۔’’حقوق کراچی تحریک‘‘ ہر شہری کے حق اور مسائل کے حل کی تحریک ہے، حافظ نعیم

139
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان ،پروفیسر سلیم منصور خالد ادارہ نور حق میں اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ’’حقوق کراچی تحریک‘‘کراچی کے ہر شہری کے حقوق اور مسائل کے حل کی تحریک ہے ،کراچی منی پاکستان ہے اور یہاں ملک کے ہر علاقے اور زبان بولنے والے رہتے ہیں ،کراچی ترقی کرے گا تو پورا ملک ترقی کرے گا ،کراچی کی ترقی ،خوشحالی ،اہل کراچی کے گمبھیر مسائل کے حل اور3 کروڑ عوام کے جائز اور قانونی حقوق کے لیے اتوار 14مارچ کو شارع فیصل پر قائدآباد تا گورنر ہاؤس ’’حقوق کراچی ریلی‘‘ کا انعقاد کیا جائے گا اور گورنر ہاؤس پر ہی آئندہ کا لائحہ عمل بتایا جائے گا ،کارکنان اور ذمے داران ریلی کو بھرپور اور کامیاب بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات اور تیاریاں کریں اور ہر طبقے اور شعبہ زندگی سے وابستہ افراد سے رابطہ کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کراچی کے اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجتماع میں ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن کے نائب مدیر ،کئی کتابوں کے مصنف اور معروف اسکالر پروفیسر سلیم منصور خالد نے ’’جماعت اسلامی کامیابیاں اور اس کے اثرات ‘‘پرخطاب کیا ۔سیکرٹری کراچی منعم ظفر خان نے جماعت اسلامی کراچی کی دینی وسیاسی ،دعوتی وتنظیمی اور عوامی خدمات کی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی اور الیکشن سیل کے انچارج ونائب امیرجماعت اسلامی کراچی راجا عارف سلطان نے بھی خطاب کیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ حقوق کراچی تحریک کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے کیونکہ گزشتہ کئی سال سے جماعت اسلامی ہی واحد جماعت ہے جو کراچی کے بنیادی ایشو ز اور مسائل پر آواز اٹھارہی ہے ۔پیپلزپارٹی ،پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم سے کراچی کے عوام مایوس ہوچکے ہیں ۔حقیقت میں ان جماعتوں نے کراچی سے ووٹ تو لیے لیکن کراچی کے عوام کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا ۔جھوٹے وعدے ، بلند و بانگ دعوے اور بیانات تو بہت کیے لیکن عملاً اہل کراچی کے مفادات کے خلاف ان حکمران پارٹیوں نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے ۔پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے مل کر کوٹا سسٹم میں غیر معینہ مدت تک کے لیے اضافہ کیا اور نواز لیگ کے دور (2017ء)میں ہونے والی متنازع مردم شماری کو بھی وفاقی کابینہ سے منظور کرایا۔پیپلزپارٹی بھی اس مردم شماری کو درست تسلیم نہیں کرتی لیکن اسے درست کرانے کے لیے عملی طور پر بھی کچھ کرنے کو تیار نہیں ہوتی ،ا س میں کراچی کی آدھی آبادی کو غائب کردیا گیا ہے ۔مردم شماری کو درست کرنے کے بجائے اب نئی مردم شماری کی بات کی جارہی ہے ،پیپلزپارٹی اس مردم شماری کی بنیاد پر سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر تیار نہیں ہورہی اور کراچی سمیت سندھ بھر کے تمام بلدیاتی اداروں پر قابض رہنا چاہتی ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ جماعت اسلامی کی پبلک ایڈ کمیٹیاں آج شہر بھر میں فعال اور سرگرم ہیں ضروری ہے کہ ان کو نچلی سطح پر مزیدمنظم اور فعال بنایا جائے اور نچلی سطح پر ہی عوام بالخصوص نوجوانوں کو ساتھ ملاکر سرکاری اداروں اور متعلقہ حکام سے رابطے کریں ۔عوامی دباؤ پیدا کریں اور مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش اور جدوجہد کریں اسی طرح جماعت اسلامی کی تنظیم کو بھی بلاک کوڈز کی سطح پر منظم کریں ،توسیع دعوت ،تربیت و تزکیے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کے ساتھ میدان ِ عمل میں موجود رہیں۔پروفیسر سلیم منصور خالد نے کہا کہ جماعت اسلامی کی بنیاد قیام پاکستان سے قبل 1941ء میں رکھی گئی ،اس تحریک نے متحدہ ہندوستان میں اسلام کا پرچم اٹھایا اور اسلامی نظام کے قیام اور اقامت دین کی جہدوجہد کا آغاز کیا ۔مولانا مودودیؒ کی فکر اور فہم دین کے تصور سے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں نے فیض حاصل کیا ،آج یہ تحریک بھارت ، سابق مشرقی پاکستان (بنگلا دیش )سمیت پاکستان میں جاری وساری ہے ۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے شروع دن سے اقتدار کے حصول کو مقصد نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ،لوگوں تک اسلامی نظام کے قیام کے تصور سے متعار ف کرایا ،سیٹوں کی سیاست کبھی بھی جماعت اسلامی کی سیاست کی بنیاد نہیں رہی ،نہ ہونی چاہیے،مولانا نے مقدار سے زیادہ معیار کی تعلیم دی ہے ، کم تعداد کے معیاری لوگ زیادہ تعداد کے کم معیاری لوگوں سے زیادہ اچھا کردار ادا کرتے ہیں،مولانا مودودیؒ نے رکن جماعت بنانے کے لیے ایک معیار بنایا اور آج بھی جو اس پر پورا اترتا ہے اسے ہی رکن جماعت بنایا جاتا ہے ،رکن جماعت بننا ایک بہت بڑی ذمے داری ہے ، رکن کی طرح کارکن بھی بہت قیمتی ہے ،ملک میں قائم موجودہ نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے ، جماعت اسلامی کا مقصد جمہوری طریقے سے ملک میں اسلامی نظام قائم کرنا ہے ، اسلامی نظام کے قیام کے لیے سود سے پاک معیشت بھی ضروری ہے ،جماعت اسلامی نے ہمیشہ سود ی نظام کے خلاف بھی آواز بلند کی ہے،مولانا مودودیؒ نے ہی طلبہ کے اندر دعوت کے کام کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کی بنیاد رکھی اور ان کی کوششوں کی وجہ سے اسلامی نظام تعلیم کا تصور واضح ہوا ہے ، پہلے مدرسوں اور دارالعلوم کی تعلیم کو ہی اسلامی تعلیم تصورکیا جاتا تھا ۔