ننگ ِ ملّت، ننگ ِ دیں، ننگ ِ وطن

507

ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ برصغیر کی جدوجہد آزادی کے دو ہیرو ہیں۔ سراج الدولہ اور ٹیپو کی مزاحمت کامیاب ہوجاتی تو برصغیر کی تاریخ مختلف ہوتی مگر سراج الدولہ کو میر جعفر اور ٹیپو سلطان کو میر صادق کی غداری لے ڈوبی۔ اس لیے اقبال کو کہنا پڑا:
جعفر از بنگال صادق از دکن
ننگِ ملّت، ننگِ دیں، ننگِ وطن
لیکن میر جعفر اور میر صادق افراد کے نہیں ایک ذہنیت کی علامتیں ہیں۔ یہ علامتیں مسلمانوں کی تاریخ میں مسلسل سفر کرتی رہی ہیں۔ ان علامتوں کا عہد حاضر سے بھی گہرا تعلق ہے۔
جاوید چودھری ملک کے معروف کالم نویس اور اینکر ہیں۔ سیاست دانوں میں جاوید چودھری کو میاں نواز شریف بہت پسند ہیں۔ انہیں اس حوالے سے میاں نواز شریف کا عاشق کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ لیکن جاوید چودھری نے اپنے ایک حالیہ کالم میں میاں نواز شریف کے خلاف عجیب انداز میں ’’گواہی‘‘ دی ہے۔ جاوید چودھری نے کیا کہا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔ جاوید چودھری لکھتے ہیں۔
’’ہماری مشکلات شروع ہی میں اسٹارٹ ہوگئی تھیں، میاں نواز شریف جیل میں تھے، خزانہ خالی تھا، دوست ملکوں نے ہاتھ کھینچ لیا تھا اور مغربی اتحادیوں نے فوجی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، ہم نے اوپر سے جلد بازی میں اینٹی کرپشن مہم بھی شروع کردی، جنرل مشرف پہلے احتساب پھر سیاست کا نعرہ لگارہے تھے، ہمارے جیسے ملکوں میں احتساب کا نعرہ سننے میں بہت اچھا لگتا ہے لیکن یہ عملاً ممکن نہیں ہوتا، گنجی کو نہانے اور نچوڑنے کے لیے بال چاہیے ہوتے ہیں اور چھوٹی معیشتوں میں بال، صابن اور پانی تینوں نہیں ہوتے، چناں چہ ان کے سر پر جب بھی احتساب کا صابن لگایا جاتا ہے تو یہ مزید خراب ہوجاتی ہیں، ہم نے بھی جب احتساب شروع کیا تو معیشت کا بیڑہ غرق ہوگیا، تاجروں، بزنس مینوں اور صنعت کاروں نے کام بند کردیا، بیوروکریسی فائلیں دبا کر بیٹھ گئی اور سرمایہ کاروں نے اسٹاک ایکسچینج سے رقم نکال لی، آپ اگر یاد کریں گے تو آپ کو 2000ء کا پورا سال مشکل نظر آئے گا چناں چہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں امریکا اور سعودی عرب کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے لیے نواز شریف کو رہا کرنا پڑے گا ورنہ ملک چلانا ممکن نہیں ہوگا، جنرل پرویز مشرف راضی نہیں تھے لیکن ہم نے انہیں سمجھایا اور یہ بالآخر مان گئے، سعودی عرب کے ولی عہد پرنس عبداللہ نے رفیق حریری کو نامزد کردیا اور یوں دسمبر 2000ء میں شریف فیملی جدہ چلی گئی، اس کے بعد بل کلنٹن اور سعودی شاہی خاندان کے ساتھ ہمارے تعلقات نارمل ہوگئے لیکن ہمیں اس کے باوجود محسوس ہوتا تھا کہ ہمیں جلد سے جلد الیکشن کراکے فوج کو اقتدار سے نکال لینا چاہیے مگر پھر غیبی مدد آئی اور گیم بالکل بدل گئی اور وہ غیبی مدد تھی نائن الیون، میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں اگر نائن الیون نہ ہوتا اور امریکا کو پاکستان کی ضرورت نہ پڑتی تو ہم 2002ء میں سیاست سے نکلنے پر مجبور ہوجاتے‘‘۔
یہ کون ہیں اور یہ انکشاف انہوں نے کیوں کیے میں سردست آپ کو یہ نہیں بتا سکتا تاہم اتنا بتادیتا ہوں یہ جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی تھے، یہ 12اکتوبر 1999ء کی تبدیلی کا حصہ بھی تھے اور 2005ء تک ’’پاور کوریڈورز‘‘ میں بھی رہے تھے، مجھے بے شمار مرتبہ ان سے ملاقات کا موقع ملا، یہ مجھے ہر بات صاف بتادیتے تھے لیکن ان کی صرف ایک شرط تھی میں کبھی ان کا نام نہیں لوں گا‘‘۔
(روزنامہ ایکسپریس، 16 فروری 2021ء)
کالم کے اس اقتباس میں جاوید چودھری نے کسی ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جو جاوید چودھری کا دوست بھی ہے اور جو ریاستی رازوں سے بھی آگاہ ہے۔ ’’باخبر‘‘ شخص نے جاوید چودھری کو بتایا کہ سعودی عرب اور امریکا جنرل پرویز کے ہاتھوں میاں نواز شریف کی برطرفی سے سخت ناراض تھے مگر جب ایک ڈیل کے تحت میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ سعودی عرب سدھار گئے تو امریکا بھی پاکستان سے خوش ہوگیا اور سعودی عرب بھی جنرل پرویز سے راضی ہوگیا۔
کہا جاتا ہے کہ ریاستوں کے تعلقات ریاستوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ’’افراد‘‘ کے ساتھ نہیں۔ افراد آتے جاتے رہتے ہیں۔ ریاستیں اپنی جگہ موجود رہتی ہیں مگر جاوید چودھری کی ’’گواہی‘‘ یا ’’انکشاف‘‘ سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کو ریاست پاکستان میں نہیں میاں نواز شریف میں دلچسپی تھی۔ جب تک میاں نواز شریف برسراقتدار تھے امریکا بھی خوش تھا اور سعودی عرب بھی مطمئن تھا مگر میاں نواز شریف کی برطرفی نے امریکا اور سعودی عرب دونوں کو ناراض کردیا۔ تاہم جب میاں نواز شریف جنرل پرویز کے ساتھ ڈیل کرکے اہل خانہ سمیت سعودی عرب فرار ہوگئے تو امریکا اور سعودی عرب دونوں پاکستان سے راضی ہوگئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا میاں نواز شریف پاکستان میں امریکا اور سعودی عرب کے ایجنٹ تھے؟ کیا وہ پاکستان میں امریکا اور سعودی عرب کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت تھے؟ ایسا نہیں تھا تو امریکا اور سعودی عرب میاں نواز شریف کی برطرفی اور قید پر ناراض کیوں ہوئے؟ آخر میاں صاحب امریکا اور سعودی عرب کا ایسا کون سا کام کررہے تھے جو جنرل پرویز یا کوئی اور حکمران نہیں کرسکتا تھا؟ اقبال کا شعر پھر یاد آگیا۔
جعفر از بنگال صادق از دکن
ننگِ ملّت، ننگِ دیں، ننگِ وطن
بدقسمتی سے شریف خاندان کی تاریخ مذکورہ شعر کی گونج مختلف ادوار میں سنائی دیتی رہی ہے۔ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی نے اپنی تصنیف ’’اسپائی کرونیکلز‘‘ میں لکھا ہے کہ میاں نواز شریف کے برادرِ خورد اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ راجا امریندر سنگھ کے ساتھ پاکستانی پنجاب اور بھارتی پنجاب کو ایک کرنے کے منصوبے پر بات چیت کررہے تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ یہ ’’نیک کام‘‘ تنہا نہیں کررہے ہوں گے بلکہ انہیں اس کام کی ہدایت میاں نواز شریف نے دی ہوگی۔ جنرل اسد درانی کی کتاب کو شائع ہوئے کئی سال ہوگئے مگر شریف خاندان نے آج تک جنرل اسد درانی کی کتاب کے شرمناک اور ہولناک مندرجات کی تردید نہیں کی۔ اس کی دو ہی وجوہ ہوں گی۔ ایک یہ کہ جنرل اسد درانی کا بیان درست ہے۔ دوسری وجہ یہ ہوگی کہ شریف خاندان ’’گریٹر پنجاب‘‘ کے منصوبے کے سلسلے میں لب کشائی کرے گا تو جو بات اب تک چند ہزار لوگوں کے علم میں ہے وہ کروڑوں لوگوں کے علم میں آجائے گی۔ پوری قوم جان جائے گی کہ شریف خاندان پاکستان کو توڑنے کے منصوبے پر کام کررہا تھا۔ آئیے اقبال کا شعر پھر پڑھ لیں۔
جعفر از بنگال صادق از دکن
ننگِ ملّت، ننگِ دیں، ننگِ وطن
میاں نواز شریف کی ’’بھارت پرستی‘‘ بلکہ ’’بھارت پوجا‘‘ راز نہیں۔ بھارت کے سابق وزیراعظم اندر کمار گجرال نے ایک بار ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ میاں نواز شریف ان سے گفتگو کے اتنے شائق تھے کہ وہ رات بارہ بجے کے بعد اندر کمار گجرال کی خواب گاہ میں فون کردیتے تھے اور تادیر گفتگو کرتے رہتے تھے۔ بھارت پاکستان کا ازلی و ابدی دشمن ہے، وہ آدھا پاکستان توڑ چکا اور بچے کھچے پاکستان کو ہڑپ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایسے ملک کے وزیراعظم کے جوتے چاٹنا میاں نواز شریف کیا کسی پاکستانی کو زیب نہیں دیتا۔ مگر میاں نواز شریف عرصے تک یہ ناپسندیدہ کام کرتے رہے۔ مودی صرف پاکستان دشمن نہیں، وہ اسلام دشمن ہے، مسلمان دشمن ہے۔ مگر مودی نے میاں نواز شریف کو اپنی حلف برداری میں بلایا تو میاں نواز شریف دم ہلاتے ہوئے دہلی پہنچے اور مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ حالاں کہ انہیں ریاستی اداروں نے بہت سمجھایا کہ وہ بھارت نہ جائیں اور خود کو مودی کا ’’درباری‘‘ ثابت نہ کریں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں صرف میاں نواز شریف اور ان کا خاندان ہی ننگِ ملت، ننگِ دیں اور ننگِ وطن نہیں ہے۔ جنرل ایوب نے 1958ء میں مارشل لا لگایا مگر امریکا کی خفیہ دستاویزات کے مطابق وہ 1954ء سے امریکا کے ساتھ خفیہ تعلقات استوار کیے ہوئے تھے۔
وہ امریکا کو پاکستان کی سول قیادت کے خلاف بھڑکارہے تھے۔ وہ سول قیادت کو نااہل اور ملک کو تباہ کردینے والی قرار دے رہے تھے۔ وہ ایسا اس لیے کررہے تھے تا کہ وہ مارشل لا لگائیں تو امریکا ان کی پشت پر موجود ہو۔ جنرل ایوب کے زمانے کی سول قیادت یقینا نااہل ہوگی اور وہ یقینا ملک کو تباہ کررہی ہوگی مگر جنرل ایوب یہ بات امریکا کو کیوں بتارہے تھے؟ کیا امریکا جنرل ایوب کا چاچا یا ماما لگتا تھا؟ کیا امریکا جنرل ایوب ان کا ’’آقا‘‘ تھا؟ کیا جنرل ایوب امریکا کے ’’غلام‘‘ تھے؟ جنرل ایوب کو مارشل لا لگانا تھا تو لگا دیتے مگر انہیں اپنے پوتڑے امریکا کے آنگن میں دھونے کیا کی ضرورت تھی؟ جنرل ایوب کی امریکا پرستی مذاق نہیں تھی۔ یہ امریکا پرستی رفتہ رفتہ خود جنرل ایوب کے اعصاب پر سوار ہوگئی۔ انہیں لگنے لگا کہ پوری قوم انہیں امریکا کا ادنیٰ غلام سمجھتی ہے۔ چناں چہ انہوں نے ایک کتاب لکھوائی ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘۔ اس کتاب میں جنرل ایوب نے تاثر دیا کہ وہ امریکا کے دوست ہیں امریکا کے غلام نہیں۔ مگر ظفر اقبال نے کہا ہے۔
کہیں چھپائے سے چھپتی ہے بے حسی دل کی
ہزار کہتا پھرے مست ہے قلندر ہے
جنرل یحییٰ کے زمانے میں پاکستان دولخت ہوا، چناں چہ حمود الرحمن کمیشن نے جن اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے کورٹ مارشل کی سفارش کی ان میں جنرل یحییٰ بھی شامل تھے۔ مگر جنرل یحییٰ کا بال بھی بیکا نہ کیا جاسکا۔ وہ شان سے جیسے اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے ایک ممتاز صحافی نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ جنرل یحییٰ کے خلاف کچھ ہوتا تو امریکا ناراض ہوجاتا۔ جنرل یحییٰ نے امریکا اور چین کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ چناں چہ وہ امریکا کے لیے بہت اہم تھے۔ آئیے اقبال کے شعر کو پھر دہرالیں۔
جعفر از بنگال صادق از دکن
ننگِ ملّت، ننگِ دیں، ننگِ وطن
یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ہندوستان میں کھڑے ہو کر صاف کہا کہ اگر وہ 1947ء میں ہوتے تو ہرگز پاکستان کے حق میں ووٹ نہ دیتے۔ الطاف حسین لندن میں بیٹھ کر 25 سال تک کراچی میں فساد برپا کیے رہے مگر کسی جرنیل نے ان کی سیاست پر خط ِ تنسیخ نہ پھیرا مگر الطاف حسین نے براہ راست جرنیلوں کو گالیاں دینی شروع کیں تو صرف ایک گھنٹہ میں الطاف حسین کا سیاسی کیریئر ختم ہوگیا۔ اقبال کا شعر واقعتاً بے مثال ہے۔
جعفر از بنگال صادق از دکن
ننگِ ملّت، ننگِ دیں، ننگِ وطن