوسری طرف حکومتی جماعت خصوصاً پی ٹی آئی والے، بکتے ہوئے نظر آئے اور یہ سب کچھ اُس وقت ہو رہا ہے جب کئی ہفتوں سے اسی موضوع یعنی سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت کا معاملہ عدالت، قومی سیاست اور میڈیا کا فوکس رہا۔
عدلیہ کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں اور میڈیا میں جو بحث کی گئی وہ سینیٹ کے ووٹنگ کے طریقہ کار کو بدلنے اور اُس میں اصلاحات لانے کے متعلق تھی۔ کسی نے یہ نکتہ نہیں اُٹھایا نہ اس بات پر غور کیا کہ آخر ارکان ِ اسمبلی بکتے کیوں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ووٹ خریدنے والوں کو شرم آتی ہے اور نہ بکنے والوں کو اور یہ بکنے بکانے والے تقریباً ہر سیاسی پارٹی میں موجود ہیں۔ اگر کسی سیاسی جماعت کے بارے میں ایسی شکایت سننے کو نہیں ملی تو وہ جماعت ِ اسلامی ہے جس کی موجودگی اسمبلیوں میں بہت کم ہے۔ ایک تو عوام کو سوچنا چاہیے کہ آخر کیوں وہ ایسے افراد کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں جو بکنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں لیکن اس سے بھی پہلے اہم سیاسی جماعتوں اور اُن کے قائدین کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ آئین ِ پاکستان کی روح کے مطابق صرف اُنہی افراد کو اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کا ٹکٹ دیں جو باکردار ہوں، باعمل مسلمان ہوں دوسرے اسلامی فرائض کو سرانجام دینے کے حوالے سے جانے جاتے ہوں، سچے اور ایماندار ہوں اور بڑے گناہوں اور اخلاقی برائیوں سے دور رہتے ہوں اور اچھی شہرت رکھتے ہوں۔ لیکن اس کے قائدین کو خود بھی اسی فطر ت کا ہو نا ضروری ہے۔
کوئی اخلاقی طور پر اور کردار کے حوالے سے کتنی ہی خراب شہرت کیوں نہ رکھتا ہو، اگر وہ Electable ہے تو تمام سیاسی جماعتیں، بیشک وہ پی ٹی آئی ہو، پی پی پی یا ن لیگ اُسی کو ٹکٹ دیتی ہیں۔ اس لیے اصلاحات یا قانون کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہونے والا۔ امیر جماعت ِ پاکستان اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے آئین پر عمل کرنے سے جمہوریت اور عوام دونوں کو فائدہ ہوگا اور سیاست کی گندگی کو اگر صاف کرنا ہے تو آئین کی روح کے مطابق باکردار اور باعمل مسلمان ہی کو سینیٹ اور اسمبلیوں میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار بھی کسی اہمیت سے خالی نہیں ہے۔ عبدالحفیظ شیخ آئی ایم ایف کے نمائندے اور 2010 سے وہ اسی کے لیے کام کر رہے ہیں اور سینیٹر بننے کے بعد بھی وہ صرف آئی ایم ایف کے ملازم ہیں۔ آصف علی زرداری کے دور سے وہ پاکستان میں آئی ایم ایف کے لیے کام کر رہے ہیں اور ملکی معیشت تباہ، مہنگائی میں اضافہ سرکاری ادروں کی اونے پونے فروخت کے سوا ان کی کوئی قابلیت عوام کے سامنے نہیں آئی، لیکن پی پی پی اور اب تحریک ِ انصاف نے ان کو سینیٹ کا ٹکٹ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ سینیٹ آئی ایم ایف کی خریداری کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ عوام کو اس خریدو فروخت کا کوئی فائدہ ہے اور نہ سینیٹ کے انتخابات نہ ہونے سے ان کوئی نقصان ہے عوام کو ہر دور میں روٹی کی بھاگ دوڑ میں حکومتوں نے اُلجھائے کر رکھا۔ عوام دو سال سے چیخ رہے ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلائی جائے لیکن عمران سمیت حکومتی ارکان کو عوام سے رابطے کی توفیق نہیں ہوئی اب بھی ایسا ہی ہو گا۔ جمہوریت کے نام پر عوام کو آمریت کا سامنا ہے اس سے نجات ہی عام لوگوں کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ کی شکست میں عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان دونوں کی اور بیرونی مداخلت کے بغیر عبدالحفیظ شیخ کی شکست کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔ کیا عمران خان کو عبدالحفیظ کی صورت میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نظر آنے لگے تھے؟