سینیٹ انتخابات خفیہ بیلٹ سے ہوں گے، سپریم کورٹ

224

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات قانون کے بجائے آئین کے تحت ہوں گے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے 3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات قانون کے بجائے آئین کے تحت ہوں گے اور اوپن بیلٹ سے نہیں کروائے جاسکتے۔

عدالت نے کہا کہ انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے اور الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کیلئے تمام اقدامات کرسکتا ہے جبکہ تمام ادارے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کے پابند ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ووٹ ہمیشہ کےلئے خفیہ نہیں رہ سکتا اور ووٹنگ میں کس حد تک سیکریسی ہونی چاہیے یہ تعین کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن کرپشن کے خاتمے کیلئے تمام ٹیکنالوجی کابھی استعمال کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں قرار دے چکا ہے کہ سیکریسی کبھی بھی مطلق نہیں ہوسکتی اور تفصیلی وجوہات بعد میں دی جائیں گی۔

سپریم کورٹ کے 4 ججز نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کا الیکشن آئین کے تحت ہے، عدالت نے سینیٹ الیکشن سے متعلق رائے ایک چار کی نسبت سے دی جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے رائے سے اختلاف کیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر مملکت نے ریفرنس 23 دسمبر 2020 کو سپریم  کورٹ میں دائر کیا تھا اوراٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت جو بھی رائے دے گی حکومت اس پر عمل کرنے کی پابند ہوگی۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے 4 جنوری کو پہلی سماعت کی، صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں مجموعی طور پر 20 سماعتیں ہوئیں۔