بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر کا خلاف قانون کنسلٹنٹ تقرر

37

کراچی ( رپورٹ محمد انور ) بلدیہ عظمیٰ کراچی میں مالی بحران کے باعث افسران سمیت ملازمین کے علاج کی مد میں ادا کیے جانے والے زرتلافی کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ دوسری طرف خلاف ضابطہ حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے من پسند افسر کی بحیثیت کنسلٹنٹ خدمات حاصل کرلی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد کی ہدایت پر مختلف امراض میں مبتلا ہونے والے افسران اور ملازمین کو نجی اسپتالوں میں علاج کرانے کی مد میں ادا کی جانے والی زر تلافی کو بند کردیا گیا ہے۔اس ضمن میں سینئر ڈائریکٹر میڈیکل و ہیلتھ سروسز ڈاکٹر عبدالحمید نے سرکلر جاری کردیا۔ سرکلر میں تمام ڈپارٹمنٹس کے ڈائریکٹر کو ہدایت کی گئی کہ مالی بحران سے میڈیکل زرتلافی کی کسیفائل پر کارروائی کی جائے اور نہ ہی ان کے دفتر کو بھیجی جانے۔ خیال رہے کہ کے ایم سی خود 13 بڑے اسپتالوں سمیت امراض قلب اور جزام کے اسپتال کا انتظام سنبھالتی
ہے، اس کے باوجود کے ایم سی کے افسران کی کوشش ہوتی کے کہ وہ شہر کے معروف نجی اسپتالوں میں علاج کرواکر کے ایم سی سے رزتلافی وصول کرلیں۔ اس طرح سالانہ سیکڑوں افسران اور مخصوص ملازمین اس سہولت سے فائدہ اٹھایا کرتے ہیں،جس سے بلدیہ عظمیٰ کو سالانہ کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری طرف مالی بحران کے باوجود حال ہی میں سینئر ڈائریکٹر اسپورٹس و کلچرل کی اسامی سے ریٹائرڈ ہونے والے خورشید شاہ کو ایڈمنسٹریٹر نے بحیثیت کنسلٹنٹ اسی محکمے میں رکھ لیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ریٹائرمنٹ کے بعد خدمات کے حصول کو خلاف قانون قرار دیا ہوا ہے، اش ضمن میں خلاف قانون خدمات انجام دینے والے سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم جمیل فاروقی نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح ہے کہ خورشید شاہ کی اعزازی بنیاد پر خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ تاہم ان کو دی جانے والی کوئی بھی سرکاری گاڑی معہ ڈرائیور اور پیٹرول کی سہولیات واپس نہیں لیں گئیں۔ اس طرح ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی اختیارات کا ناجائز استعمال کررہے ہیں۔