خاشق جی قتل رپورٹ سعودی امریکا تعلقات نازک موڑ پر

112

ریاض؍ واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کی جانب سے جمال خاشق جی قتل کیس کی رپورٹ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ذمے دار ٹھیرانے پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نازک موڑ پر آگئے۔ صدر بائیڈن سابقہ انتظامیہ کے برخلاف سعودی عرب کے خلاف سخت گیر موقف رکھتے ہیں اور سی آئی اے کی حالیہ رپورٹ سے ان کی پالیسی کو مزید تقویت ملی ہے۔ سعودی حکام نے ترکی میں صحافی کے قتل کی کارروائی میں شہزادہ محمد کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کردی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے جمال خاشق جی کے قتل کی منظوری دی تھی۔ رپورٹ میں محمد بن سلمان کو انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز پر حاصل اختیار ات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ولی عہد کی منظوری کے بغیر اس طرح کا آپریشن انجام ہی نہیں دیا جاسکتا تھا۔ جواب میں سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں غلط معلومات شامل ہیں۔ ریاض حکومت نے خاشق جی کے قاتلوں پر مقدمہ چلانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے۔ عدالتوں نے متعلقہ افراد کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے انہیں سزائیں سنائیں اور خود جمال خاشق جی کے اہل خانہ نے ان سزاؤں کا خیر مقدم کیا تھا۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا نے قتل میں مبینہ طور پر ملوث 76 سعودی شخصیات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے،تاہم فہرست میں شامل کسی کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے اجرا کے بعد سے وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ خاموش ہے اور ممکنہ طور پر ان پابندیوں کا شہزادہ محمد بن سلمان پر اثر نہیں پڑے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل صدر بائیڈن یمن میں سعودی عرب کی زیرقیادت جنگ میں امریکی ہتھیاروں کا استعمال معطل کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا سے ہتھیار نہ ملنے کی صورت میں سعودی قیادت اپنی دفاعی اور سیکورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس اور چین کی جانب دیکھنے اور ان سے شراکت پر مجبور ہو جائے گا۔