قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

126

اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔ کہ یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ایک محفوظ کتاب میں ثبت۔ جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو۔ اور اِس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اِسے جھٹلاتے ہو؟۔ تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے،۔ اْس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اْس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے۔ اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اِس خیال میں سچے ہو۔(سورۃ الواقعۃ:76تا86)۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی ہر نماز کے بعد سبحان اللہ تینتیس مرتبہ، الحمدللہ تینتیس مرتبہ اللہ اکبر تینتیس مرتبہ کہے جن کا مجموعی عدد ننانوے ہو اور سو کے عدد کو پورا کرنے کے لیے ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئٍ قدیر کہے تو اس کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر (یعنی بہت زیادہ) ہوں۔ (صحیح مسلم)۔