ساڑھے 11کروڑ پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری کیس‘ قانون سازی نہ کرنے پر عدالت برہم

65

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے ساڑھے 11 کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا چوری ہونے سے متعلق درخواست پر پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن سے قانون سازی کی ہدایت کردی۔ سندھ ہائی کورٹ میں ساڑھے 11 کروڑ پاکستانیوں کا حساس ڈیٹا چوری ہونے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی جہاں پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون سازی مکمل نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ جب اپنے لیے قانون سازی کرنی ہوتو فوراً کرلی جاتی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت اپنے لیے مفاد کے لیے تو قانون سازی کرلیتے ہیں مگر عوام نہیں سوچا جارہا،پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن کا معاملہ انتہائی اہم اور سنجیدہ ہے،پورے ملک کے لیے اہمیت کے حامل معاملے پر اب تک قانون سازی کیوں نہیں ہوئی؟، دوسرے ممالک میں قوانین موجود ہیں پاکستان میں کیا مسئلہ ہے؟ عدالت نے جلد پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون سازی کی ہدایت کردی۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے 20 اپریل تک پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ منسٹری آف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جواب موصول نہیں ہوا، ڈیٹا پروٹیکشن بل مشاورت کے لیے وزارت قانون و انصاف کو بھجوادیا گیا ہے، عدالت کا کہنا تھا کہ ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون سازی کرنی ہے تو دیر کس چیز پر کی جارہی ہے؟یہ ملک کے مفاد کا معاملہ ہے قوانین جلد بنائے جائیں، درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ابھی تک جواب ہی نہیں دیا جارہا ہے،ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کے حوالے سے کوئی رزلٹ ابھی تک نہیں آیا ہے، عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پی ٹی اے کی اگر قانون سازی کی ڈیمانڈ ہے تو جلدی مکمل کیا جائے، درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں نیشنل سائبر پالیسی موجود نہیں ہے اداروں کے درمیان کورآڈینیشن نہیں ہے، پاکستان میں ڈیٹا چوری کے مزید 3 واقعات ہوچکے ہیں۔