مضبوط خاندان۔ محفوظ عورت۔ مستحکم معاشرہ

227

بنیادی طور پر مسلمانوں کو کنفیوز کر دیا گیا ہے اور اس ابہام کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنا رشتہ دین سے توڑ رکھا ہے کسی بجلی گھر سے کنکشن ٹوٹ جائے اور ہم خواہش کریں کہ گھر اور معاشرہ روشن رکھنے کی تو یہ ہرگز نہیں ہوگا بلکہ ناممکن ہوگا۔ یہ معاملہ معیشت کی ترقی، سماجی انصاف، ملکوں کے تعلقات، عالمی اور بین الاقوامی سطح پر مسلمان ملکوں کی بے توقیری سے لے کر ایک مسلم معاشرے میں لین دین، رشتوں ناتوں اور آج کل کے نعرے مساوات مردو زن سب امور میں ہے، ان تمام شعبوں میں مسلمان ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں، ہر کچھ وقفے کے بعد وہیں کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے چلے تھے اور پھر اِدھر اُدھر دیکھنے لگتے آج ہمیں کہا جاتا ہے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر کام کرناچاہیے، چنانچہ جدید دور کے تقاضوں کے بجائے ایجنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی معاملہ مساوات مرد و زن کے نعرے نے مسلمانوں کے ساتھ کر رکھا ہے ہم اپنا ابہام دور کرنے کے بجائے اس نعرے کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں، کوا نان لے گیا کی صدا سن کر کوے کے پیچھے دوڑ لگا دی۔
مسئلہ یہ ہے کہ پھر کیا کریں اور ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ مغرب کے پاس ہمارے زور دار سماجی نظام کا نعم البدل نہیں ہے اور اس نے اپنے معاشرے سے اس نظام کی جڑیں عشروں قبل کم از کم ایک صدی قبل اکھاڑ پھینکی تھیں اور ان کی کوشش شعوری طور پر یہ رہی کہ اس کی جڑیں دوبارہ سر نہ اُٹھا سکیں۔ اپنے معاشرے کی تباہی کے بعد انہیں خطرہ ہوا کہ مسلم معاشرہ پھر اٹھ کھڑا نہ ہو۔ چنانچہ انہوں نے اسلحے کے بغیر جنگ کا فیصلہ کیا۔ ان کا ہتھیار پروپیگنڈہ ہے اور اس میں یہود و ہنود اور اسلام مخالف تمام عناصر ہمیشہ آگے رہے ہیں چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کو بتانا شروع کیا کہ رشتوں کے بوجھ سے نکلو، کس کس کا بوجھ اٹھائو گے۔ یہ پہلا حملہ تھا۔ ہمارا دین کہتا آخرت میں کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اب ہم میں سے جو لوگ آخرت کی جواب دہی کا احساس رکھتے ہیں اور اس دنیا میں ایک دوسرے کا بوجھ اٹھاتے ہیں، آخرت میں ان کا بوجھ ہلکا ہوگا۔ ہمارا دین آخرت کی تیاری سکھاتا ہے۔ مغرب دنیا کا انتظام، اور اس کو سب کچھ قرار دیتا ہے۔ ہمارا دین ماں باپ کے احترام، بزرگوں کے احترام کی بات کرتا ہے۔ مغرب انہیں اولڈ ہائوس میں ڈالتا ہے۔ اس جنگ میں مغرب نے مسلمانوں کے مضبوط ترین مرکز خاندان کو نشانہ بنایا اور خاندان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ خاندان کا مرکز عورت ہوتی ہے چنانچہ اسے اپنے مرکز سے ہٹانے کی سازش کی گئی۔ گھر سے باہرنکالا گیا، اسے ویمن امپاورمنٹ قرار دیا گیا۔ اب عورت گھر سے نہ نکلے تو زندگی گزارنا مشکل بنا دیا گیا۔ مغرب کی عورت کا یہی حال ہے۔ لہٰذا ہمارے خاندانی نظام پر حملہ کرنے کے لیے اس مرکز کے ایٹم (جوہر) عورت کو متزلزل کر دیا گیا۔ اس حملے کا اثر ایک صدی تک نہیں ہوا کیونکہ مسلمانوں کا خاندانی نظام مضبوط تھا لیکن جوں جوں پروپیگنڈہ مضبوط ہوتا گیا ہم اس حملے کا شکار ہو تے گئے۔
اور یہ حملہ مختلف جہتوں سے ہو رہا ہے کہیں ڈراموں کے ذریعے رشتوں کو بے توقیر اور مشتبہ بنایا جا رہا ہے اور کہیں ایسی خبروں کی تشہیر کے ذریعے جن میں رشتے مشتبہ ہو جائیں۔ اور اصل یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ عورت مجرد زندگی گزارے لیکن خاندانی بندھن سے آزاد ہے، اس قدر افسوس ناک جملے مسلمان عورت کے منہ سے نکلتے ہیں کہ میں تو اپنی بیٹی کی شادی ایسے گھر میں کروں گی جہاں نند بھاوج ہو نہ ساس سسر کے جھمیلے۔ یہ اضافی سامان (ایکسٹرا بیکیج) کیوں اُٹھائیں۔ بھول جاتے ہیں ’’ولاتزرو وازرۃ وزرۃ اُخریٰ‘‘۔ آج ایک دوسرے کے حقوق ادا کر دیے اور اپنے فرائض پورے کر دیے تو نہ صرف دنیا میں خیر و برکت اور اطمینان ہو گا بلکہ آخر ت میں بھی سرخروئی اور اطمینانِ دل نصیب ہوگا۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ حل کیا ہے؟ اس کا حل صرف یہی ہے کہ بجلی گھر سے کنکشن جوڑ دیں۔ بجلی گھر موجود ہے (دین) یہاں کرنٹ بھی ہے اور نیچے ہمارا بنیادی ڈھانچہ بھی۔ صرف اس کرنٹ یعنی دین اور آج کے خاندانی نظام کے ڈھانچے میں کنکشن پیدا کر دیں، اس نظام کی خوبی یہ ہے کہ اس میں از خود بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی ہے گویا یہ نظام سولر انرجی بھی دیتا ہے اب کرنا صرف یہ ہے کہ ہر چیز کو درست مقام پر فٹ کر دیا جائے، اللہ نے قرآن و سنت کے ذریعے ایک ایک چیز کا مقام بتا دیا ہے۔ مرد عورت کو ان کے میدان بتا دیے ہیں۔ حدود بتا دی ہیں۔ ماں کا مقام کیا ہے اسے اس کی جگہ دینی ہوگی ماں کو ماں بن کر بھی اور ساس بن کر بھی اپنے فرائض انصاف اور ایثار و قربانی کے ساتھ ادا کرنے ہوں گے جس سے گھروں کے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ اس پر سوال کہ میرے لیے اللہ اور رسول کے بعد کس کا احترام فرض ہے تو آپؐ نے تین مرتبہ کہا تمہاری ماں… تمہاری ماں… تمہاری ماں… اور چوتھی مرتبہ کہا کہ تمہارا باپ … لیکن عورت کے لیے شوہر کا احترام اس قدر رکھ دیا کہ اگر انسان کو سجدے کی اجازت ہوتی تو عورت شوہر کو سجدہ کرتی اور بیوی کا معاملہ یوں ٹھیک کیا کہ آخری خطبے میں تین مرتبہ فرمایا۔ لوگو عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، بیوی کو اس کا مقام اور عزت ملے گی، تب ہی وہ پر سکون رہ کر ایک پر سکون گھر کی بنیاد رکھ سکے گی اور اگلی نسل کی درست تربیت ہو جائیگی مرد کا احترام عزت و وقار عورت کو دینا ہو گا پھر گھر اور خاندان مضبوط ہوں گے۔ اسی طرح بزرگوں کا مقام ایسا ہے یہ دور کے رشتے دار بھی ہوں اگر ان کا احترام باقی ہے تو برکت ہی برکت ہے۔ سارے رشتے دو طرفہ خلوص کی بنیادپر پنپتے ہیں۔
خاندانی نظام کمزور ہو تو پگڑیاں سربازار اچھلتی ہیں اور گھروں کے معاملات چوک پر موضوع گفتگو بنتے ہیں۔ گھریلو اور خاندانی نظام مضبوط ہو تو وہی تنازعات طے کر ڈالتا ہے۔ بات گھروں سے باہر نکلتی ہی نہیں۔ جب دین کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق عورت مرد اپنے حقوق و فرائض میں توازن پیدا کر لیں گے تو مضبوط خاندان اور مستحکم معاشرہ وجود میں آئے گا اور یہی عورت کو تحفظ دے گا مغرب کے پیچھے چلی تو عورت کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا صرف خسارہ ہو گا۔