فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ

172

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جب کہ فیصل واوڈا نے بطور رکن قومی اسمبلی استعفیٰ دے دیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوہری شہریت رکھنے والے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی جس میں فیصل واوڈا کے وکیل ، درخواست گزار کے وکیل اور نمائندہ الیکشن کمیشن پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران فیصل واوڈا کے وکیل نے عدالت کے سامنے استعفیٰ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ فیصل واوڈا نے آج صبح سینیٹ الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔فیصل واوڈا نے قومی  اسمبلی کی رکنیت ست استعفیٰ دے دیا جس کے بعد ان کے خلاف نااہلی کیس غیر مؤثر ہوگیا۔

درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر جہانگیر جدون نے کیس غیر مؤثر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ  فیصل واوڈا نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ کاسٹ کیا ہے۔ پہلے بھی بہت سے ارکان استعفیٰ سے چکے اور دوبارہ پارلیمنٹ میں آجاتے ہیں۔ جب تک اسپیکر استعفیٰ منظور نہ کرلے متعلقہ شخص یم این اے ہی تصور کیا جاتا ہے۔

بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ  فیصل واوڈا دوہری شہریت نہ رکھنے کا جھوٹا حلف دے کر صادق و امین نہیں رہے۔

مزید کہا گیا کہ ایسا شخص پارلیمنٹ کا ممبر نہیں ہوسکتا۔ ریکارڈ سے واضح ہے فیصل واوڈا کاغذات نامزدگی کی منظوری تک امریکی شہری تھے۔ 18 جون کو اسکروٹنی ہوئی، 25 جون کو فیصل واوڈا نے امریکی شہریت ترک کی۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا جھوٹا حلف جمع کرانے کے اپنے نتائج ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنائیں گے۔

عدالت میں موجود الیکشن کمیشن کے نمائندہ سے عدالت نے پوچھا کہ کاغذات جمع کرانے اور اسکروٹنی سمیت الیکشن کی کیا تاریخ تھی؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے 2018 کا الیکشن شیڈول طلب کرتے ہوئے نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

خیال رہے کہ فیصل واوڈا کے خلاف الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوہری شہریت کے معاملے پر نااہلی کیس کی سماعت ہورہی ہے۔ فیصل واوڈا تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سندھ سے سینیٹ کے امیدوار ہیں۔