کپاس کی قلت و ذخیرہ اندوزی ٹیکسٹائل شعبہ کے لیے خطرہ بن گئی ،میاں زاہد حسین

110

کراچی (اسٹاف رپورٹر )ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک میں کپاس کی قلت سب سے بڑے صنعتی و برآمدی شعبے ٹیکسٹائل کے لیے خطرہ بن چکی ہے اس لیے اس کی بلا تاخیر درآمد شروع کی جائے۔پاکستان کے لیے بھارت کپاس کے حصول کا سب سے سستا ذریعہ ہے جسے سیاسی کشیدگی کی وجہ سے نظر انداز کیا جا رہا ہے اس لیے افغانستان اور وسط ایشیاء سے طورخم کے راستے کپاس درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کی درآمد میں تاخیر سے پاکستان کا اپنا نقصان ہو رہا ہے اس لیے ملک میں موجود سیاسی حالات کے باوجود اس معاملہ کو اہمیت دی جائے۔انھوں نے کہا کہ طورخم کے راستے اگلے پندرہ ماہ تک کپاس درآمد کرنے کی اجازت ملکی مفاد کے عین مطابق ہے کیونکہ کپاس کی ملکی پیداوار مستقل بنیادوں پر کم ہو رہی ہے ۔