نظرثانی درخواستوں پر سماعت؛ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود دلائل دیے

149

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نہیں چاہتا کوئی اورساتھی کیس کے خاتمے تک ریٹائر ہوجائے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی تو جسٹس عمرعطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے سوال کیا کہ کیا آپ خود دلائل دیں گے؟  جس پر قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ان کے وکیل منیر اے ملک کی طبعیت ناساز ہے وہ عدالت نہیں آسکے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ ہم 2019 سے مشکل میں مبتلا ہیں، میں خود دلائل دوں گا، میں نہیں چاہتا کوئی اورساتھی کیس کے خاتمے تک ریٹائر ہوجائے یہ جج،سپریم جوڈیشل کونسل اورحکومت تینوں کے کنڈکٹ کی شفافیت کا معاملہ ہے میری درخواستوں کا تعلق سپریم جوڈیشل کونسل سے ہے،  ملک کے سربراہ نے ریفرنس چیف جسٹس پاکستان کو بھجوایا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریفرنس ملک کے اعلیٰ عہدیداران کے بیچ تھا تو پبلک کیسے ہوا؟ حکومت نے اب تک کوئی وضاحت نہیں دی کہ ریفرنس پبلک کیسے ہوا، اٹارنی جنرل کو عدالت میں موجود ہونا چاہیے تھا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل کو ابھی نوٹس نہیں جاری ہوا؟ جس پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چاہتا ہوں سماعت کو کل دوبارہ مقرر کیا جائے ریفرنس پبلک ہونے کے بعدمیری اورمیری اہلیہ کی تضحیک کی گئی۔

عدالت نے کہا کہ منیر اے ملک لکھ کردیں کہ کن وجوہات پر پیش نہیں ہوسکے جب کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل علالت کے سبب سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوسکے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچے بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔ عدالت نے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔