دہلی فسادات کو ایک سال

78

پولیس کی جانبداری سے تحقیقات ناکام

بی بی سی
دہلی پولیس کے مطابق گزشتہ سال ہونے والے فسادات سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ 50 سے زائد لوگ ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے جبکہ کئی دکانیں، گھر اور عمارتوں کو نذر آتش کیا گیا۔ پُرتشدد واقعات کئی روز تک جاری رہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان واقعات میں 40 مسلمان اور 13 ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد مارے گئے، تاہم مقامی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق فسادات کے پیچھے ہندو انتہا پسند تنظیمیں سرگرم تھیں اور ان کا نشانہ خصوصاً مسلمان تھے۔
پولیس نے دہلی فسادات سے متعلق 752 مقدمات درج کیے۔ اس دوران ایسے کئی افراد کو گرفتار کیا گیا، جو شہریت کے متنازع قانون (این آر سی اور سی اے اے) کی مخالفت کر رہے تھے۔ ان میں طلبہ اور سماجی کارکنان بھی شامل تھے۔
بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی پولیس کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے پُرتشدد واقعات اور آتش زنی کا مقابلہ کیا، لیکن فسادات کے دوران اور بعد میں پولیس کے کردار پر کئی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ خصوصاً ایسی شکایات، جن میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات عینی شاہدین اور متاثرین کی کوششوں کے باوجود مکمل نہیں ہو سکی اور دہلی پولیس نے اب تک اس کیس میں ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔ یہ شکایات مصطفیٰ آباد کی فاروقیہ مسجد اور شیو وہار کی مدینہ مسجد سے متعلق ہیں۔
فاروقیہ مسجد میں کیا ہوا؟
ایک سال قبل 25 فروری کو جائے وقوع پر موجود افراد کے مطابق شرپسندوں کا ایک ہجوم مسجد میں داخل ہوا اور یہاں آتش زنی کی۔ اس کے عقب میں کچھ مقامی خواتین این آر سی اور سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہی تھیں۔ ان کے ٹینٹ کو بھی آگ لگا دی گئی تھی۔ مسجد میں کئی افراد پر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔ ایک سال گزرنے کے بعد بھی پولیس نے عینی شاہدین اور متاثرہ افراد کی شکایت پر جو کارروائی کی ہے اسے غیر تسلی بخش کہا جا سکتا ہے۔ پولیس نے ان شکایات پر ایف آئی آر بھی درج نہیں کی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق شکایات کرنے والوں میں خورشید سیفی، فیروز اختر اور حاجی ہاشم علی بھی شامل ہیں۔ 44 سالہ فیروز نے یہ شکایت اپریل 2020ء کو دائر کی تھی۔ اس پر یہاں کے پولیس اسٹیشن کی 21 جولائی 2020 کی مہر ہے، یعنی یہ شکایت موصول ہونے کی منظوری ہو چکی تھی۔ اسے وزارت داخلہ میں بھی وصول کیا جا چکا تھا۔ درخواست میں لکھا گیا کہ 25 فروری 2020ء کو شام 6 بج کر 30 منٹ پر میں فاروقیہ مسجد میں مغرب کی نماز پڑھنے کے لیے رُکا۔ ایس ایچ او دیالپور سمیت کچھ لوگ مسجد میں داخل ہوئے۔ میں نے برجپوری کے رہائشی ارون بسویا کو بھی وہاں دیکھا۔ چاولا جی اور راحل ورمیا، جن کی اپنی دکانیں ہیں، ان کے ہاتھ میں تلوریں، پٹرول بم اور نیزے تھے۔ انہوں نے ان خواتین پر حملہ کیا، جو سی اے اے مخالف مظاہروں میں شامل تھیں۔ اور پھر وہ مسجد کی طرف آئے۔ عینی شاہد فیروز کے مطابق ارون اور دیگر مشتعل افراد نے مسجد کے مولوی کو پتھروں اور ڈنڈوں سے پیٹا اور موزن کو اتنی زور سے مارا گیا کہ اس کا جبڑا ٹوٹ گیا۔ لوہے کی راڈوں سے مجھے سر اور ہاتھ پر مارا گیا۔ مشتعل افراد نے مجھے سی اے اے مخالف مظاہرے کے جلتے ہوئے ٹینٹ پر پھینک دیا۔ وہ مجھے مردہ سمجھے تھے لیکن میں کسی طرح زندگی بچا کر نکل گیا۔
فیروز اختر پہلے سے معذور تھے اور اب فسادات کے بعد ان کے سر پر 90 ٹانکے لگے تھے۔ ان کے ہاتھ کی انگلیاں اب کام نہیں کرتیں۔ فیروز بطور ایک درزی کام کرتے تھے لیکن اب وہ اپنے ایک کمرے کے گھر میں گزشتہ ایک سال سے بغیر کسی کام کے بیٹھے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شکایت درج ہونے کے بعد کچھ پولیس اہلکاروں نے ان پر شکایت واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا، ان پر اور ان کے بیٹے پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس ڈر سے انہوں نے مصطفیٰ آباد میں اپنا کرائے کا گھر چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنے چھوٹے کمرے میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ کیا میں اب درزی کا کام ایک ہاتھ سے کر سکتا ہوں؟ انگلیاں حرکت نہیں کر پاتیں۔
دوسرے عینی شاہد کی شکایت
اولڈ مصطفی آباد کے خورشید سیفی اپنی شکایت میں کہتے ہیں کہ ان کے چہرے کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ فاروقیہ مسجد میں پُرتشدد واقعے کے دوران ان کی ایک آنکھ متاثر ہوئی ہے۔ وہ ماہر تعمیرات ہیں تو اب وہ اپنا کام ایک آنکھ کے ساتھ نہیں کرسکتے۔ مصطفیٰ آباد میں عیدگاہ کے ریلیف کیمپ پر شکایات کے لیے ایک مرکز قائم کیا گیا تھا۔ خورشید نے 15 مارچ کو اپنی شکایت دائر کی۔ ان کی شکایت پر دیالپور پولیس اسٹیشن، وزیر اعظم ہیڈ کوارٹر اور وزارت داخلہ کی مہر ہے۔
خورشید نے اپنی شکایت میں لکھا کہ 25 فروری کو شام ساڑھے 6 بجے کے لگ بھگ راہل ورما، ارون بسویا، چاولا جی اور ان کے ساتھیوں نے احتجاج پر بیٹھی خواتین پر حملہ کیا۔ ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے، تلوار، نیزے اور پٹرول بم تھے۔ وہاں بھگدڑ مچ گئی، میں مسجد کے گیٹ پر کھڑا تھا، جب کچھ لوگ پولیس کی نیلے رنگ کی وردی پہنے مسجد میں داخل ہو گئے۔ ان لوگوں نے نمازیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ راہل ورما نے بہت سے لوگوں پر فائرنگ کی۔ بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمایندوں نے کیا تو پتا چلا کہ پوری مسجد کو جلا دیا گیا تھا۔
پولیس کی اب تک کی کارروائی؟
پولیس نے 26 فروری 2020ء کو دیالپور پولیس اسٹیشن میں فاروقیہ مسجد میں آتش زنی اور تشدد سے متعلق مقدمہ درج کیا تھا، تاہم اسے سب انسپکٹر رام پرکاش نے فون کال کے ذریعے موصول اطلاع کی بنیاد پر درج کیا۔دونوں ہی شکایات کا پولیس ڈائری میں اندراج ہے۔ دونوں شکایت کنندگان نے کچھ لوگوں کے نام بھی بتائے ہیں لیکن وہ نام پولیس نے ایف آئی آر میں درج نہیں کیے۔
ایف آئی آر میں پولیس سب انسپکٹر رام پرکاش کا بیان کچھ یوں ہے: 25 فروری 2020ء کو رات 9 بج کر 30 منٹ پر مسجد میں فائرنگ کی اطلاع دینے کے لیے کال آئی تھی، جب میں وہاں پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ دیالپور کے ایس ایچ او اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچ چکے ہیں۔ وہاں 1000 سے 1200 افراد کا ہجوم تھا، ہجوم مشتعل تھا، کوئی شور نہیں تھا۔ اس ہجوم میں کچھ خواتین بھی شامل تھیں۔ ہجوم کے ہاتھوں میں ڈنڈے، سلاخیں، ٹاورز تھے۔ فائرنگ کی آواز بھی تھی۔ لوگ سی اے اے مخالف نعرے لگا رہے تھے اور ’دہلی پولیس ہائے ہائے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہاں فاروقیہ مسجد کی توڑ پھوڑ کی جارہی تھی۔
واضح رہے کہ پولیس کو فون پر اطلاع ملنے کے ڈھائی گھنٹے بعد اس نے یہ بیان جاری کیا۔ اس ایف آئی آر میں پولیس کا نام نہیں لکھا گیا۔ اُس کے مطابق ’وہ لوگ جو سی اے اے مخالف مظاہرے پر بیٹھے تھے، ان میں زیادہ تر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے مسجد کو نذر آتش کر دیا۔ اس معاملے میں پولیس عینی شاہدین کی شکایات پر ایف آئی آر درج نہیں کر رہی ہے۔ خورشید اور اختر نہ صرف تشدد کے عینی شاہد ہیں بلکہ وہ خود بھی اس تشدد کا نشانہ بنے۔ اس کے باوجود پولیس نے ان کی شکایات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ایف آئی آر میں ان کی شکایات شامل کی گئیں نہ ان کے بیانات۔
قانون کے تحت اگر کوئی اقدام قابل گرفت یا جرم ہے، تو پولیس ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے، لیکن اس معاملے میں یہ ظاہر نہیں ہوا۔ جب 24 جولائی 2020ء کو خورشید سیفی کی پولیس تحفظ کی درخواست پر سماعت ہو رہی تھی تو تھانہ دیالپور انچارج نے خورشید سیفی کو گواہ نہیں مانا۔لیکن 12 اکتوبر کو فیروز اختر کی پولیس تحفظ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے شمال مشرقی دہلی کے ایڈیشنل ڈی سی پی نے کہا کہ ان کی شکایت پر تحقیقات کی گئیں اور ان کے دعوے بے بنیاد پائے گئے لیکن تصدیق کی گئی کہ ایف آئی آر میں پولیس نے فیروز اختر کی گواہی پر یقین کیا۔ فیروز اختر اور خورشید سیفی نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے تاحال ان کو پوچھ گچھ کے لیے نہیں بلایا ہے۔
گرفتاری اور ضمانت پر رہائی
ایف آئی آر نمبر 64 میں دہلی پولیس نے برجپوری کے راجیو اروڑا کو گرفتار کیا، جسے 10 اگست کو عدالت سے ضمانت ملی تھی۔ راجیو اروڑا چاولا اس دکان کے مالک ہیں جن کے نام اپنی شکایات میں فیروز اور خورشید نے لکھے ہیں۔ پولیس نے عدالت میں کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج صرف شام تک ہے، جس دن یہ واقعہ ہوا تھا لیکن چونکہ یہ ایف آئی آر کال پر مبنی ہے اور اس وقت کی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہیں۔ دونوں عینی شاہدین نے واقعے کا وقت ساڑھے 6 بجے بتایا اور حملہ آوروں میں راجیو اروڑا کا نام بھی بتایا گیا، لیکن ان کی گواہی کے بغیر راجیو اروڑا ضمانت پر رہا ہوئے۔ اگر پولیس نے ان دونوں شکایت کنندگان کو بطور گواہ استعمال کیا تو سی سی ٹی وی فوٹیج کی عدم موجودگی میں اس ضمانت پر بھی مقدمہ چلایا جاسکتا تھا۔
عام طور پر ایسے معاملے میں 90 دن کے اندر چارج شیٹ دائر کی جاتی ہے۔ اگر معاملہ یو اے پی اے سیکشن کا ہو تو چارج شیٹ داخل کرنے کی مدت 180 دن یعنی 6 ماہ تک ہو سکتی ہے لیکن یہاں ایف آئی آر نمبر 64/2020 میں ایک سال گزرنے کے بعد بھی کوئی چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے۔
اپریل 2021ء میں دہلی پولیس اس معاملے میں ایکشن ٹیکن رپورٹ یعنی اے ٹی آر درج کرے گی۔ اس رپورٹ کے آنے کے بعد تصویر قدرے واضح ہو گی۔ دہلی پولیس کا موقف جاننے کے لیے دیالپور انچارج پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
مدینہ مسجد کیس
شمال مشرقی دہلی کے علاقے شیو وہار میں فسادات میں سب سے زیادہ جلاؤ گھراؤ ہوا تھا۔ یہاں کی مدینہ مسجد میں آگ لگنے کی متعدد وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ 60 سالہ حاجی ہاشم علی مدینہ مسجد کی انتظامی کمیٹی کے رُکن ہیں۔ 26 جون 2020ء کو انہوں نے تھانہ کاروال نگر میں مدینہ مسجد میں آتش زنی اور توڑ پھوڑ کی شکایت درج کروائی۔ انہوں نے بتایا کہ 25 فروری کو شام 5 سے 6 بجے کے درمیان تقریباً 20 سے 25 افراد نے مدینہ مسجد میں جمع ہونا شروع کیا۔ ان میں سے بہت سے لوگ قریب ہی رہائش پذیر تھے، جنہیں میں پہچانتا ہوں۔ اس میں راجا رام، منوج، شیو کمار، راجو، بھوڈیو عرف پپی، پریم کانت اور دیوان شامل تھے، لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔
ہاشم علی نے جون میں شکایت کیوں کی؟
اس کے پیچھے ایک دلچسپ حقیقت بھی ہے۔ دراصل ہاشم علی کے پورے گھر میں فسادات ہو چکے تھے۔ یکم مارچ 2020ء کو حاجی ہاشم علی نے اپنے گھر کو نذر آتش کرنے کے بارے میں تھانہ کاروال نگر میں شکایت درج کروائی۔ اس میں انہوں نے بتایا کہ ان کا گھر شیو وہار کی گلی نمبر 14 میں ان کی آنکھوں کے سامنے فسادی انتہا پسندوں نے جلایا تھا۔ اس شکایت میں انہوں نے مقامی لوگوں کی شناخت کی لیکن پولیس نے ان کی شکایت نریش چند نامی شخص کی ایف آئی آر 72 میں شامل کر دی، یعنی ہاشم علی کی شکایت پر علیحدہ ایف آئی آر نہ بنی۔ ان کو کسی دوسرے شخص کی ایف آئی آر میں شامل کر دیا گیا۔ یہ دونوں املاک نذر آتش کرنے اور توڑ پھوڑ کرنے کے واقعات تھے لیکن نریش چند کی ایف آئی آر میں کسی فسادی کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ دونوں ہی معاملات مختلف املاک کے ضائع ہونے کے بارے میں تھے۔
4 اپریل 2020ء کو پولیس نے ہاشم علی کو مصطفیٰ آباد میں واقع اس کے رشتے دار کے گھر سے گرفتار کیا۔ وہ بھی ایف آئی آر 72 میں، جس میں خود ہاشم علی کے گھر کو نذر آتش کرنے کی شکایت درج کی گئی تھی۔ پولیس نے کہا ہے کہ ہاشم علی سی سی ٹی وی فوٹیج میں لوگوں کو تشدد کے لیے اکساتے نظر آتے ہیں، یعنی ان پر اپنا گھر جلانے کے معاملے میں الزام ہے۔ جب ہاشم علی نے 43 دن کے بعد ضمانت حاصل کی تو انہوں نے جون میں مدینہ مسجد میں تشدد اور آتش زنی کے بارے میں شکایت درج کروائی۔ لیکن اس شکایت کے اندراج کے بعد دو ماہ تک پولیس نے اس پر ایف آئی آر درج نہیں کی۔ تب حارث علی کے وکیل ایم آر شمشاد نے سی آر پی سی 153 (3) کے تحت عدالت میں ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی۔ عدالت میں پیش کی گئی پولیس کی اسٹیٹس رپورٹ کے مطابق ہاشم علی کی مدینہ مسجد کے بارے میں کی گئی شکایت میں نامزد افراد کے خلاف پولیس کو کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکے۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ ہاشم علی کے گھر کو نذر آتش کرنے کی شکایت نریش چند کی ایف آئی آر میں شامل کر دی گئی ہے، جس میں خود ہاشم علی اب ایک ملزم ہیں اور چونکہ مدینہ مسجد میں تشدد اور آتش زنی کے خلاف شکایت کنندہ نے دعوے کے مطابق کوئی وڈیو فوٹیج فراہم نہیں کی ہے، لہٰذا اس شکایت کو ایف آئی آر 72 میں بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ یعنی ہاشم علی کے گھر کو نذر آتش کرنے کی شکایت میں نریش چند کی دکان اور کار کو نذر آتش کرنے کی ایف آئی آر میں شامل کیا گیا تھا اور اب پولیس نے اس ایف آئی آر کو بھی مدینہ مسجد واقعے کی رپورٹ بنا دیا۔ یکم فروری 2021ء کو میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ مایوری سنگھ کی عدالت نے کاروال نگر کے ایس ایچ او کو ہدایت کی کہ وہ مدینہ مسجد کے لیے الگ ایف آئی آر درج کریں۔
پولیس کیا کہتی ہے؟
بی بی سی نے کاروال نگر کے ایس ایچ او رام اوتار سے فون پر بات کی اور پوچھا کہ کیا پولیس نے عدالت کی ہدایت کے مطابق ایک سال کے بعد ایف آئی آر درج کی۔ اس کا جواب ملا کہ چونکہ فسادات کے بعد بہت سی ایف آئی آر درج کی گئیں، لہٰذا ان کو ایک دوسرے میں شامل کر کے ان کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ہم یہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔ ہاشم علی نے جیل سے رہائی کے بعد شکایت کی تھی۔
بی بی سی نے اس دعوے پر سوالات پوچھے کہ اگر مدینہ مسجد کے بارے میں پہلے سے ہی ایف آئی آر درج ہے تو پھر پولیس نے اس کے بارے میں عدالت کو کیوں نہیں بتایا جبکہ شکایت کنندہ یہ کہہ رہا تھا کہ ایف آئی آر نہیں ہے۔ کاروال نگر کے اسٹیشن انچارج سے یہ بھی پوچھا گیا کہ مسجد مدینہ میں آتش زنی کی تحقیقات میں پولیس کو کیا ملا۔
ان دونوں سوالات پر ایس ایچ او نے بھی یہی کہا کہ ہاں ہم نے یہ بات عدالت کو نہیں بتائی۔ لیکن یہ شکایت برقرار نہیں رہے گی۔
بی بی سی نے ایک ایف آئی آر موصول کی ہے جس کا حوالہ کاروال نگر کے ایس ایچ او نے دیا۔ دراصل یہ ایف آئی آر 55 ہے جو 26 فروری کو کال کی بنیاد پر ریکارڈ کی گئی تھی۔ لکھا ہے کہ کال کے بعد جب اے ایس آئی موقع پر پہنچا تو مدینہ مسجد کی آگ پر قابو پا لیا گیا۔ ایک شدید ہجوم کے ذریعے یہ آگ لگائی گئی جس میں دونوں گروہوں کے افراد سی اے اے کی حمایت اور مخالفت کررہے تھے۔ شدید ہجوم کی وجہ سے کوئی عینی شاہد نہیں ملا، لیکن حاجی ہاشم علی خود کو اس واقعے کا عینی شاہد قرار دے رہے ہیں اور یہاں تک کہ کچھ لوگوں کی شناخت بھی ان کی شکایت میں ہوئی ہے۔ پھر بھی پولیس اسے جرم سمجھ کر اس کو ایف آئی آر میں تبدیل نہیں کر رہی بلکہ اس ایف آئی آر کا حوالہ دے رہی ہے جسے ایک کال کی بنیاد پر درج کیا گیا۔