میری ٹائم کی کھلے سمندر میں کارروائی ،2 ہزار کلو حشیش برآمد

60

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی اور کسٹم انٹیلی جنس نے منشیات کے خلاف مشترکہ کارروائی کرکے816ملین کی منشیات برآمد کر کے ایرانی نژ اد 5ملزمان کو گرفتار کرلیا، پچھلے ایک ماہ کے دوران 3دفعہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی پربھارتی کشتیاں پکڑی گئی ہیں ،ان خیالا ت کا اظہار جمعرات کے روز پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کمانڈر فیصل صادق نے میری ٹائم ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔اس دوران ان کے ساتھ ڈائریکٹر آپریشنز میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کمانڈر عبداللہ اور ایڈیشنل ڈائریکٹر کسٹم انٹیلی جنس رانا تسلیم اختر بھی موجود تھے ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کمانڈر فیصل صادق نے کہا کہ کسٹم انٹیلی جنس نے خفیہ اطلاعات فراہم کیںجس کے بعد PMSA نے سرچ آپریشن کے دوران ایک مشکوک کشتی کو کھلے سمندر میں دیکھا جس پرکشتی کی جانچ پڑ تال کی گئی تو کشتی کے خفیہ خانوںسے تقریباً 2040 کلو گرام اعلیٰ کوالٹی کی حشیش بر آمد ہوئی ،پکڑی جانے والی منشیات کی بین الاقوامی منڈی میں مالیت لگ بھگ 816 ملین پاکستانی روپے بتائی جاتی ہے۔ برآمد کی گئی منشیات اور 5ملزمان کو مز ید قانونی چارہ جوئی کے لیے پاکستان کسٹم انٹیلی جنس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی اور کسٹم انٹیلی جنس کے کامیاب آپریشن کے نتیجے میں منشیات برآمد کی گئی۔ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ہم چوکس ہیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی اور مقاصد کے لیے پاکستانی پانیوں کے استعمال کو روکنے میں پُرعزم ہیں۔ پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی سمندر میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے اپنے قومی فرائض اور ذمے داریوں کو نبھاتی رہے گی۔پچھلے ایک ماہ کے دوران ہمسایہ ممالک کی جانب سے 3دفعہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی پربھارتی کشتیاں پکڑی گئی ہیں۔ ڈائریکٹر آپریشنز میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کمانڈر عبداللہ نے کہا کہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ اسمگلرز کی مختلف ٹیمیں کام کررہی ہوتی ہیں، ایک ٹیم سامان لے کرجارہی ہوتی ہے اور پکڑے جانے والے اسمگلرز کو نہیں پتا ہوتا کہ وہ کہاں جارہے ہیں ،اسمگلرز کے پاس سیٹیلائٹ فونز ہوتے ہیں بات چل رہی ہوتی ہے اور انہیں روکنے کا کہہ کر مال وصول کیا جاتا ہے،ایڈیشنل ڈائریکٹر کسٹم انٹیلی جنس رانا تسلیم اختر نے کہا کہ پی ایم ایس اے کے ساتھ کامیاب مشترکہ کارروائی کی گئی، مقدمہ درج ہونے کے بعد مزید تفتیش کی جائے گی،تفتیش کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے گا اور ہمسایہ ملک کے اداروں سے بھی بات کی جائے گی۔