سینیٹ الیکشن، جی ڈی اے کا باغی ارکان کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

44

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینیٹ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے صدرپیر صدرالدین شاہ راشدی کو پی ٹی آئی کی جانب سے ووٹ نہ دینے کا انکشاف سامنے آیاہے، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)نے الزام لگایا ہے کہ کریم گبول،رابستان خان، عمر عمیری و دیگر نے ووٹ نہیں دیا وزیر اعظم عمران خان ان باغی ارکان کے خلاف تحقیقات کریں۔ جی ڈی اے نے سندھ میں سینیٹ انتخابات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھ دیا ہے، جس میں باغی ارکان کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں پی ٹی آئی کے 7ایم پی ایز کے نام ارسال کیے گئے ہیں، اور کہا گیا ہے کہ ان 7 پی ٹی آئی ارکان میں سے 6نے ووٹ نہیں دیا، اپنی جماعت کی کالی بھیڑوں کا بتایا جائے، صدرالدین شاہ راشدی کے پول میں دیے گئے اراکین پر ہمیں شک ہے کہ انہوں نے ووٹ نہیں دیا۔ جے ڈی اے کے اراکین بیرسٹر حسنین مرزا، پارلیمانی لیڈر جی ڈی اے شہریار مہر، نصرت سحر عباسی،عبدالرزاق راہمو، نند کمار گوگلانی، عارف مصطفی جتوئی ، ڈاکٹر رفیق بانبھن اور دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹ الیکشن کے خلاف عدالت اور الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہہمارے 14 ایم پی ایز کے ووٹوں سے ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے نشستیں حاصل کیں جبکہ پی ٹی آئی کے 7 ارکان نے ہمیں ووٹ نہیں دیا۔ حسنین مرزا نے کہاکہ الیکشن کمیشن سندھ میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے انکوائری کرے کہ 6 ضمیر فروش اراکین کون تھے،یہ المیہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے 7 اراکین راتوں رات معذور ہوگئے، جب کہ ایک خاتون رکن ایوان میں کھڑے ہوکر تقریر کرتی ہیں اور دوسرے دن وہیل چیئر پر آئیں، ان کے ووٹ دوسرے اراکین نے کاسٹ کیے، ایسا کیوں کیا گیا، ہمارے ان الیکشن پر اعتراض ہے، ہم عدالت سے جلد رجوع کریں گے۔نصرت سحر عباسی نے کہاکہ نے کہاکہ جن ارکان نے ووٹ نہیں دیایہ بے ضمیر ضرور سامنے آئیں گے، پی ٹی آئی میں کالی بھیڑوں کو تلاش کیا جائے، ہم نے وزیراعظم کو شواہد ارسال کردیے ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے ارکان کی تعداد 65 تھی، پی ٹی آئی کے دو ارکان اسلم ابڑو اور شہریار شر پہلے ہی اعلان بغاوت کرچکے تھے اور انہوں نے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔ سینیٹ الیکشن کے نتائج میں پیپلز پارٹی کو جنرل نشست پر 6 اور ٹیکنو کریٹ اور خواتین نشستوں پر اپوزیشن کے 7 ووٹ ملے۔