اصلاحات نہ ہوئیں تو آئندہ کھلے عام ووٹوں کی فروخت ہوگی، سراج الحق

167

اسلام آباد (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ انتخابی اصلاحات نہ ہوئیں تو آئندہ الیکشن میں کھلے عام ووٹوں کی خرید و فروخت ہوگی ۔ زور اور زر کی بنیاد پر الیکشنز کے بعد عوام کی تکالیف میں مزید اضافہ ہوتاہے ۔ سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت لائیں اور انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے سنجیدہ رویہ اپنائیں ۔ وڈیرے ، جاگیردار ، سرمایہ دار عوام کے زخموں پر کب تک نمک چھڑکتے رہیں گے۔ ملک میں تعلیم و تحقیق کے میدان میں جمود کی سی کیفیت ہے ۔ پاکستان پر مسلط اشرافیہ نے جان بوجھ کر غریب کے بچے کو تعلیم سے محروم رکھا ۔ ایجوکیشن پر ریسورسز صرف نہ کرنے کی وجہ سے ملکی معیشت کو ریورس گیئر لگا اور ادارے کمزور ہوئے ۔ ملک میں یونیورسٹیاں اور کالجز تعمیر کرنے کے بجائے لنگر خانے اور پناہ گاہیں بن رہی ہیں ۔ مدارس دینیہ کے خلاف منظم سازشیں جاری ہیں ۔ جاگیرداروں اور وڈیروں کو مدارس اور یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات سے خطرہ ہے ۔ سیاسی جماعتیں کم از کم بنیادی اخلاقیات کو تو نہ بھولیں ۔اسمبلیوں کو اکھاڑوں کی طرح استعمال کیا جاتا رہاتو عوام کا اعتماد رہی سہی جمہوریت سے بھی اٹھ جائے گا ۔ لوگوں کو صاف پانی چاہیے ، کسان کو سستی کھاد اور بیج ۔ حالات ایسے ہی رہے تو مہنگائی اور بے روزگاری کا جن حکومت کو لے ڈوبے گا ۔ جماعت اسلامی فرد کے ذریعے معاشرے کی اصلاح چاہتی ہے ۔ طلبہ و طالبات سے اپیل کرتاہوں کہ وہ جماعت اسلامی کے دست و بازو بنیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے اسلام آباد کے مرکز تعلیم و تحقیق میں تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصر اللہ رندھاوا اور منتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ شمشیر خان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ سراج الحق نے ملکی اداروں کے زوال کی جانب سفر پر تفصیلی گفتگوکرتے ہوئے طلبہ کو بتایا کہ قیام پاکستان کے چند سال بعد ہی ملک کو کمزور کرنے کی بین الاقوامی سازشوں کا آغاز ہوگیا تھا ۔ مغرب اور استعماری طاقتوں نے ملک میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے حکومت کی اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ آج پاکستان کے تمام بڑے ادارے تباہی کے دہانے پر ہیں ۔ پی آئی اے ، ریلویز اربوں کے خسارے میںاور اسٹیل ملز تباہ ہو گئی ۔ تعلیم و صحت کے شعبے زوال کی جانب سفر کر رہے ہیں ۔غربت اور بے روزگاری نے لاکھوں گھروں میں ڈیرے جما رکھے ہیں ۔ ملک پر اربوں ڈالر کا قرض ہے ۔ اسمبلیوں میں عوامی نمائندے ایک دوسرے کے گریبان پکڑتے نظر آتے ہیں ۔ سیاست سے اخلاقیات کا خاتمہ ہوگیااور اداروں سے ایمانداری کا ۔ کرپشن اور لوٹ مار کے کلچر نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں ۔ پی ٹی آئی نے’’ احتساب سب کا ‘‘کا نعرہ لگا کر عوام کو دھوکا دیا ۔ سابق اور موجودہ حکمران ان تمام حالات کے ذمے دار ہیں ۔ امیر جماعت نے کہاکہ مارشل لاز اور سول حکومتوں کے تجربات سے یہی نتیجہ اخذ ہواہے کہ ملک کے مسائل کا حل موجودہ گھسے پٹے نظام میں نہیں ہے ۔ ملک کو اسلامی نظام چاہیے اسی مقصد کے لیے پاکستان کو حاصل کیا گیا تھا ۔ جماعت اسلامی عرصہ دراز سے پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ۔ ہماری کوششیں ضرور رنگ لائیں گی ۔ عوام کا اعتماد آزمائے ہوئے لوگوں سے اٹھ چکاہے ۔ جماعت اسلامی میں مکمل استطاعت ہے کہ پاکستان کو پٹڑی پر ڈال سکے ۔ جماعت اسلامی اعلیٰ جمہوری اقدار کی ضامن سیاسی جماعت ہے اور اس کی گواہی ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے بھی دی ہے ۔اس موقع پر انہوںنے ادارہ تعلیم و تحقیق کی کاوشوں کو سراہا اور جمعیت طلبہ عربیہ کے کردار کی بھی تحسین کی ۔ انہوںنے اس امید کا اظہار کیا کہ ادارہ تعلیم وتحقیق تعلیمی میدان میں بھر پور خدمات سر انجام دے گا اور جلد ایک تناآور درخت بن جائے گا ۔