امتیاز عالم کے فکری مغالطے

423

امتیاز عالم کا شمار پاکستان کے معروف سیکولر اور لبرل صحافیوں اور دانش وروں میں ہوتا ہے۔ وہ سیکولر اور لبرل لکھاریوں کی روایت کے مطابق اسلام اور مسلمانوں پر ’’کرم‘‘ فرماتے رہتے ہیں۔ پاکستان کا اسلامی تشخص بھی انہیں پریشان کرتا رہتا ہے۔ اور وہ اپنی تحریروں میں اردو کو ’’استعماری زبان‘‘ ثابت کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ان کا ایک حالیہ کالم ان کے تعصبات کا اچھا اشتہار ہے۔
اس اشتہار میں امتیاز عالم نے لکھا ہے:
’’برصغیر کی تاریخ بیرونی حملہ آوروں سے عبارت ہے۔ ہند میں آریائوں سے لے کر مغل، ترک، بازنطینی، ولندیزی، انگریز اور جانے کہاں کہاں سے حملہ آور آتے رہے ہیں۔ آریائی ہوں یا مسلمان یا پھر انگریز سبھی ’’کالونیل برڈن لیے ہوتے تھے کہ اپنی تہذیب ہندوستانیوں پر مسلط کردی۔ ایک ہزار برس کی حکمرانی کے دوران وسط اور جنوب مغربی ایشیائی حملہ آوروں نے برصغیر میں اسلام اور فارسی کو فروغ دیا اور اپنے کلچر کی بالادستی قائم کی لیکن اس مفروضاتی اور نوآبادیاتی بنیاد پر کہ برصغیر کی ثقافت اور زبانیں کمتر اور ناپاک ہیں اور یہ کہ ان کا مفتوح دھرتی سے تعلق مال غنیمہ کا ہے۔
(روزنامہ جنگ، 21 فروری 2021ء)
مسلمانوں کی تاریخ یہ ہے کہ وہ جہاں گئے جبر سے اجتناب کرتے رہے۔ انہوں نے مفتوح قوموں پر نہ اپنا مذہب مسلط کیا، نہ اپنی تہذیب تھوپی، نہ اپنے کلچر کا بوجھ اُن پر ڈالا، نہ انہیں اپنی زبان بدلنے پر مجبور کیا۔ مگر امتیاز عالم نے برصغیر میں مسلمانوں کو دوسرے حملہ آوروں کی صف میں کھڑا کردیا۔ آریا وسطی ایشیا سے آئے تھے، انہوں نے آتے ہی ہندوستان کا مذہب بدل ڈالا۔ اُس کے دیوی دیوتا تبدیل کردیے۔ انہوں نے مقامی باشندوں پر جنہیں عرف عام میں دراوڑ کہا جاتا ہے ذات پات کا نظام مسلط کردیا۔ انہوں نے انسانوں کو برہمن، کھشتری، ویش اور شودر کے خانوں میں بانٹ دیا۔ کیا مسلمانوں نے بہ زور طاقت مقامی باشندوں کو مذہب بدلنے پر مجبور کردیا۔ کیا مسلمانوں نے ہندوئوں سے کہا کہ آج سے تم کرشن اور رام کے بجائے رسول اکرمؐ کو پیغمبر مانو گے۔ ہمارے آتے ہی تمہاری مقدس کتابیں منسوخ ہوگئیں۔ اب تم وید اور گیتا پر ایمان رکھنے کے بجائے قرآن و حدیث کو مانو گے۔ کیا مسلمانوں نے ہندوئوں کو سنسکرت اور ہندی چھوڑ کر عربی، فارسی یا اردو اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ کیا مسلمانوں نے مقامی ہندوئوں سے کہا کہ اب تم ہولی اور دیوالی منانے کے بجائے عید اور عیدالاضحٰی منائو گے۔ کیا مسلمانوں نے ہندوئوں سے کہا کہ اب تم دھوتی پہننا ترک کردو اور مسلمانوں کا لباس اختیار کرلو۔ کیا مسلمانوں نے ہندو خواتین سے ساڑھی ترک کرنے کا مطالبہ کیا اور انہیں مسلم خواتین کا لباس زیب تن کرنے کا مشورہ دیا۔ اگر نہیں تو آخر امتیاز عالم نے کس بنیاد پر یہ کہا کہ مسلمان بھی برصغیر پر حملہ کرنے والے دیگر حملہ آوروں کی طرح ہیں۔
امتیاز عالم نے برصغیر کے مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کے شعور پر بھی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا۔
’’برصغیر کے دو متوازی معاشرے باہمی طور پر لاشریک یا Mutually Exclusive رہے۔ مسلم شناخت کا مطلب ہندوستان سے تاریخی و ثقافتی بیگانگی رہا۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں ہندو مسلم مل کر لڑے مگر وجوہات مختلف تھیں۔ قومی آزادی کی جنگ میں قوم پرست علما نے انڈین نیشنل ازم سے الحاق کیا لیکن اپنی اسلامی روایت پسندی پر قائم رہتے ہوئے اور جدیدیت کو رد کرتے ہوئے۔ دو قومی نظریہ مقبول بھی ہوا تو اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں میں یا پھر مشرقی بنگال میں‘‘۔
مسلمانوں کا جداگانہ تشخص مسلمانوں کا ’’نفسیاتی مسئلہ‘‘ نہیں ہے یہ ایک ’’روحانی مسئلہ‘‘ ہے۔ مسلمان چین گئے تو انہوں نے جداگانہ مسلم تشخص پیدا کرکے دکھایا۔ مسلمان اسپین گئے تو جداگانہ اسلامی تہذیب کا تجربہ خلق کیا۔ مسلمان ہندوستان آئے تو انہوں نے ’’ہند اسلامی تہذیب‘‘ پیدا کرکے دکھائی۔ اس کی وجہ مسلمانوں کا کوئی ’’شوق‘‘ نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام اگر صرف عقاید اور عبادات کا مجموعہ ہوتا تو پھر مسلمانوں کی تہذیب میں جداگانہ شان نہیں ہوسکتی تھی مگر اسلام کی ’’جامعیت‘‘ مسلمانوں کو ہر جگہ اپنی انفرادیت پر اصرار کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔ مسلمان ہندوستان میں آئے تو انہوں نے ہندو تہذیب کے سمندر میں چھلانگ لگائی۔ ہندو تہذیب کا تجربہ یہ ہے کہ وہ ہر تہذیب کو اپنے اندر جذب کرلیتی ہے۔ بدھ ازم برہمن ازم کے خلاف ایک بغاوت ہے مگر ہندوازم نے اسے اس طرح اُچک لیا ہے کہ بدھ ازم ہندو ازم کی ایک شاخ محسوس ہوتا ہے۔ سکھ ازم کی بنیاد توحید پر ہے مگر ہندو تہذیب سکھ ازم کو بھی ہڑپ کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ آپ ہندوستان جا کر سکھوں کی زندگی کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ سکھ ہندوازم ہی کا حصہ ہیں۔ لیکن مسلمان ہندوستان میں ایک ہزار سال سے اقلیت ہونے کے باوجود ہرگلی، محلے، ہر قصبے اور ہر شہر میں ہندوئوں سے الگ محسوس ہوتے ہیں۔ ان کا طرزِ تعمیر جدا ہے، ان کا لباس الگ ہے، ان کے کھانے مختلف ہیں، ان کی رسومات کچھ اور ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کو ایک فقرے میں بیان کرنا ہو تو کہا جائے گا کہ مسلمانوں کی تہذیب کثرت میں وحدت کا جلوہ ہے۔ امتیاز عالم کا یہ خیال بہت سرسری ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی مسلمانوں اور ہندوئوں نے مل کر لڑی۔ حقیقت یہ ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی اپنی اصل میں صرف مسلمانوں کی جنگ تھی، ہندو اس جنگ میں کہیں کہیں شریک ضرور تھے مگر ہندو سماج 1857ء کی جنگ آزادی کا حصہ نہیں تھا۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی مرکزیت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انگریزوں نے 1857ء کی جنگ آزادی کی ساری ذمے داری مسلمانوں پر ڈالی۔ انہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لینے والے مسلمانوں کو سخت ترین سزائیں دیں۔ ان کی جائدادیں چھین لیں۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں ایک اندازے کے مطابق 70 لاکھ لوگ مارے گئے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق ان کی عظیم اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ ہندو تو 1857ء کی جنگ آزادی سے پہلے بھی انگریزوں کے اتحادی تھے اور بعد میں بھی وہ انگریزوں کے اتحادی ہی رہے۔ اس کا ٹھوس ثبوت یہ ہے کہ انگریزوں نے اکثر سرکاری ملازمتوں کو ہندوئوں ہی کا حق سمجھا۔ انگریز ہندوئوں کو ’’باغی‘‘ سمجھتے تو انہیں ہرگز اپنا اتحادی نہ بناتے۔
جہاں تک قوم پرست علما کا تعلق ہے تو ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اس سے بھی اہم بات یہ تھی کہ برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم اکثریت نے قوم پرست علما کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ امتیاز عالم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ دو قومی نظریہ سب سے زیادہ مسلم اقلیتی صوبوں میں مقبول ہوا۔ اس کی وجہ تھی۔ مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے شعور کی سطح بلند تھی۔ دیوبند تھا تو یوپی میں، بریلی کا مکتبہ ٔ فکر تھا تو یوپی میں، ندوۃ العلما قائم ہوا تو یوپی میں، علی گڑھ کالج کی بنیاد رکھی گئی تو یوپی میں۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ طاقت کے مرکز اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اہل کمال جمع ہوجاتے ہیں اور اس سے طاقت کے مرکز اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی مذہبی، تہذیبی، تاریخی، ثقافتی اور علمی فضا بدل کر رہ جاتی ہے۔ مسلمانوں نے برصغیر پر ہزار سال حکومت کی تو طاقت کا مرکز دہلی میں رہا۔ چناں چہ دہلی اور یوپی علمی اور تہذیبی اعتبار سے ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کے حامل رہے۔
امتیاز عالم نے قیام پاکستان کے حوالے سے ’’پنجاب کی تقسیم‘‘ کا ماتم کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے۔
’’دوقومی نظریے کی بنیاد پر برصغیر تقسیم ہوگیا۔ مسلم ریاست بنی بھی تو مسلم اکثریتی علاقوں میں بنگال اور پنجاب کی ناجائز تقسیم کی بنیاد پر‘‘۔
امتیاز عالم کے اس بیان میں برصغیر اور پنجاب کی تقسیم کا ’’دکھ‘‘ صاف نظر آرہا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کمیونسٹوں نے ابتدائی مرحلے پر قیام پاکستان کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قیام پاکستان کی بنیاد مذہب پر رکھی گئی تھی اور کمیونسٹوں کے نزدیک مذہب ’’عوام کی افیون‘‘ کی حیثیت رکھتا تھا لیکن بعد میں روس سے حکم آگیا کہ قیام پاکستان اور برصغیر کی تقسیم کو قبول کرنا ہے۔ چناں چہ برصغیر کے کمیونسٹوں نے دل پر پتھر رکھ کر قیام پاکستان کو قبول کرلیا مگر ان کی پاکستان سے متعلق ذہنیت آج بھی برصغیر کی تقسیم پر دکھ کا اظہار کرتی رہتی ہے۔ جہاں تک بنگال اور پنجاب کی تقسیم کا تعلق ہے تو برصغیر کی تقسیم کے بنیادی فارمولے کے اعتبار سے پاکستان مسلم اکثریت کے علاقوں میں بننا تھا۔ قیام پاکستان کے وقت بنگال اور پنجاب دونوں مسلم اکثریتی صوبے تھے۔ چناں چہ اصولی اعتبار سے پورا بنگال اور پورا پنجاب پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا مگر انگریزوں اور کانگریس کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔ تاریخی ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہے کہ حسین شہید سہروردی متحد بنگال کو ایک الگ مسلم ریاست کے طور پر وجود میں لانے کے لیے کوشاں تھے اور انہیں اس سلسلے میں قائداعظم کی تائید بھی حاصل ہوگئی تھی مگر ہندو بنگال کو مسلم ریاست کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو کبھی مسلمانوں کے اقتدار اور غلبے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ چناں چہ بنگال اور پنجاب کی تقسیم کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں تھا۔
امتیاز عالم نے اپنے کالم میں اردو اور پنجابی کو ایک دوسرے کا حریف باور کرانے کی بھی کوشش کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے ہر پنجابی سوچتا تو پنجابی میں ہے اور اظہار بھی پنجابی میں کرتا ہے مگر اس سے آگے اسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔ امتیاز عالم نے مزید لکھا کہ پنجابی اشرافیہ نے پنجابی حکومت اور تشخص کو اپنے بالادستی کے مفادات پر قربان کردیا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آج تک اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں ہوسکا۔ حالاں کہ اردو کی اہمیت یہ ہے کہ اردو پورے برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے۔ اردو برصغیر کی ملت اسلامیہ کے مشترک تہذیبی اور تاریخی تجربے کو بیان کرنے والی زبان ہے۔ قیام پاکستان کے سلسلے میں اردو کی اہمیت یہ ہے کہ اگر اسلام نہ ہوتا تو پاکستان نہ ہوتا۔ ٹھیک اسی طرح اگر اردو نہ ہوتی تو بھی پاکستان نہ ہوتا۔ قائد اعظم کو اردو کی اس اہمیت کا ادراک تھا۔ قائد اعظم کی مادری زبان گجراتی تھی ان کا ذریعہ تعلیم انگریزی تھا، قائد اعظم اردو پڑھ نہیں سکتے تھے مگر اس کے باوجود قائد اعظم نے فرمایا کہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اور صرف اردو ہوگی۔ مگر پاکستان کے قوم پرست حلقے اردو کی غیر معمولی اہمیت کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو پاکستان کی کسی علاقائی زبان کی حریف نہیں، اردو کی تہذیبی اور لسانی فضا ایسی ہے کہ پنجاب کے تخلیقی ذہن نے اردو کو مادری زبان کے طور پر قبول کیا ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو اقبال، ن م راشد، بیدی اور منٹو پنجاب کے بجائے دہلی اور یوپی میں پیدا ہوتے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کی طرح اردو کے مراکز بھی بدلتے رہے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ اردو کا مرکز دہلی یوپی اور حیدر آباد دکن تھا۔ ایک وقت یہ ہے کہ اردو کا مرکز کراچی اور لاہور ہیں۔