تفریح

374

آج کل ضروری اور غیر ضروری مصروفیات کی ایسی یلغار ہے کہ ہمیں کچھ بہت بڑی ذمے داریاں ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ان میں سے ایک، تفریح ہے۔ تفریح کو ذمے داری کہنا عجیب سا محسوس ہوسکتا ہے، لیکن یہ لفظ سوچ سمجھ کر استعمال کیا ہے۔ کسی بھی مثبت افادیت کے حصول کی کوشش اور اہتمام آدمی کی ذمے داری ہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم لوگ تفریح سے کنارہ کش ہو کر بے کیفی اور بیزاری کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جن چیزوں کو ہم تفریح سمجھ بیٹھے ہیں، وہ چیزیں تفریح کہلا سکتی ہیں یا نہیں۔ مثلاً کمپیوٹر پہ گھنٹوں کھیلنا، فلمیں دیکھنا تفریح ہے یا سزا! اسی طرح کبھی کبھی کسی خوب صورت اور پر فضا مقام کی سیر کو جانا اور وہاں کے سارے مناظر کو آنکھوں سے کم اور کیمرے سے زیادہ دیکھنا، اس سارے سیر وسفر کو تفریح کہا جاسکتا ہے یا نہیں؟ لگتا تو یہ ہے کہ ہم رفتہ رفتہ تفریح اور تماش بینی کا فرق بھولتے جا رہے ہیں۔ کمپیوٹر اور کیمرے نے ہمیں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ ہم شفاف اور خالص احساسات سے قریب قریب محروم ہی ہو چلے ہیں۔ کوئی خوب صورت منظر بس کیمرے میں محفوظ ہوجاتا ہے، دل کا البم خالی ہی پڑا رہتا ہے۔ خوب صورتی میں قلب وذہن کو مشغول رکھنے والی جو گہرائی، کشش اور تہہ داری ہوتی ہے، ہم اس سے بالکل نامانوس اور بے خبر ہیں۔ ہمارا جمالیاتی شعور اس حد تک معطل بلکہ مردہ ہوچکا ہیکہ ہم حسن کو اپنے اندر جذب کرنا بھول چکے ہیں۔ اس حسن کو جو جمالیاتی شعور کو بھی سیراب کرتا ہے اور اخلاقی شعور کو بھی مطمئن رکھتا ہے۔ جو آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے اور دل ودماغ میں صورت سے معنی بننے کا عمل پورا کرتا ہے۔ ہم یہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ آنکھوں کی رسائی میں آیا ہوا ہر اچھا منظر اپنے اندر ایک ان دیکھا پن بھی رکھتا ہے جسے عین لمحۂ دید میں دل محسوس کرلیتا ہے اور ذہن بھانپ لیتا ہے۔ کیمرے نے ہمارے جمالیاتی شعور کا متبادل بن کر دید ونادید کی اور حضور وغیاب کی فطری روایت کو غارت کر کے رکھ دیا ہے۔ اور ستم یہ ہے کہ ہم یہ جاننے اور محسوس کرنے کے قابل ہی نہیں رہ گئے کہ سیل فون میں لگا ہوا یہ کیمرا جسے ہم اپنی اصلی آنکھ بنا چکے ہیں، ہمیں کتنی تیزی سے ایک
مشین بناتا جا رہا ہے بلکہ شاید بنا چکا ہے۔ مشینوں سے تفریح کشید کرنے کی ایسی عادت پڑ چکی ہے کہ ذہن اور طبیعت میں سے انسانی پن غائب ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ خوش ہونا بھول گئے ہیں اور غمگین ہونا بھی۔ خوشی اور غم احساسات کی اصل ہیں اور خیالات کی تشکیل میں بھی ان کا بہت بنیادی کردار ہے، یہی اگر ہمارے اندر سے غائب ہونے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب ہماری بناوٹ آدمیوں جیسی نہیں رہی۔ یہاں بڑی خوشی اور بڑے غم کی بات نہیں ہو رہی، معمولی باتیں اور عام سے نظارے اگر ہمارے اندر خوشی اور غم کے اسباب نہیں بنتے تو یہ بھی بڑی خرابی کی بات ہے۔ بچوں کی لڑائی کا منظر، پرندوں کی اڑان کا نظارہ، کسی جانور کو ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ چلنے کی کوشش کرتے دیکھنا۔۔۔ یہ سب معمول کے واقعات ہیں لیکن اگر انہیں دیکھ کر ہمارے اندر خوشی اور غم کے احساسات نہیں پیدا ہوتے تو ہم آدمی ہونے کی ذمے داری پوری کرنے کے لائق نہیں ہیں۔ اسی طرح کسی جانے یا ان جانے آدمی کو خوش یا غمگین دیکھ کر وہ خوشی اور غم اگر ہمیں اپنے اندر منتقل ہوتا ہوا محسوس نہیں ہوتا تو اس کا بھی یہی مطلب ہوگا کہ ہماری آدمیت میں کوئی خلا پیدا ہوگیا ہے۔
اگر ہم اپنے بارے میں، یعنی انسان کے بارے میں روایتی اور کلاسیکی موقف رکھتے ہیں تو یہ ممکن نہیں ہے کہ ہمیں یہ محسوس نہ ہو رہا ہواور یہ دکھائی نہ دے رہا ہو کہ وہ زمانہ زیادہ دور نہیں رہ گیا جب ہمارا دماغ آدمیوں کا سا نہیں رہ جائے گا اور ہمارے احساسات بھی غیر انسانی ہوجائیں گے۔ یعنی ہمارا اپنے بارے میں تصور ایک مشین کا سا بن جائے گا۔ ہم اپنے بارے میں سوچیں گے بھی تو یہ اسی طرح ہوگا جیسے ایک ٹیپ ریکارڈر اپنے متعلق سوچ رہا ہو۔ بہت بڑا بحران آچکا ہے اور اس کے نتیجے میں آدمی کی زندگی کے تمام گوشے تاریک اور ٹھنڈے ہوتے جار ہے ہیں۔ خود اپنے آپ سے تعلق ختم ہوتا جا رہا ہے اور خود کو دیکھنے، خود سے خوش رہنے یا اپنے اوپر غمگین ہونے کی گنجائشیں کم سے کم ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک عجیب سا چلتا پھرتا خلا ہے جسے ہم اپنی شخصیت ماننے پر مجبور ہیں۔ میری عمر کے لوگ اگر کمپیوٹر وغیرہ کی فیلڈ سے متعلق نہیں ہیں تو وہ اس خطرے کا شکار ہونے سے قدرے محفوظ ہیں لیکن اس خطرے کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہیں۔ یعنی گھر اور گھر کے باہر کی معاشرت میں لاتعلقی کا غلبہ سب سے زیادہ بوڑھے لوگوں کو جھیلنا پڑتا ہے۔ تنہائی اختیاری ہو تو آب ِ حیات ہے مگر یہی تنہائی جبری ہو تو زہر کا پیالہ ہے۔ لگتا ہے کہ آگے چل کر یہ زہر کا پیالہ بوڑھے لوگوں اور ضعیف والدین کی کل متاع بن کر رہ جائے گا۔ اور دوسری طرف ہماری اگلی نسلیں ہیں جو گویا زہریلے پانی میں تیراکی کر رہی ہیں۔ اور زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ اس زہراب میں غوطہ زنی کی عادت ڈال لینے کی وجہ سے ان کے اندر سے میٹھے پانی کا تصور ہی غائب ہوتا جا رہا ہے۔ وہ تمام چیزیں جو آدمی ہونے کے لیے ضروری ہیں، اگلی نسلوں میں سے تیزی کے ساتھ رخصت ہوتی جار ہی ہیں۔ کمپیوٹر اور موبائل فون وغیرہ ایک آگ کی طرح تمام طبقات میں پھیل چکے ہیں۔ یہ آگ وقت کو، لوگوں کی شخصیت کو اور سوسائٹی کی روایتوں کو بھسم کرتی جا رہی ہے۔ اب اس آگ میں جلنے کے لیے کمپیوٹر کا فن آنا بھی ضروری نہیں رہ گیا۔ ایک ان پڑھ آدمی بھی خود کو اس کا ایندھن بنانے پر اچھی طرح قادر ہے۔ لیکن ہماری سب خرابیوں کی ذمے داری موبائل فون اور لیپ ٹاپ پر نہیں جاتی۔ ان سے تو بس یہ ہوا ہے کہ ان خرابیوں کے پھیلاؤ کی رفتار تیز ہوگئی ہے۔ ان آلات کی آمد سے پہلے ہی ہمارے اندر ناآدمی بننے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔ ہماری آدمیت، بندگی کے محور سے ہٹ چکی تھی۔ یوں سمجھیں کہ معاشرہ پہلے ہی سے دلدل بن چکا تھا۔ ان آلات کی آمد سے اس دلدل میں طغیانی پیدا ہوگئی جس کی لپیٹ میں بچوں سے
لے کر بڑوں تک اب پورا معاشرہ آچکا ہے۔ سچی بات ہے کہ ہم آگ کے شامیانے میں رہ رہے ہیں، آگ کی قناتوں نے ہمارا حصار کر رکھا ہے اور باہر نکلنے کا نہ کوئی راستہ ہے اور نہ ہی راستہ ڈھونڈنے اور نکالنے کی کوئی اجتماعی خواہش۔ اس صورت ِ حال سے نجات پاسکنے کی امید بھی خوش فہمی سے زیادہ کچھ محسوس نہیں ہوتی۔ بلکہ ایسی امید پر اب غصہ آنے لگا ہے۔ آپ ذرا خیال تو کریں کہ اس اندھیرے کا کیا حال ہوگا جس میں پڑا ہوا آدمی سورج کے خیال سے بھی چڑنے اور بدکنے لگے۔ اسی لیے آج پیغام ِ امید سنانے والے لوگ ذہنی طور پر کم تر اور معاشرتی سطح پر پس ماندہ لگتے ہیں۔ آج کا آدمی سمجھتا ہے کہ وہ پی ایچ ڈی کی سطح کے مسائل میں الجھا ہوا ہے اور یہ مصلحین اور مبلغین اسے نرسری رائمز سنا رہے ہیں۔ کیونکہ حال، مستقبل کے تخیل سے کم اور ماضی کے تسلسل سے زیادہ بنتا ہے، اس لیے کسی معاشرے میں چلنے والی ہر اصلاحی تحریک نئی اقدار کی ایجاد سے زیادہ متروک اقدار کے احیا کی کوشش کرتی ہے۔ اس وجہ سے ایسی تحریکوں کو رجعت پسندی اور ماضی پرستی کے القابات سننے پڑتے ہیں۔ لیکن سر ِدست یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہم تو ابھی یہ بات کرنا چاہ رہے ہیں کہ تفریح بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں نوجوانوں سے، اور ان میں بھی خاص طور پر ان لوگوں سے جو کمپیوٹر سائنسز سے عملی تعلق رکھتے ہیں، یہ درخواست ہے کہ کم ازکم تین معاملات میں کوئی سمجھوتا نہ کریں۔ پہلا یہ کہ تمہارے پاس معیاری تفریح کا وقت ہونا چاہیے، یعنی سیر کا وقت، کھیل کاوقت۔ وہی تفریح معیاری ہے جس سے آنکھوں میں ٹھنڈک پڑے، طبیعت میں فرحت پیدا ہو اور جسم تھک جائے۔ کمپیوٹر اور موبائل فون کی اسکرین دیکھتے رہنے والوں کی آنکھیں کیا ٹھنڈی ہوں گی اور ان کے جسم کو واقعی تھکن کا کیا تجربہ ہوگا۔ ان کی تھکن ایک اعصابی اختلال کی طرح ہوتی ہے۔ جو تھکن بھی جسمانی حرکت کا نتیجہ نہیں ہے، وہ بیماری ہے۔ تو بھائی، تفریح کا وقت نکالیں، اگر آدمی رہنا ہے۔ جسم کو خوش دلی کے ساتھ تھکائیں۔ یہ اس تفریح کا خلاصہ ہے جسے آدمی بننے کی دعوت کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔
(باقی آئندہ)