پاکستانی نصاب تعلیم کیخلاف مغربی طاقتوں کے منصوبے

113

(آخری حصہ)

اسی باب میں شادی اور نکاح کے موضوع پر بتایا گیا کہ مذہبی معاشروں میں مرد اور عورت کو شادی کے سلسلے میں فیصلہ کن اختیار نہیں دیا جاتا۔ عموماً مرد کے اس آزادانہ فیصلے کو تو تسلیم کر لیا جاتا ہے لیکن عورتوں پر کئی پابندیاں عائد ہیں اور وہ اپنے آزادانہ فیصلہ کرنے میں خود مختار نہیں۔ ایک طرف قرآن و سنت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ والدین اس بات کے پابند ہیں کہ بچوں اور بچیوں کا نکاح ان کی رضامندی سے کریں اور دوسری طرف ان مغربی تصورات کی وکالت کی گئی ہے جو مغرب میں خاندانی نظام کا خاتمہ کر چکے ہیں۔
مغرب میں فیمنسٹ تحریک کا سارا زور اس بات پر ہے کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان خلیج پیدا کی جائے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر عورتوں کو مردوں سے نفرت کرنے پر ابھارا جا رہا ہے۔ وہاں جو مرد، مذہبی و روایتی اقدار، ثقافت اور معاشرت پر قائم رہنے پر مصر ہیں ان کے اس رویے کو ’’زہریلی مردانگی Toxic Masculinit‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ پنجاب بورڈ کی انٹر میڈیٹ کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں بھی اسی اصطلاح کو استعمال کیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ زہریلی مردانگی، مردانہ برتری کا منفی رجحان ہے، جس کے تحت خواتین کو مردانہ بالادستی کا احساس دلا کر ان پر جارحیت، رعب اور دبدبہ سے نظم و ضبط قائم کیا جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مردانہ برتری کے اظہار کو چونکہ معاشرہ اور مذہب تقویت دیتا ہے اس لیے خواتین بھی اس پر یقین کر لیتی ہیں اور یہ عمل خواتین کے اکیلے سفر کرنے، حصول تعلیم، ملازمت کرنے اور اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔ اس موقع پر ایک مرتبہ پھر اسلامی متون کا سہارا لیا گیا اور حضرت شعیبؑ کی بیٹیوں اور حضرت موسیٰؑ کا قصہ اور کئی احادیث مبارکہ پیش کرکے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام مرد و زن کی مساوات کا درس دیتا ہے اور خواتین کے کسی آزادانہ عمل پر رکاوٹ عائد نہیں کرتا۔
پاکستان کی وہ خواتین جنہوں نے اپنی جدوجہد سے خودمختاری اور آزادی حاصل کی اور مختلف شعبوں میں کامیابیاں سمیٹیں، انہیں مذکورہ باب میں طالبات کے لیے مثال قرار دیا گیا اور ان میں سے کامیاب ترین خاتون بینظیر بھٹو کو قرار دیا گیا ہے، جو دو بار پاکستان کی وزیر اعظم بنیں۔ ان کے علاوہ عالمی اسکواش کی کھلاڑی ماریہ طور پا کے وزیر کو باعزم خاتون کے طور پر پیش کیا گیا جس نے کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے لڑکے کا بھیس بدلا اور راز افشا ہونے پر اسے دھمکیاں دی گئیں لیکن وہ پرعزم رہی اور آج وہ کئی عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمایندگی کر چکی ہے۔ مریم مختار جنگی ہواباز خاتون، فٹ بالر شہلا بلوچ، ملالہ یوسف زئی نوبل انعام یافتہ و دیگر آزاد، خودمختار اور مغرب زدہ خواتین کو بھی اس فہرست میں آئیڈیل خواتین کے طور پر شامل کیا گیا۔ فیمنسٹ ماہرین نےاس فہرست میں حضرت شعیب کی بیٹیوں، حضرت مریم ؑ، صحابیات و مسلم تشخص کی حامل دیگر کسی خاتون کو شامل کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ ان کے خیال میں ان خواتین کے کردار سے عورت کی آزادی اور مساوات کے لیے دلائل تو تراشے جا سکتے ہیں لیکن ان کو طالبات کے لیے ایک آئیڈیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی مطالعہ پاکستان کی دونوں کتب کے مذکورہ باب میں قومی و پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ وومن پروٹیکشن ایکٹ 2010، جنسی ہراسمنٹ ایکٹ 2010، کم عمری کی شادی پر پابندی ایکٹ 2015 اور خواتین تحفظ ایکٹ 2016 کو تمام تفصیلات کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ ان قوانین کو منظور کروانے میں این جی اوز، فیمنسٹ تنظیموں اور مغرب کے سیاسی و مالی اداروں کا خاص کردار تھا اس لیے طالب علموں کو ان کارناموں سے روشناس کروانا ضروری سمجھا گیا۔ ان قوانین کی تفصیلات میں طلبہ کو بتایا گیا ہے کہ خواتین پر تشدد، دنیا کے تمام پسماندہ معاشروں کا مسئلہ ہے کیونکہ مرد خواتین کو کمتر سمجھتے ہیں۔ خواتین پر ہونے والے اس تشدد میں گھریلو تشدد، نفسیاتی و جذباتی تشدد، معاشی استیصال، تعاقب، دھمکیاں اور جنسی ہراسمنٹ شامل ہے اور ان سب جرائم کا ارتکاب مردوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین سے امتیازی سلوک، بدسلوکی، گھر میں خاوند کا ناروا رویہ، مردوں کے برابر کام کرنے کے باوجود کم اجرت، لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں والدین کی تنگ نظری، حقوق کی پامالی وغیرہ خواتین کے لیے عام عمل ہیں۔
ان ابواب میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ عورتوں کے خلاف ہونے والی جنسی ہراسمنٹ، جنسی پیش رفت، جنسی بد سلوکی، جنسی حملہ، چھیڑ چھاڑ، اسٹاکنگ، برہنہ تصاویر و وڈیوز کی اشاعت اور دیگر تمام جنسی جرائم کا آغاز مغرب میں ہوا اور آج بھی امریکا کے ایک قومی سروے کے مطابق وہاں میں ہر 5 خواتین میں سے 1 کے ساتھ اس کی زندگی میں کم ازکم ایک بار زنا یا اقدام زنا کا واقعہ ضرور پیش آتا ہے۔ اسی طرح ہر 38 مردوں میں سے 1 مرد اپنی زندگی میں کم ازکم ایک بار زنا کا عمل ضرور کرتا ہے یا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
غور کریں کہ لبرل و فیمنسٹ ماہرین کو نصابی کتب میں قرآنی آیات، ملک کادفاع شہریوں کا اولین فرض اور اور راشد منہاس، لانس نائیک محفوظ شہید جیسے ہیروز کے ناموں کی شمولیت پر اعتراض تھا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ یہ موضوعات تو دینی ماہرین، ملٹری ہسٹری، اکنامکس آف وار اورملٹری اسٹیڈیز کے ہیں، انہیں چھوٹے لیول کی درسی کتب میں شامل کرنے کا کیا جواز ہے؟ اب انہی ماہرین کو جینڈر اسٹڈیز، ایم اے اور ایم فل سوشیالوجی میں پڑھائے جانے والے فیمنزم کے نظریات اور فلسفیانہ تصورات کو ان چھوٹے لیول کی کتابوں میں داخل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہیں اس بات پر بھی سنجیدگی سے سوچنا گوارا نہیں کہ وومن پروٹیکشن ایکٹ 2010، جنسی ہراسمنٹ ایکٹ 2010، کم عمری کی شادی پر پابندی ایکٹ 2015 اور خواتین تحفظ ایکٹ 2016 ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کےنصاب کے موضوعات ہیں اور میٹر ک و انٹرمیڈیٹ کے طلبہ ان موضوعات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
مغربی یورپ اور شمالی امریکا، جہاں کے تمام تعلیمی ادارے فیمنسٹ تحریک کے کنٹرول میں ہیں، وہاں بھی یہ نظریات یونیورسٹی لیول سے نیچے نصاب کا حصہ نہیں ہیں۔ وہاں یہ نظریات سوشل سائنسز یا وومن اسٹیڈیز و جینڈر اسٹڈیز کے گریجویٹ و انڈر گریجویٹ لیول کےمضامین میں شامل ہیں لیکن دیگر مضامین پڑھنے والے طلبہ کے لیے ان کا مطالعہ لازمی نہیں۔ وہاں کے بہت سے ماہرین کو اس بات پر اعتراض ہے کہ انڈر گریجویٹ لیول کے سوشل سائنسز کے طالب علموں کو یہ تھیوریز بتا کر ان کا ذہن کیوں خراب کیا جا رہا ہے۔ طالب علموں کو یہ سکھانا کہ دنیا کو ظلم کی عینک سے کس طرح دیکھنا چاہیے یہ صرف خطرناک ہی نہیں بلکہ خود ایک ظالمانہ فعل ہے۔ اس سے زیادہ ظلم کی کوئی اور بات نہیں ہو سکتی کہ پروفیسر حضرات آپ کو سوشیالوجی کے ہر سبق کا مطلب صرف یہ بتا رہے ہوں کہ آپ بحیثیت عورت ایک وکٹم ہیں۔
نئی نسل کے لیے عذاب :
یورپ اور امریکا کے ماہرین جن نظریات و تجربات کی حقیقت سمجھنے کے بعد انہیں عذاب قرار دے رہے ہیں، ہمارے مقامی لبرل و فیمنسٹ ماہرین وہی تجربات دہرا کر اپنی قوم کو عذاب میں مبتلا کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ ان تجربات سے شاید پاکستان اور اسلام کے دشمن تو خوش ہو جائیں لیکن ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہمارے یہ ماہرین اس بات سے صرف نظر کیوںکر رہے ہیں کہ مغربی یورپ اور شمالی امریکا میں جہاں فیمنسٹ تحریک کے زیر اثر، کچھ عشرے پہلےقانون سازی ہوئی وہاں سنگین قسم کی معاشرتی پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ اس قانون سازی کے تحت ہر شعبہ زندگی میں عورتوں کو مردوں کی نسبت زیادہ اہمیت اوراولیت دے دی گئی۔ ان کے خاندان سے متعلق قوانین میں شادی و طلاق کے امتیازی قوانین، بچوں کی حوالگی کے وقت عورت کی حمایت، عورتوں کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ لمبی سزائیں، عورتوں کے لیے مردوں کی نسبت زیادہ تعلیمی وظائف، عورتوں کی بیماریوں پر زیادہ فنڈز اور مردوں کی بیماریوں پر کم فنڈز مختص کرنے، عورتوں کےکہنے پر مردوں کو جبراً ناجائز بچوں کا والد قرار دینے، مردوں پر وائلنس اور ریپ کے الزامات لگانے، تعلیمی امتیازات اور کئی دوسرے امتیازات شامل ہیں۔
ان امتیازی قوانین کے نتیجے میں مردوں کے حقوق کی تحریک شروع ہو چکی ہے۔ آپ غور کریں کہ جب کسی ملک اور قوم کے تمام مرد اور عورتیں اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے تو کون کس کو حقوق دے گا؟ دونوں اصناف ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہوں گی تو آنے والی نسل کی تعلیم و تربیت کون کرے گا؟ اس طرح توخاندانی نظام کی تباہی سے انسانیت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ آج کسی مسئلے کا حل تعصب، نفرت اور حقوق کی جنگ میں نہیں ہے۔ نسائی حقوق کے ماہرین اور مردوں کے حقوق کے ماہرین یہ بات سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں کہ اصناف کا امتیاز محض ایک نسبت ہے۔ ان میں سے ایک صنف کے حقوق کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے دوسری صنف پر مرتب ہونے والے اثرات کو جانے اور سمجھے بغیر آپ جو کام بھی کریں گے، کبھی بھی انسانیت پر اس کے مثبت اور دیرپا اثرات مرتب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ایک صنف کو نظر انداز کرکے جب دوسری صنف کے حقوق کے لیےکوئی منظم کام کیا جائے گا تو پہلی صنف بھی منظم ہو کر اس کے اثرات کو زائل کر دے گی۔
اس مضمون کی وساطت سے حکومت پاکستان اور وزارت تعلیم سے گزارش ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں شامل نکات اور رہنما اصولوں کی روشنی میں تمام صوبوں کے نصاب تعلیم کو فوری پر قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالا جائے اور اس میں سے لبرل، سیکولر اور فیمنسٹ نظریات کے حامل مواد کو خارج کیا جائے۔ دینی جماعتوں، علمائے کرام اور والدین کو چاہیے کہ وہ نصاب تعلیم میں اسلامی تعلیمات کی شمولیت اور تحفظ کی خاطر مرکزی و صوبائی حکومتوں پر زور ڈالیں اور انہیں اس بات پر مجبور کریں کہ وہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 31 کے مطابق یہاں کے عوام کو انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق بسر کرنے کی سہولیات بہم پہنچائیں۔ قرآن و سنت کی تعلیم کو لازمی قراردیں، پاکستان کے مسلم طلبہ کو اسلامی اقدار کی حفاظت اور پابندی کی تربیت دیں اور بین الاقوامی سطح پر ایسا کوئی معاہدہ نہ کریں جو اسلام اور پاکستان کے مقاصد کے خلاف ہو۔