افغان طالبان کا امریکا سے امن معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ

178

افغان طالبان نے امریکا سے معاہدے کی تمام شقوں پرعمل درآمد کامطالبہ کردیا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دوحہ میں ہونے والے امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے افغان طالبان نے کہا ہے کہ امریکا طالبان تاریخی معاہدے میں تبدیلی کی کوشش معاہدہ ناکام کرسکتی ہے جبکہ معاہدے پرعمل افغانستان کی سلامتی اور استحکام کیلئے ضروری ہے۔

افغان طالبان نے کہا کہ امریکا یکم مئی تک افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کا عمل مکمل کرے جبکہ بائیڈن انتظامیہ پہلے ہی امریکا طالبان معاہدے پر نظرثانی کا اشارہ دے چکی ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں نئے امریکی صدر بننے کے بعد امریکی مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان نے افغان ہم منصب حمداللہ محب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا جس میں امریک مشیر نے کہا کہ افغان امن معاہدہ پر نظر ثانی کریں گے اور افغان طالبان سے کئے گئے معاہدہ کا جائزہ لیں گے۔

جیک سلیوان کا کہنا تھا کہ طالبان کے شدت پسندوں سے رابطے منقطع کرنے اور افغانستان میں تشدد ختم کرنے کے وعدے کو بھی دیکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی تقریب میں افغان طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکا کی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے معاہدے پر دستخط کیے۔ 4 صفحات پر مشتمل افغان امن معاہدہ 4 مرکزی حصوں پر مشتمل ہے.