قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

71

کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو۔ اِسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اِس کے برسانے والے ہم ہیں؟۔ ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے؟۔ کبھی تم نے خیال کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو۔ اِس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟۔ ہم نے اْس کو یاد دہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے۔ پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے مواقع کی۔ (سورۃ الواقعۃ:68تا75)

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسولؐ مجھے کوئی ایسا کام بتا دیجیے کہ اگر میں اس پر عمل پیرا ہوں تو جنت میں داخل ہو جاؤں، آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز پابندی سے پڑھو اور فرض کی گئی زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو، دیہاتی نے یہ سن کر کہا قسم ہے اس اللہ کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں کبھی اس میں کمی بیشی نہیں کروں گا پھر جب وہ پشت پھیر کر چلا گیا تو رسول اللہؐ نے فرمایا جس آدمی کو جنتی آدمی دیکھنے سے خوشی ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ (صحیح مسلم)