مضبوط خاندان مضبوط رشتے

74

نازش مرتضیٰ
ہم پچھلے کئی عشروں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا معاشرہ مستقل زبوں حالی کا شکار ہے اخلاقی، معاشی اور نظم و ضبط کے حوالے سے ہر کوئی خود کو مظلوم اور دوسرے فرد کو ظالم تصور کرتا ہے اپنی غلطیوں کا وکیل اور دوسرے کی غلطیوں کو جج کے طور پر دیکھتا ہے نظم و ضبط اور اخلاق کو تو ہم کہیں بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں.خاندان کى مضبوطی یا استحکام کو سب سے بڑا نقصان ہمارے معاشرے کو جب پہنچنا شروع ہوا جب مشترکہ خاندان سے ہم نے عليحدہ رہنے کو ترجیح دینا شروع کی،اکیلے رہنے والے خاندان پر ہر طرح کی ذمہ داری کا بوجھ آن پڑتا ہے معاشرتی رکھ رکھاؤ، بچوں کی تربیت گھر کے کاموں کا بوجھ ,یوٹیلیٹی بلز، گھر کے مختلف کام وغيرہ، اگر آمدنی اچھی ہو تو زندگی اچھی گزر نے لگتی ہے لیکن اگر شوہر کی آمدنی کم ہو تو خاتون خانہ کو بھی نوکری کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے بچے اور گھر دونوں متاثر ہوتےہیں ۔ناچاقی کى ابتداء ہوتى ہے۔ اب اگر بچوں کی تربیت اور گھر متاثر ہو تو کس طرح مستحکم خاندان اور بہتر معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے؟اس کے برعکس ایک مشترکہ خاندان اس لحاظ سے بہتر ہوتا ہے کہ افراد زیادہ ہونے کی وجہ سے ذمہ داریاں بھی تقسیم ہو جاتی ہیں کسی ایک فرد پر کام کا بوجھ نہیں ہوتا اسی طرح گھر کے اخراجات بھی بڑوں اور بزرگوں کی معاونت سے تقسیم ہو جاتے ہیں، یہ فائدہ تو صرف معاشی طور پر ہے۔ لیکن اگر ہم اس ماحول کا باریک بینی سے موازنہ کریں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ اس ماحول میں بچوں کی تربیت بھی خاصی بہتر ہوسکتى ہے،معاشرتی طور سے بھی اور اسلامی طور سے بھی کیونکہ گھر کے بزرگ و بڑے دادا , دادی، تایا، تائی وغیرہ بچوں کو اچھی اور بری باتیں بتاتے ہیں اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہیں جو کہ آگے چل کر ان کی عملی زندگی میں کام آتے ہیں۔اسی طرح چچا، تایا، کے بچوں کے ساتھ رہنے سے آپس میں دوستی، برداشت اور صبر کے جذبے بھی پروان چڑھنے لگتے ہیں اور اگر آپس میں لڑائی جھگڑا ہو جائے تو گھر کے بزرگ سمجھا کر معاملے کو رفع دفع کرتے ہیں۔
مختلف رشتے داروں کا آنا جانا بھی گھر میں لگا رہتا ہے جس کی وجہ سے مہمان نوازی اور خاندان میں لین دین اور رشتہ داروں کے حقوق سے آگاہی ملتی ہے۔
اسى طرح گھر کے کاموں میں معاونت یعنی دیورانی اور جیٹھا نی مل کر کرتی ہیں تاکہ کسی ایک پر کاموں کابوجھ نہ پڑے،کئى گھرانوں میں تو کاموں کو دنوں کے حساب سے تقسیم کر لیا جاتا ہے۔
مشترکہ خاندانوں میں اکثر ایک سے دو کھانے پکتے ہیں اگر کسی ایک کھانا پسند نہ بھی ہو تو دوسرے کی پسند کو مد نظر رکھ کر یا گھر کے بڑوں کے ڈر سے کھا ہی لیا جاتا ہے۔
مگر افسوس کى بات يہ ہے کہ آج کل کا يہ خاندانى نظام ناپيد ہوچکا ہے آج کل تو اکثر لوگ مشترکہ خاندان مجبوری یا دلوں میں عداوتیں اور جھگڑے لیے ہوئے ہوتے ہیں یعنی آج کل لوگ خاندان کی صورت میں رہتے تو ہیں مگر مستحکم خاندان کی طرح نہیں جو کہ نہ صرف سماجی رویوں ,معاشرتی رابطوں اور معاشرتی اقدار میں بگاڑ کا باعث بن رہے ہیں بلکہ ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد میں بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ایک گھر اور خاندان کو چلانے کے لئے بھی ایک بہترین اور مدبّر سربراہ کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ غیر جانبدار ہوکر گھر اور خاندان کو ساتھ لے کر چلے۔ گھر کے ہر فرد کے لیے ایک جیسے اصول و ضوابط ہوں ۔
خاندان کومضبوط کرنے کے لیے ايک نقطے کو ہميں انفرادى و اجتماعى طور پر سمجھنے کى ضرورت ہے کہ اسلام میں حق طلبی کی بات نہیں ہر جگہ ادائیگی حقوق کی بات کی گئی ہے اور شايد مضبوط خاندان کى اينٹ بھى يہى ہے۔