۔’’ووٹ لو، عزت دو‘‘۔

286

میں نے پاکستانی انسان کی حیثیت سے جب سے اس دنیا میں آنکھیں اور کان کھولے تب سے اپنے آپ کو سیاسی، غیر سیاسی، پیداواری اور غیر پیداواری، تعمیری اور تخریبی، قابل ِ قبول اور بے حد فضول نعروں کے جلو میں پایا۔ کبھی ہمارے کانوں میں صدا آئی کہ پاکستان کی ترقی کی عکاس ’’ڈیکاراما‘‘، کبھی سنا کہ ہم ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، پھر آوازہ لگایا گیا کہ: ’’اْدھر تم، اِدھر ہم‘‘، پھر سنایا گیا کہ امریکا سپر پاور، دوسری جانب سے انتباہ یوں بلند ہوا کہ ’’امریکا کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے‘‘، پھر قوم کو سمجھایا گیا کہ ’’کرش انڈیا‘‘ مگر کچھ ہی برسوں کے بعد باور کرایا گیا کہ ’’ہندوستان، پسندیدہ ترین قوم‘‘ یعنی ’’ایم ایف این‘‘ یعنی ’’موسٹ فیورڈ نیشن‘‘۔ پھر سمجھایا گیا کہ پاک وہند کے مابین ’’دوستی بس‘‘ اور کچھ عرصے کے بعد بات یہ سمجھ میں آئی کہ ’’دوستی… بس‘‘، وہ وقت بھی آیا جب عوام سے کہا گیا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ ایسا ہی ہوا، الحمدللہ، ایٹم بم بن گیا مگر سیاسی فنکاروں نے خود ملکی خزانہ کھایا اور عوام کو گھاس کھلائی۔ اب قوم کے جذبہ حب الوطنی سے کھلواڑ کا منصوبہ بنا تو نعرہ لگایا گیا ’’قرض اْتارو، ملک سنوارو‘‘، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ کبھی کہا گیا کہ ’’مانگ رہا ہے ہر انسان، روٹی، کپڑا اور مکان‘‘، پھر یقین دلایا گیا کہ ’’فلاں کے سر پہ ہل چلے گا، فلاں سر کے بل چلے گا‘‘ پھر شور اٹھا کہ فلاں ’’مجرم‘‘ کو پھانسی دے دی گئی مگر دوسری جانب سے آواز آئی کہ ’’پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا‘‘۔ پھر قوم کو باور کرایا گیا کہ جسے عدالتی حکم پر پھانسی دی گئی تھی، وہ زندہ ہے، زندہ ہے، زندہ ہے پھر سوالیہ نعرہ دیا گیا کہ ’’ہر گھر سے فلاں نکلے گا، تم کتنے فلاں ماروگے؟ پھر راگ الاپا گیا کہ ’’کم بچے، خوشحال گھرانہ‘‘، جب بات عوام کی سمجھ میں نہ آئی تو انہیں دوسری طرح سمجھایا گیا کہ ’’بچے، دو ہی اچھے‘‘، کبھی ملک میں پڑھے لکھوں کی تعداد میں کروڑوں کا اضافہ کرنے کے لیے نعرہ عطا ہوا ’’نئی روشنی اسکول‘‘، پھر چشم ِ فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب عوام کے سامنے ٹیلی وژن پر گا گا کر یقین دہانی کرائی گئی یعنی ’’غنائی تیقن‘‘ دلایا گیا کہ ’’پولیس کا ہے فرض، مدد آپ کی، کیجیے ان کی دل سے مدد آپ بھی‘‘ مگر آج تک اس نعرے کا ایک بھی حرف سچا ثابت نہیں ہو سکا۔ ایسے نعروں کی یہ چند مثالیں ہیں۔
ان نعروں کے علاوہ ہم جیسے وطن کے محبان کو یہ بھی پڑھایا اور رٹایا گیا کہ سیاست معزز ہے، سیاستدان معزز ہے، پارلیمان معزز ہے، رکن پارلیمان معزز ہے، عادل معزز ہے، عدل کا ایوان معزز ہے، وزیر معزز ہے، اس کا قلمدان معزز ہے، افسر معزز ہے اس کا فرمان معزز ہے اسی طرح: پولیس کا سپاہی معزز ہے، جھوٹے کی گواہی معزز ہے، لڑکی جو ہو بن بیاہی معزز ہے، منزلِ عشق کا راہی معزز ہے، استاد کی چھڑی معزز ہے، حزب اختلاف کی اڑی معزز ہے، بیگم ہو اگر شوہر سے بڑی، معزز ہے، وقت کا درست پتا دینے والی گھڑی معزز ہے، حد تو یہ ہے کہ حیوان معزز ہے، بے جان معزز ہے، قبرستان معزز ہے، دل پر لگی چوٹ معزز ہے، ضمیر خریدنے والا کرنسی نوٹ معزز ہے۔ ہمارے ہاں اکثر سیاستدان، مجبور ومقہور ووٹر کو یوں بے توقیر کرتے ہیں کہ اسے ایک ہاتھ سے قیمے والا نان تھماتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے اس کا ووٹ اینٹھ لیتے ہیں اور ایوان میں جا گھسنے کے اہل قرار دے دیے جاتے ہیں پھر وہ پانچ سال تک معصوم و مظلوم عوام کوبہلانے کے لیے انہیں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ جیسا لا یعنی و بے معنی نعرہ رٹاتے رہتے ہیں۔ کوئی انہیں یاد کراتا ہے کہ ’’شفاف شفیف کے فرمان پر جان بھی قربان ہے‘‘، کہیں سے صدا آتی ہے کہ ’’شفیف تیرے جاں نثار، بے شمار بے شمار‘‘، کبھی سیاستداں کو گمراہ کرنے کے لیے عوامی تائید کا ڈھونگ یوں رچایا جاتا ہے کہ ’’قدم بڑھائو ’’شفاف شفیف‘‘ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔
’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ عوام کو رٹانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ جن کے لیے سیاست بنی، سیاستدان بنا، حکومت بنی، ایوان بنا، پولیس بنی، چالان بنا، قانون بنا، میزان بنا، یہ وطن یہ پاکستان بنا، وہ اصل میں معزز ہیں، وہ لائقِ تکریم ہیں، ان سے جھوٹ نہ بولیے، انہیں اپنے قدموں میں نہ رولیے، آج تبدیلی آ چکی ہے، اب عوام ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ نہیں لگائیں گے بلکہ ایوان میں داخلے کے خواہش مندوں کو جو نعرہ لگانا پڑے گا، جسے مقصد حیات بنانا پڑے گا، جسے رٹنا اور رٹانا پڑے گا وہ نعرہ ہے ’’ووٹ لو، عزت دو‘‘ کیونکہ اصل عزت و توقیر کی حقدار تو وہ ہستیاں جن کے ووٹوں سے سیاستدانوں کو عزت میسر آتی ہے۔ افسوس کہ 74سال سے ہمارے وطن میں ظلم و جبر کا یہ سلسلہ جاری ہے کہ جن کے ووٹوں سے سیاسی ہستیاں عزت و توقیر پاتی ہیں، مسندِ اختیار ملنے پرانہی کو بے توقیر کرنے میں مگن ہو جاتی ہیں۔