غالب

149

محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندّی کے نغموں سے سکْوتِ کوہسار
تیرے فردوسِ تخیّل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اْگتے ہیں عالم سبزہ وار

hacklink satış
hacklink panel
instagram takipçi hilesi
hacklink
seo