وزیراعظم اپنے بکے ہوئے ارکان سے اعتماد کا ووٹ کیسے لیں گے، مریم نواز

136

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ(ن) نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ارکان بک گئے اور اب انہی بکے ہوئے ارکان سے اعتماد کا ووٹ کیسےلیں گے۔

نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اور اداروں کو سمجھ آ گئی ہے کہ سسلین مافیا کیا ہوتا ہے، اداروں کو کس طرح دبائو میں لاتے ہیں، بدنام کرتے ہیں، اداروں کے سربراہوں کی تعیناتیاں خود کریں تو ٹھیک ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے الیکشن کمیشن کو جس طرح نشانا بنایا ہے وہ غلط ہے، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے اندر خفیہ بیلٹنگ اور شو آف ہینڈز پر جو رائے دی تھی وہ ان کی ذاتی رائے نہیں تھی وہ آئین کے مطابق رائے تھی اور سپریم کورٹ نے بھی وہی رائے تسلیم کی، ایوان کے علاوہ کسی کو اختیار نہیں ہے کہ وہ آئین میں ترمیم کرسکے۔

مریم نواز نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تحریک انصاف نے اربوں پتی افراد کو ٹکٹس دیئے جن کا پارٹی سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا وہ صرف ان کے اے ٹی ایم تھے وہ جیت گئے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے اربوں پتی جیتے ہیں تو وہ صحیح ہیں، الیکشن کمیشن ٹھیک ہے،لیکن اسلام آبادکی ایک سیٹ جس نے آپ کا پورا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا اور ہارتے ہیں تو پھر الیکشن کمیشن برا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کو متنازعہ بنانے کا الزام ہم پر لگا کرتا تھا لیکن اب اداروں کو سمجھ آ گئی ہے،ہم نے تو اداروں کو متنازعہ نہیں بنایا، ان کی صحیح، غلط ، سزائیں بھگتیں اور جیلیں کاٹیں، پھر بھی آج اداروں کی سربلندی کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں، اداروں کو پتہ چل گیا ہو گا کہ اداروں کو متنازعہ بنانے والے کون ہیں، مافیا کون ہیں، ادارے مرضی کا فیصلہ کریں تو اچھے ہیں اور اگر ان کی مرضی کا فیصلہ نہ کریں تو برے ہیں۔

 سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے حیرانگی ہے کہ قومی اسمبلی کا جو اجلاس بلایا گیا ہے وہ آئین کے آرٹیکل91کی شق 7 کے تحت بلایا گیا ہے اور اس کے مطابق صدر پاکستان کو کہنا پڑتا ہے کہ وزیراعظم ایوان میں اعتماد کھو چکے ہیں اور وزیراعظم ایوان میں اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے، اس کی سمری یہ ہے کہ وزیراعظم کو آپ کا صدر کہہ رہا ہے کہ آپ اکثریت کھو چکے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ صدرا یک جانب سے سمری پر انہیں مبارکباد دینا چاہتی ہوں کہ جو بات ڈسکہ، وزیرآباد، سندھ اور بلوچستان اور پورے ملک میں عوام کو سمجھ آ گئی تھی کہ حکومت اعتماد کھو چکی ہے، وہ بات صدر پاکستان کو بھی سمجھ میں آگئی ہے، میرا مطالبہ ہے کہ جو سمری صدر پاکستان نے جاری کی ہے اور کہا ہے کہ وزیراعظم ایوان کا اعتماد کھو چکا ہے وہ پبلک کی جائے ، تاکہ عوام دیکھ سکیں کہ ٹی وی پر یہ کیا بات کرتے ہیں اور پیچھے کیا بات ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ 2018 کا الیکشن آج تک قبول نہیں کیا ہے نہ ہی عمران خان کو وزیر اعظم مانتے ہیں، وہ سلیکٹڈ تھا، ہے اور ہمیشہ سلیکٹڈ کے نام سے ہی بدنامی کی لہر اس کے ماتھے پر سجی رہے گی اور 2018کے انتخابات کا حساب عوام نے خود کرلیا ہے، اگر آئندہ ووٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی تو چوری کرنے والے جانتے ہیں کہ عوام جاگ رہے ہیں اور احتساب بھی لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کیسے ان ارکان سے اعتماد کا ووٹ لے رہے ہیں جن کو الزام لگایا کہ انہوں نے ووٹ بیچے ہیں، قومی ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ رہے ہیں کہ بک گئے ہیں، کس منہ سے ان سے اعتماد کا ووٹ مانگ رہے ہیں،جبکہ معیشت میں وزیراعظم پر عدم اعتماد ہو چکا ہے، اب آئین کے مطابق استعفیٰ دیں۔