لگتا ہے ہم پاکستان میں نہیں گٹر میں رہتے ہیں‘ جسٹس فائز عیسیٰ

151

اسلام آباد (صباح نیوز) عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے کیس میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آج ہم پاکستان میں نہیں گٹر میں رہ رہے ہیں‘ صحافیوں پر تشدد ہوا کسی نے انکوائری تک نہیں کی‘ ذمے داروں کا نام بتائوں تو میرے خلاف ریفرنس آجائے گا‘ سانحہ مشرقی پاکستان پر بات کی جائے تو خاموش کرادیا جاتا ہے۔ منگل کو عدالت عظمیٰمیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستوں کی لائیو کوریج سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ اپنے دلائل کے آغاز میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت سے کہا کہ جہاں آپ کو محسوس ہوکہ میں حد پار کر رہا ہوں تو مجھے روکا جائے۔ اس پر جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ججز کی ایک ذمے داری صبر اور تحمل کرنا بھی ہے‘ اگر کچھ لوگ آپ کے خلاف ہیں تو آپ کے حامی بھی ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عمران خان، عارف علوی اور وزرا ذاتی حیثیت میں گفتگو کرسکتے ہیں تو میں بطور جج ذاتی حیثیت میں بھی گفتگو کیوں نہیں کرسکتا؟ 2 سال سے میرے خلاف حکومتی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے‘ مسئلہ10 لاکھ تنخواہ کا نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کا ہے اور میں یہ جنگ اپنے ادارے کے لیے لڑ رہا ہوں۔ اپنے دلائل کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جذباتی ہوگئے اور عدالت سے سوال کیا کہ اگر میری جگہ آپ کی اہلیہ اور بچے ہوتے تو آپ لوگ کیا کرتے؟ کل کو کسی بھی جج کو پروپیگنڈے میں گھسیٹا جاسکتا ہے‘ قائد اعظم اور میرے والد کی روح قبر میں تڑپ رہی ہوگی‘ ایک فوجی ڈکٹیٹر کی اقتدار کے ہوس نے ملک تباہ کردیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جج صاحب یہ قانون کی عدالت ہے‘ ہم نے مقدمات کے فیصلے کرنے ہیں‘ آپ کو کسی سے مسئلہ ہے تو اسے عدالت سے باہر رکھیں‘بہتر ہوگا کہ ہم اپنی حدود سے باہر نہ نکلیں۔ جسٹس منظور ملک نے کہا کہ قاضی صاحب جذباتی نہ ہوں‘ کیس پر فوکس کریں۔ بعد ازاں عدالت نے جسٹس قاضی کے دلائل کے دوران ہی سماعت آج (بدھ تک) ملتوی کردی۔