حفیظ شیخ کو اپ سیٹ شکست ‘گیلانی کامیاب( نتیجہ چیلنج کرنیکا اعلان)

257

اسلام آباد/کراچی/کوئٹہ /پشاور(نمائندگان جسارت+اسٹاف رپورٹر+خبرایجنسیاں)سینیٹ انتخابات میںاسلام آباد کی جنرل نشست پرحکومتی اتحاد کے مشترکہ امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اور پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے 169ووٹ حاصل کرکے میدان مار لیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومتی اتحاد کے پاس 181 جب کہ اپوزیشن نشستوں پر موجود جماعتوں کے پاس 160 نشستیں تھیں۔اس کے باوجود حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو صرف 164ووٹ مل سکے۔حکومت کے بعض اراکان نے بھی پی ڈی ایم امیدوار یوسف رضاگیلانی کو ووٹ دیے۔ریٹرننگ افسر کے مطابق 7 ووٹ مسترد ہوئے۔حکومت کے مطالبے پر دوبارہ گنتی کرائی گئی اس کے باوجود 5ووٹوں کا فرق برقرار رہا اور یوسف رضا گیلانی اسلام آباد سے سینیٹر منتخب ہوگئے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ غیر حتمی طور پر 7 ووٹ مسترد ہوئے ہیں اور 5 ووٹ کا فرق ہے۔ اپنے ٹویٹ میںانہوں نے اعلان کیا کہ اس نتیجہ کو چیلنج کریں گے۔علاوہ ازیں اسلام آباد سے خواتین کی نشست پرتحریک انصاف کی فوزیہ ارشد نے 174 ووٹ حاصل کیے اور سینیٹر منتخب ہوئیں، ان کی مدمقابل ن لیگ کی فرزانہ کوثر 161ووٹ حاصل کرسکیں۔ ایوان بالاکی 37 نشستوں میں سے تحریک انصاف 13نشستیں اپنے نام کرسکی جبکہ پیپلزپارٹی8، بلوچستان عوامی پارٹی6، ایم کیو ایم 2،جے یوآئی (ف)3،بی این پی مینگل 2 اوراے این پی کے2سینیٹرز منتخب ہوئے، بلوچستان سے پی ٹی آئی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار عبدالقادر بھی الیکشن جیتنے میں کامیاب رہے ، پنجاب سے 11سینیٹرزپہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں جن میں تحریک انصاف کے 5،پاکستان ن لیگ کے 5اور ق لیگ کا ایک امیدوار منتخب ہوچکا ہے۔سندھ سے پیپلزپارٹی نے ایک نشست زیادہ جیت کر سب کو حیران کردیا ۔پیپلزپارٹی نے 7 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔انتخابات مکمل ہونے کے بعد تحریک انصاف سینیٹ میں 26 نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت بن گئی جبکہ پیپلزپارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، اسی طرح ن لیگ 17 نشستوں کے ساتھ تیسری ،بلوچستان عوامی پارٹی 13 نشستوں کے ساتھ چوتھی ،جے یوآئی (ف) 5 نشستوں کے ساتھ چھٹی بڑی جماعت بن گئی ہے۔ پولنگ کا عمل صبح 9سے لے کر شام 5تک جاری رہا۔ 37 نشستوں پر78امیدواروں میں مقابلہ تھا، خیبرپختونخوا میں12نشستوں پر25، بلوچستان میں12نشستوں پر32،سند ھ میں11نشستوں پر17اوراسلام آباد میں2 نشستوں پر4 امیدواروں میں مقابلہ تھا۔ ریٹرننگ افسر کے مطابق قومی اسمبلی میں 341 میں سے 340 ووٹ ڈالے گئے۔بلوچستان اسمبلی میں تمام 65اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے۔ بلوچستان کی7جنرل نشستوں پر حکومتی اتحاد 5 پر کامیاب ہوگیا ہے جب کہ اپوزیشن نے سینیٹ کی 2 جنرل نشستیں حاصل کیں۔ بلوچستان میں7جنرل، 2ٹیکنوکریٹس، 2خواتین اور ایک اقلیت کی نشست پر32امیدواروں میں مقابلہ تھا ۔بلوچستان اسمبلی سے7جنرل نشستوں پر پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار عبدالقادر ،بی اے پی کے منظور احمد کاکڑ ، سرفراز احمد بگٹی، پرنس احمد عمر احمد زئی، جے یو آئی کے امیدوار مولانا عبدالغفور حیدری ، بی این پی (مینگل) کے محمد قاسم ، عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ارباب عمر فاروق منتخب ہوئے۔بلوچستان اسمبلی سے2 ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر بی اے پی کے سعید ہاشمی اور جے یو آئی کے کامران مرتضیٰ سینیٹرز منتخب ہوئے۔بلوچستان اسمبلی سے2 خواتین کی نشستوں پر آزاد امیدوار نسیمہ احسان اور بی اے پی کی ثمینہ ممتاز نشست جیتنے میں کامیاب رہیں جبکہ ایک اقلیتی نشست پر بی اے پی کے دِنیش کمار اقلیتی نشست پر کامیاب قرار پائے۔سندھ سے جی ڈی اے کے امیدوار پیر سیدالدین راشدی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔پیپلز پارٹی کے جنرل نشستوں پر 5، ٹیکنو کریٹ پر 1اور خواتین کی 1نشست پر امیدوار کامیاب ہوئے، تحریک انصاف نے 1جنرل، 1ٹیکنو کریٹ جبکہ ایم کیو ایم نے 1جنرل اور 1خواتین کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔سندھ اسمبلی سے سینیٹ کی 11نشستوں پر انتخابات میں سندھ اسمبلی کے 168میں سے167اراکین نے حق رائے دہی استعمال کیا جبکہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن سید عبدالرشید نے پارٹی پالیسی کے تحت ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق 167میں سے 4ووٹ مسترد قرار پائے ہیں۔ خواتین کی 2نشستوں پر پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان اور ایم کیو ایم کی خالدہ اطیب خواتین کی نشست پر کامیاب قرار پائیں۔2ٹیکنو کریٹس کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک اور پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو ٹ سینیٹر منتخب ہوئے۔ سندھ اسمبلی سے 7 جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا، شیری رحمن، تاج حیدر ، جام مہتاب ڈہر، شہادت اعوان،ایم کیو ایم کے فیصل سبزواری اورپی ٹی آئی کے فیصل واوڈا نے کامیابی حاصل کی۔ خیبرپختونخوا سے سینیٹ انتخابات میں تمام 12 نشستوں کے غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے۔ خیبرپختونخوا کی 12نشستوں پر41 امیدوارمیدان میں مقابلہ تھا 7جنرل نشستوں پر 19،ٹیکنوکریٹ کی2 نشستوں پر8امیدوار ہیں جبکہ خواتین کی 2نشستوں پر9اور اقلیت کی ایک نشست پر 5امیدوار تھے ۔خواتین کی 2نشستوں پر پی ٹی آئی کی ثانیہ نشتر اور فلک ناز خواتین کامیاب قرار پائیں۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں2د ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر پی ٹی آئی کے دوست محمد محسود ٹ اورمحمد ہمایوں خان سینیٹرز منتخب ہوئے،اپوزیشن اتحاد کے امیدوار فرحت اللہ بابر ٹیکنوکریٹ کی نشست پرہار گئے۔پی ٹی آئی کے گردیپ سنگھ اقلیتی نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے۔خیبر پختونخوا اسمبلی سے 7جنرل نشستوں پر پی ٹی آئی کے، شبلی فراز، ، محسن عزیز، لیاقت ترکئی، ذیشان خانزادہ، فیصل سلیم ، اے این پی کے ہدایت اللہ خان اور جے یو آئی کے مولانا عطا الرحمن سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔ سینیٹ انتخابات کے لیے پنجاب کی تمام 11نشستوں میں امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے تھے۔ان 11نشستوں میں سے 5پرپی ٹی آئی، 5پر ن لیگ اور ایک پر ق لیگ کی امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔