دو سالہ ڈگری پروگرام کی بندش کا فیصلہ جامعات کے حقوق اور صوبائی خودمختاری پر حملہ ہے

326

کراچی (رپورٹ: حماد حسین)2 سالہ ڈگری پروگرام کی بندش کا فیصلہ جامعات کے حقوق اور صوبائی خودمختاری پر حملہ ہے‘ اس پروگرام کی بندش طبقاتی تعلیمی نظام کی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش ہے‘ ایچ ای سی نے متوسط طبقے کی تعلیم کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جو کمزور معاشی حا لت کے باوجود اپنی تعلیمی صلاحیت کو بڑھانا چاہتا ہے ان کی تعلیم دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے‘ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے2 سالہ ڈگری پروگرام کی بندش کا فیصلہ جامعات کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار سپلا ٹائم اسکیل کے چیئرمین پروفیسر ظفر یار خان، جامعہ کراچی کے شعبہ کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ریاض اور جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اسامہ شفیق نے نمائندہ جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’2 سالہ ڈگری پروگرام کی بندش سے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟‘‘۔ پروفیسر ظفر یار خان کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی کی جانب سے 2 سالہ ڈگری پروگرام کی بندش سے معاشرے میں صرف2 طبقے پیدا ہوں گے ایک رولینگ کلاس (وہ طلبہ جن کے پاس لاکھوں روپے فیس دینے کے لیے ہوں گے) اور دوسری لیبر کلاس (وہ طلبہ جن کے پاس لاکھوں روپے فیس دینے کے لیے نہیں ہوں گے اور وہ صرف انٹرمیڈیٹ پاس رہیں گے)‘ حکومت تعلیمی شعبے سے جان چھڑانا چا ہتی ہے اور تعلیم کو پیسے بنانے والی صنعت کا درجہ دینا چا ہتی ہے جبکہ آئین پاکستا ن کے مطابق تمام پاکستانیوں کی تعلیم اور صحت کی ذمے داری ریا ست کی ہے‘ 2 سالہ ڈگری پروگرام کی اچانک بندش سے طلبہ و طالبات شش و پنج میں مبتلا ہیں‘اس طرح کالجز کو بند کرنے کی سازش کی گئی ہے کیونکہ ڈگری پروگرام کے بند ہونے کے بعد وہ صرف انٹرمیڈیٹ کلاسز تک محدود ہوجائیں گے‘ ایچ ای سی کی جانب سے2 سالہ ڈگری پروگرام کی بندش اور 4 سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کی پالیسی بناتے وقت یہ نہیں سوچا گیا کہ طلبہ و طا لبا ت کی کتنی بڑی تعداد اس پالیسی کے نتیجے میں مشکلات کا شکار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لوئر مڈل کلاس کے ہزاروں طلبہ 2 سال میں بہت مشکل سے گریجویشن کی ڈگری حا صل کرکے اس ڈگری کی بنیاد پر اپنے معاشی کیرئر کا آغا ز کر تے ہیں با قی سیکڑوں طلبہ جامعات سے مزید2 سال کی پوسٹ گریجویشن کی ڈگری (ماسٹر ڈگری) حاصل کرکے بہتر نوکری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نئی پالیسی سے ان لڑکیوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد متاثر ہوگی جو پاکستان کے مخصوص ثقافتی ماحول میں اپنے قریب ترین ڈگری کالج میں بحیثیت ریگولر امیدوار کے طور پر اپنی تعلیمی قابلیت بڑھاتی ہیں‘ اسی طرح گھر بیٹھ کر بھی ہزاروں لڑکیاں پرائیوٹ امیدوار کے طور پر اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرتی ہیں‘ مگر افسوس ایچ ای سی جیسے ادارے چند روپوں کی خاطر مستقبل کے معماروں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں‘ 2 سالہ ڈگری پروگرام کو بند کرنے سے کراچی کے 147گورنمنٹ کالجز کے ایک لاکھ سے زاید انٹرمیڈیٹ کے طلبہ اور سندھ کے 2 لاکھ سے زاید طلبہ پر تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے‘ 2020ء میں صرف انٹر میڈیٹ بورڈ کراچی کے147گورنمنٹ کا لجز کے کل 1,31,314 طلبہ و طا لبات نے انٹر پاس کیا ہے جس میں سا ئنس کے62,731، کامرس کے 47,067 اور آرٹس کے 21,516 طلبہ و طالبات شامل ہیں) ہزاروں پرائیویٹ طلبہ و طالبات اس کے علاوہ ہیں ۔ کراچی میں موجود تمام جامعات (میڈیکل، انجینئرنگ اور جنرل) میں16,178طلبہ کے داخلے کی گنجائش ہے ۔ کراچی کے با قی1,15,136 طلبہ و طالبات گریجویشن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کہاں داخلہ لیں گے‘ اسی طرح 2020ء میں انٹرمیڈیٹ بورڈ حیدرآبا د کے کل51,350 طلبہ وطالبات نے انٹر پاس کیا ہے۔ جامعہ سندھ جام شورو میں3300 داخلوں کی گنجا ئش ہے‘ حیدر آبا د کے باقی 48,050 طلبہ وطالبات گریجویشن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کہاں داخلہ لیں گے۔ سندھ کے5 تعلیمی بورڈز کے انٹر پاس طلبہ کی کل تعداد 2,70,496 ہے اور سندھ کی تمام سرکاری اور نجی جامعات میں36,000 داخلوں کی کل گنجا ئش ہے‘ باقی2,34,496 طلبہ و طالبات گریجویشن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کہاں داخلہ لیں گے۔ کیا وہ اپنی تعلیم کو خیر با دکہہ دیں ؟ کیو نکہ وہ اس ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام میں داخلہ لینے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں‘ موجودہ مہنگائی کے دور میں ان کے والدین کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ پہلے2 سال کالجز کی فیسیں دیں‘ اس کے باوجود بھی انہیں کوئی ڈگر ی حاصل نہ ہو پھر وہ مزید 2 سال جامعات کی بھاری فیسیں ادا کر یں‘ متوسط طبقے کی تعلیم نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جو کمزور معاشی حالت کے باوجود اپنی تعلیمی صلاحیت کو بڑھانا چاہتا ہے ان کی تعلیمی دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے‘ ایچ ای سی نے کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر2 سالہ ڈگری پروگرام کو بند کریں اور4 سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری کو فی الفور نافذکریں۔ ڈاکٹر ریاض کا کہنا تھا کہ 4 سالہ ڈگری پروگرام کے اثرات یہ ہوں گے کہ طلبہ کے 2 تعلیمی سال بڑھ جائیں گے اور دوسرا یہ کہ طالبعلم کو شروع کے2 سال جنرل مضامین پڑھائے جائیں گے‘ وہ اردو، اسلامیات اور انگلش پڑھے گا جو انتہائی تباہ کن ہے ‘ بہت سے لوگوں کے لیے یہ ناممکن ہو جائے گا‘2 سال کے اختتام پر ہی کالج یا یونیورسٹی فیصلہ کرے گی کہ یہ طالبعلم آگے کیا پڑھے گا‘ اتنا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کسی اساتذہ تنظیم یا ادارے سے مشاورت نہیں کی گئی جو مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا کورس پڑھایا جائے؟کون سی ڈگری دی جائے؟ کتنے سال کی دی جائے؟ اور کس کو دی جائے؟ ان باتوں کا فیصلہ دنیا بھر میں یونیورسٹیز اور ان کی اکیڈمک کونسل کرتی ہیں اور ان کے فیصلوں کی تصدیق سینڈیکیٹ کا فورم کرتا ہے‘ اکیڈمک کونسل میں پروفیسر صاحبان،کالجوں کے نمائندے اور دیگر افراد ہوتے ہیں اور کونسل کا بنیادی کام ہی نصاب کو ترتیب دینا اور نئے کورسز کے اجرا کے معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے جب آپ اس کا کام بھی کریں گے تو مسائل پیدا ہوںگے‘ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے2 سالہ ڈگری پروگرام کی بندش کا فیصلہ اصل میں جامعات کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔اور دوسری بات یہ ہے کہ اب ایچ ای سی یونیورسٹی کے اساتذہ کو بتا رہا ہے کہ ان کو کیا پڑھانا ہے۔جوکہ صحیح بات نہیں ہے کیونکہ اساتذہ مارکیٹ کو سامنے رکھ کر اپنے طلبہ کو تیار کرتے ہیں‘ ہمارے کالج صوبائی حکومت کے ذمے آتے ہیں اور وہی اس کا نظم ونسق چلاتی ہے۔ اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ صوبائی خودمختاری کے بھی خلاف ہے‘4 سالہ ڈگری پروگرام سے وہ پرائیوٹ طلبہ جو مختلف یونیورسٹیز میں داخلہ لیتے ان پر بھی تعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں‘صرف کراچی یونیورسٹی سے ہر سال ایک لاکھ سے زاید طلبہ امتحانات میں شرکت کرتے ہیں‘ ان تمام طلبہ کو کسی نہ کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ لینا پڑے گا‘ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس گھرانے کے وہ بچے جو ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا حصول جاری رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے اب یہ نا ممکن ہو جائے گا۔ اسامہ شفیق کا کہنا تھا کہ 4 سالہ ڈگری پروگرام کے آنے سے پرائیوٹ بی اے، ایم اے ختم ہو جائے گا‘ کراچی کے ایک لاکھ سے زاید طلبہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات پاس کرتے ہیں ‘ 2 سالہ ڈگری پروگرام کی بندش کے باعث طلبہ کی بہت بڑی تعداد معاشی مسائل اور تعلیمی اخراجات کی وجہ سے تعلیم کو خیر باد کہہ دے گی‘ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تعلیم کی شرح کم ہے‘ اس اقدام سے مزید کم ہو جائے گی‘ دوسرا جو بہانہ بنایا جا رہا ہے کہ 4 سالہ ڈگری پروگرام کے باعث تعلیم میں بہتری ہو گی‘ اس کا جو نصاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے وہ بالکل وہی ہے جو 2 سالہ ڈگری پروگرام کا ہے‘4 سالہ کے نصاب میں 6 کریڈٹ آورز بڑھائے گئے ہیں۔جبکہ جامعہ کراچی سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں جو کریڈٹ آورز پڑھائے جا رہے ہیں وہ اس کے مساوی ہیں‘ تیسرا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ طالبعلم پہلے ڈیڑھ سال جنرل تعلیم حاصل کرے گا اور اس کے بعد اس کو کس شعبے میں جانا ہے اس کا فیصلہ کالج یا جامعہ کرے گی جبکہ پہلے یہ تھا کہ بچہ انٹر کے بعد اپنے انٹر کے نتائج اور اپنی پسند کے مطابق شعبہ کا انتخاب کرتا تھا۔ اس کی وجہ سے طالبعلم 2 سال تک ذہنی کوفت کا شکار رہے گا بلکہ اس کے بعد ایک نئے تنازع کی بنیاد بھی ڈالی جا رہی ہے کہ بچہ اور تعلیمی ادارے کے درمیان کھینچا تانی لگی رہے گی‘سول سرونٹ کی ملازمت کے لیے بھی کم از کم تعلیمی قابلیت بی اے یا بی کام ہے۔