کاٹن کی قلت یارن کی زائد قیمت ٹیکسٹائل کی پیداوار میں رکاوٹ ہیں ،پائما

97

کراچی( اسٹا ف رپورٹر)پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن( پائما) کے سینئر وائس چیئرمین محمد حنیف لاکھانی، وائس چیئرمین فرحان اشرفی نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بنیادی خام مال کاٹن یارن کی عدم دستیابی اور قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر بھارت سمیت دیگر ممالک سے یارن اور کاٹن کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی جائے تاکہ برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل کی جاسکے بصورت دیگر پرانے آرڈرز منسوخ ہونے کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیامیں پاکستان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی اور غیر ملکی خریدار پاکستانی برآمدکنندگان کو نئے آرڈرز بھی نہیں دیں گے۔ایک بیان میں پائما کے عہدیداروں نے کہا کہ کورونا وبا کے اثرات کے باعث بڑی تعداد میں چین، بنگلا دیش اور بھارت کے برآمدی آرڈرز پاکستانی برآمدکنندگان کو منتقل ہوئے جس کی وجہ سے پیداواری سرگرمیوں میں تیزی آئی تاہم اِن دنوں ٹیکسٹائل انڈسٹری کوپیداوری طلب کے مطابق خام مال نہ ملنے اور مقامی مارکیٹوںمیں یارن کی قیمت انتہائی بلند سطح پر پہنچنے سے لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے لہٰذااگر اس کا نعم البدل دوسرے ممالک سے تلاش کرتے ہوئے بھارت سمیت دیگر ممالک سے خام مال کی درآمد ات کا انتظام نہ کیا توجو برآمدی آرڈرز پاکستان کو منتقل ہوئے ہیں وہ پورے نہیںکیے جاسکیں گے جس سے بیرونی دنیا میں پاکستان کی ساکھ خراب ہوگی اور ہمیںنئے آرڈرز بھی نہیں ملیں گے۔ حنیف لاکھانی اور فرحان اشرفی نے حکومت سے یارن، کاٹن پر عائد ڈیوٹیز فوری ختم کرنے اور بھارت سمیت دیگر ممالک سے ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بھارت سے درآمدی یارن دیگر ممالک سستا پڑتا ہے اور سرحد کے ساتھ ہونے کی وجہ سے اس کے فریٹ چارجز بھی کم آتے ہیں نیز وقت بھی کم لگتا ہے۔