مسلمان کبھی صحابہؓ کی توہین برداشت نہیں کرسکتا، مفتی طاہر مکی

20

ٹنڈوآدم (پ ر) بھٹ شاہ میں امیر معاویہ کی توہین پر ملک بھر میں احتجاج، گستاخوں کو پھانسی دینے، متنازع مجالس پر پابندی لگانے کا مطالبہ، تنظیم تحفظ ناموس خاتم الانبیاءپاکستان، شبان ختم نبوت سندھ، پاسبان ناموس صحابہؓ کی اپیل پر اسلام آباد، لاہور، ملتان، فیصل آباد، سکھر، لاڑکانہ، ٹنڈو آدم، سانگھڑ، بھٹ شاہ، دادو، حیدرآباد، کراچی، نوابشاہ سمیت ملک بھر میں مفتی محمد طاہر مکی، علامہ راشد خالد محمود سومرو، مفتی سعود افضل ہالیجوی، مفتی نافع مصطفی، مفتی ساجد انڈھڑ، حافظ میر اسامہ سموں، مولانا محفوظ الرحمن شمس، مولانا عبدالمجید ہالیجوی، قاری محمد عارف، حافظ عبدالرحمن الحذیفی، حافظ محمد فرقان انصاری، حافظ محمد ایمان سموں ودیگر سیکڑوں علماءوخطباءنے مساجد میں جمعہ کے اجتماعات اور جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹ شاہ میں جلیل القدر صحابی امیر معاویہ کی کھلے عام توہین کی گئی۔ امیر معاویہ بلند پایہ صحابہؓ میں شامل ہیں جبکہ کوئی مسلمان کسی ادنیٰ صحابی کی جوتی کی توہین بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ مفتی محمد طاہر مکی نے کہا کہ ہمارا منشور اتحاد امت ہے لیکن یہ ذاکرین ہمیشہ امت میں انتشار پیدا کرتے ہیں، ان کا راستہ روکنا اب ضروری ہوچکا ہے۔ رواں سال میں توہین صحابہؓ کی یہ دوسری لہر ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ شیعہ برادری میں امن پسند علماءکو آگے آنا ہوگا۔ ہم حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر فی الفور بھٹ شاہ میں سیدنا امیر معاویہ کے گستاخ کو گرفتار کرکے پھانسی نہ دی گئی اور متنازعہ مجالس پر پابندی نہ لگائی گئی تو حالات کی تمام تر ذمے داری حکومت پر ہوگی۔ علماءنے عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کی ہے کہ سوموٹو ایکشن لیکر توہین صحابہؓ کو روکنے کے احکامات جاری کرے۔