خاشقجی رپورٹ کی امریکی تلوار

285

جمال خاشقجی کے قتل کی رپورٹ کی صورت نائن الیون کے بعد سعودی عرب کی کلائی مروڑنے کے لیے امریکا کے ہاتھ میں ایک نیا ہتھیار آگیا ہے۔ امریکی تحقیقاتی اداروں نے نائن الیون کے واقعے کی ڈور کے تمام سرے سعودی عرب میں تلاش کیے تھے۔ سعودی عرب کے بعد اس کا دوسرا سزاوار پاکستان قرار پا یا تھا۔ امریکیوں کا خیال تھا سعودی سرمایہ اور خود کش پائلٹوں کی صورت افرادی قوت اور پاکستان کی سرپرستی میں طالبان کے علاقوں میں ہونے والی منصوبہ بندی نے نائن الیون کے محیّر العقول واقعے کو ممکن بنایا۔ انہی رپورٹوں کی بنیاد پر امریکا نے سعودی عرب اور پاکستان کو کبھی فرمائش تو کبھی دھمکی کے انداز میں ڈومور کہہ کر موجودہ حالت میں پہنچایا۔ اب جمال خاشقجی رپورٹ کا سعودی عرب کے خلاف اسی انداز سے استعمال ہوتا رہے گا۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں جمال خاشقجی کے قتل کی براہ راست ذمے داری سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر عائد کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جمال خاشقجی کو محمد بن سلمان کی ہدایت پرریپڈ انٹرونشن فورسز کے اہلکاروں نے قتل کیا۔
جمال خاشقجی ترکی النسل سعودی صحافی اور بااثر شخصیت تھے۔ جن کا خاندان سعودی عرب کے شاہی خاندان کے قریب سمجھا جاتا رہا ہے۔ جمال خاشقجی امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ تھے اور اپنے کالموں میں سعودی نظام اور حکمرانوں پر ہلکی پھلکی تنقید بھی کرتے تھے۔ یہ بات ولی عہد محمد بن سلمان کو گوار ا نہیں تھی۔ جمال خاشقجی کو ترکی کے شہر استنبول کے سعودی قونصل خانے کے اندر داخل دیکھا گیا مگر گیٹ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں انہیں باہر نکلتے نہ دیکھا جا سکا۔ جس سے یہ خیال کیا گیا کہ انہیں سفارت خانے کے اندر ہی قتل کر کے باقیات کو تلف کیا گیا ہے۔ ترکی اور امریکا نے روز اول ہی سے اس قتل کی ذمے داری سعودی عرب پر عائد کی۔ یہ تنازع ترکی امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سنگین شکل اختیا ر کر گیا۔ سعودی عرب اور محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل سے لاتعلقی کا اظہا رکیا مگر بعد میں امریکی دبائو پر اس آپریشن میں شریک افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ کارروائی کے باوجود یہ کہا جاتا رہا کہ اس قتل سے محمد بن سلمان کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ قتل انٹیلی جنس اہلکاروں کا ذاتی فعل تھا۔ امریکا نے اس معاملے پر انٹیلی جنس رپورٹ تیار کرنے کا اہتمام کیا اور اب بائیڈن انتظامیہ نے یہ رپورٹ جاری کی ہے جس کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کا حکم براہ راست محمد بن سلمان نے دیا تھا۔ رپورٹ کے بعد امریکا نے کئی سعودی اہلکاروں پر پابندیاں عائد کیں مگر محمد بن سلمان کا نام اس فہرست میں شامل نہیں۔ رپورٹ کے اجرا سے پہلے امریکی صدر جوبائیڈن نے سعودی فرماں روا شاہ سلمان سے بات کی۔ انہوں نے شاہ سلمان کو دونوں ملکوں کے تعلقات کا مضبوط اور شفاف بنانے کا یقین دلا یا مگر اس گفتگو میں خاشقجی رپورٹ کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب جمال خاشقجی کے قتل کے بعد امریکا اور اس کے آزاد اداروں کی جانب سے شدید دبائو کا سامنا کر رہا تھا مگر ٹرمپ انتظامیہ اور ان کے اسرائیل نواز داماد اس دبائو کو سعودی عرب سے رعایتیں حاصل کرنے کے استعمال کر رہے تھے۔ انہی میں ایک رعایت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے پاکستان پر پڑنے والا حالیہ دبائو تھا۔ سعودی ولی عہد امریکا کی اسرائیل نواز لابی کو خوش کرنے کے لیے پاکستان جیسے اہم ترین مسلمان ملک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا تحفہ پیش کرنا چاہتے تھے۔ اسی کوشش میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں شدید بگاڑ بھی دیکھا گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کا بستر گول ہونے کے بعد حالات تبدیل ہوگئے اور امریکا نے سعودی عرب کی کلائی مروڑنے کا سلسلہ شروع کیا تو خاشقجی رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ بھی اسی پالیسی کا حصہ بنا۔ اس عرصے میں سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر اور چین کے ساتھ رابطے مضبوط کرنے کی کوششیں شروع کیں جس سے امریکا میں یہ خدشات پیدا ہوئے کہ سعودی عرب امریکا کے کسی غیر ضروری دبائو کے باعث چینی کیمپ کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہ تاثر کسی حد تک درست ہے۔ سعودی عرب ابھی تک امریکا اور چین کے درمیان حیران وششدر کھڑا ہے۔ ایک طرف سی پیک کی چکا چوند ہے تو دوسری طرف امریکا کے ساتھ برسوں پرانا یارانہ۔ اس لیے سعودی عرب دو قدم ایک سمت میں اُٹھاتا ہے تو دوقدم دوسری جانب۔ اس لیے امریکا نے خاشقجی رپورٹ کو اب سعودی حکمرانوں کے سر پر تلوار بنا کر لٹکا دیا ہے۔ بالخصوص سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جو بڑی حد تک فیصلہ سازی پر حاوی ہوچکے ہیں اب مستقل واچ لسٹ میں آچکے ہیں۔ اس رپورٹ کے ذریعے اب سعودی عرب کو مستقل بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کیا جا ئے گا اور سعودی عرب کو چین کے کیمپ کی طرف جانے سے روکا جائے گا۔ جب بھی اسے محسوس ہوگا کہ سعودی عرب امریکی اثر رسوخ سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہا ہے تو خاشقجی قتل کیس کی رپورٹ کی گرد جھاڑ کر ولی عہد کو کنٹرول کیا جا تا رہے گا۔ امریکا اس طرح کی حکمت عملی مختلف ملکوں میں اختیا ر کرتا آیا ہے۔